رسائی کے لنکس

سی پیک کے مغربی روٹ کو ملانے کے لئے تقر یبا 450کلو میٹر سڑک کی تعمیر کا آغاز بُدھ کو کیا گیا جو نیشنل ہائی سے ملانے کے بعد گوادر اور جنوبی اضلاع کے درمیان رابطے کا ایک اہم ذریعہ بنے گا ۔

ستارکاکٹر

پاکستان کے وزیر اعظم نوازشریف نے بدھ کے روز بلوچستان کے علاقے بال کھتر میں ہوشاب سے سوراب تک ایک نئی سڑک کا افتتاح کیا۔

پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی راہداری کے مختلف منصوبوں پر کام کی رفتار میں تیز ی آرہی ہے۔ سی پیک کے مغربی روٹ کو ملانے کے لئے تقر یبا 450کلو میٹر سڑک کی تعمیر کا آغاز بُدھ کو کیا گیا جو نیشنل ہائی سے ملانے کے بعد گوادر اور جنوبی اضلاع کے درمیان رابطے کا ایک اہم ذریعہ بنے گا ۔

بلوچستان کے ضلع تر بت کے علاقے با ل کھتر میں ہو شاب سے سُوراب تک نئے سڑک کا افتتاح کرنے کے موقع پر ایک تقریب سے خطاب کر تے ہوئے وزیر اعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ آگے چل کر یہ سڑک افغانستان اور وسطی ایشیا تک جائے گی اور اس کی تعمیر سے خطے میں خوشحالی آئے گی، ۔

انہوں نے بتایا کہ اس سڑک کی تعمیر سے گوادر کی بندرگاہ نیشنل ہائی وے کے ساتھ جوڑ جائے گی۔ یہ گوادر سے افغانستان اور سینڑل ایشیا تک سب سے کم فاصلے کا راستہ ہوگا۔ یہ سڑک شمال اور جنوب کے رابطے کا ایک انتہائی مو ثر ذریعہ ہوگی۔ یہ سی پیک کی مغر بی راہداری کا اہم حصہ ہو گی، کہنے کو یہ سڑک ہے لیکن دراصل اپنے ساتھ تر قی کے بہت مواقع اور إمكانات سمیٹے ہوئے ہے۔

گوادر کی بندرگاہ کو پاکستان اور چین کے درمیان اربوں ڈالر مالیت کے اقتصادی تعاون کے منصوبوں میں مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ چین سڑکوں، ریل، مواصلات اور توانائی کے منصوبوں کے ایک نیٹ ورک پر پاکستان میں 46 ارب ڈالر صرف کررہا ہے۔ جس سے چین کے مغربی علاقے سنکیانگ کو بحیرہ عرب پر واقع گہرے پانیوں تک رسائی حاصل جائے گی۔

ایک روز قبل پاکستان کے اعلیٰ سول اور فوجی عہدے داروں اور چینی سفارت کاروں نے گوادر میں پاکستان نیوی کے زیر اہتمام قائم کی جانے والی’ ٹاسک فورس 88‘کا افتتاح کیا۔

نئی فورس گوادر کی بندرگاہ کی سیکیورٹی اور سی پیک سے منسلک پانیوں کی نگہبانی اور دیگر امور سرا نجام دے گی۔

اس سے قبل پاک فوج کی طرف سے چینی کارکنوں اور سی پیک کے تحت بنائے جانے والے زمینی راستوں کے تحفظ کے لیے 20 ہزار افراد پر مشتمل اسپیشل سیکیورٹی ڈویژن بھی قائم کیا گیا ہے۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG