رسائی کے لنکس

سلمان بٹ، عامر اور آصف ٹیم سے باہر


سلمان بٹ، عامر اور آصف ٹیم سے باہر

سلمان بٹ، عامر اور آصف ٹیم سے باہر

پاکستانی ہائی کمشنر نے بتایا کہ بٹ، عامر اور آصف نے درخواست کی ہے کہ اُنھیں قومی ٹیم میں شامل نہ کیاجائے ، کیوں کہ اُن پر لگائے گئے سنگین الزامات نے انھیں ذہنی اذیت میں مبتلا کر رکھا ہے جس کے باعث وہ قومی ٹیم کے لیے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کرسکیں گے۔

پاکستان نے مبینہ طور پر سٹے بازی میں ملوث قومی ٹیم کے تین کھلاڑیوں، کپتان سلمان بٹ، محمد عامر اور محمد آصف کو انگلینڈ کے خلاف سیریز کے بقیہ میچ نہ کھلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ تینوں کھلاڑیوں نے برطانیہ میں پاکستان کے ہائی کمشنر واجد شمس الحسن سے جمعرات کو لندن میں ملاقات کی۔

ملاقات کے بعد صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے پاکستانی ہائی کمشنر نے بتایا کہ بٹ، عامر اور آصف نے درخواست کی ہے کہ اُنھیں قومی ٹیم میں شامل نہ کیاجائے ، کیوں کہ اُن پر لگائے گئے سنگین الزامات نے انھیں ذہنی اذیت میں مبتلا کر رکھا ہے جس کے باعث وہ قومی ٹیم کے لیے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کرسکیں گے۔

واجد شمس الحسن نے کہا کہ اُنھیں یقین ہے کہ تینوں کھلاڑی بے گناہ ہیں لیکن سکاٹ لینڈ یارڈ کی تحقیقات مکمل ہونے تک وہ اس پر مزید کوئی تبصرہ نہیں کریں گے۔

اُنھوں نے کہا کہ پاکستانی ہائی کمیشن ضرورت پڑنے پر تینوں کھلاڑیوں کی ہر طرح کی قانونی مدد کرے گا اور اُن پر لگائے گئے الزامات کے خلاف عدالت میں اُن کا بھرپور دفاع کیا جائے گا۔ تاہم ہائی کمشنر نے واضح کیا کہ عامر، بٹ اور آصف کے پاسپورٹ سکاٹ لینڈ یارڈ کے قبضے میں نہیں بلکہ پاکستانی ٹیم مینجمنٹ کے پاس ہیں۔

اس سے قبل ٹیم کے منیجر یاور سعید نے جمعرات کو انگلینڈ کے شہر ٹانٹن میں صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے کہا تھا کہ تینوں کھلاڑیوں کو معطل نہیں کیا جارہا ہے لیکن وہ دو ٹونٹی ٹونٹی اور پانچ ایک روزہ میچوں میں حصہ نہیں لیں گے ۔ انھوں نے کہا کہ ایک روزہ میچوں کے لیے وہ پاکستان کرکٹ بورڈ سے تین نئے کھلاڑیوں کو انگلینڈ بھیجنے کی درخواست کریں گے۔

پاکستانی ٹیم کے منیجرنے کہا کہ بٹ ، عامر اور آصف کی ٹیم میں عدم شمولیت اُن کے لیے باعث پریشانی نہیں کیونکہ ”کئی عظیم کھلاڑی آئے اور چلے گئے لیکن کرکٹ کا کھیل جاری ہے“۔ اُنھوں نے کہا کہ ان تینوں کھلاڑیوں پر ”سپاٹ فکسنگ“ کے الزامات کی تحقیقات جاری ہیں اس لیے اس بارے میں وہ مزید کوئی تبصرہ نہیں کرسکتے۔

برطانوی اخبار ”نیوز آف دی ورلڈ“ نے گذشتہ اتوار کو انکشاف کیا تھا کہ محمد عامر اور محمد آصف نے سٹے بازوں سے پیسے وصول کر کے انگلینڈ کے خلاف چوتھے ٹیسٹ میچ کے پہلے روز دانستہ طور پر پہلے سے طے شدہ مواقعوں پر نو بالیں کرائیں۔

اس خبر کی اشاعت کے بعد برطانوی پولیس نے اس اسکینڈل کے ایک مبینہ مرکزی کردار مظہر مجید کو گرفتار کر لیا جب کہ پاکستانی ٹیم لندن کے جس ہوٹل میں قیام پذیر تھی وہاں کھلاڑیوں کے کمروں پر چھاپہ مار کر اُن سے پوچھ گچھ بھی کی گئی۔ جن کھلاڑیوں سے سوالات کیے گئے اُن میں قومی ٹیم کے کپتان سلمان بٹ، محمد عامر اور محمد آصف کے علاوہ وکٹ کیپر کامران اکمل بھی شامل تھے۔

پولیس نے مظہر مجید کو بغیر فردِ جرم عائد کیے ایک روز بعد رہا کردیا جب کہ بٹ، عامر اور آصف کے موبائل فون اب بھی برطانوی تحقیقاتی ادارے سکاٹ لینڈ یارڈ کے قبضے میں ہیں۔

”سپاٹ فکسنگ“ کے الزامات کی تحقیقات میں انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے انسداد بدعنوانی کے شعبے کی ایک ٹیم بھی شامل ہے۔ اس اسکینڈل کے منظر عام پر آنے کے بعد پاکستان میں کرکٹ کے شائقین اور سابقہ کھلاڑیوں کی طرف سے شدید ردعمل کا اظہار کیا جار ہاہے۔

پارلیمان کی قائمہ کمیٹی برائے کھیل نے سٹے بازی میں ملوث ہونے کے الزامات ثابت ہونے پر اُن کھلاڑیوں پر تاحیات پابندی لگانے کا مطالبہ کیا ہے۔

XS
SM
MD
LG