رسائی کے لنکس

پاکستانی کرکٹ شائقین کی آئی سی سی سے وابستہ امیدیں


پاکستانی کرکٹ شائقین کی آئی سی سی سے وابستہ امیدیں

پاکستانی کرکٹ شائقین کی آئی سی سی سے وابستہ امیدیں

پاکستان میں کرکٹ صرف ایک کھیل نہیں بلکہ جنون ہے ، اس بات کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ یہاں خوشیوں کے تہوار یعنی عیدوں وغیرہ کا موقع ہو، رمضان کی راتیں ہوں یا ہفتہ وار چھٹی کا دن ہر گلی ، محلے ، سڑک ، گاؤں ، قصبے اور شہر میں گھر کی گلی سے بڑے بڑے میدانوں تک کرکٹ ہی نظر آتی ہے ۔حد تو یہ ہے کہ ملک میں مہنگائی ، بے روزگاری ، امن و امان کی صورتحال ، قدرتی آفات اور دیگر بے پنا ہ مسائل بھی لوگوں کی رگ رگ میں بسی کرکٹ کی دلچسپی کو کم نہ کر سکے ۔

جب کسی بڑے ایونٹ میں قومی کرکٹ ٹیم میچ کھیل رہی ہو تو ملک کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں سناٹا چھا جاتا ہے ، سڑکوں سے ٹریفک غائب ہو جاتی ہے اور لوگ اپنے ٹی وی اسکرین پر تمام معمولات زندگی ترک کر کے میچ سے لطف اندوز ہو تے ہیں ۔ جذبات کا عالم یہ ہوتا ہے کہ قومی ہیروز کی کامیابی کے لئے نوافل، قرآن خوانی اور دعاؤں کا خصوصی اہتمام بھی کیا جاتا ہے ۔

ایسے میں اگر یہ خبر آ جائے کہ ان کا کوئی ہیرو ، کوئی آئیڈیل میچ فکسنگ یا اسپاٹ فکسنگ میں ملوث ہے تو اس کے رد عمل کا اندازہ لگانا کوئی مشکل کام نہیں ۔ پاکستانی شائقین پر بھی 30 اگست دو ہزار دس کوایک ایسی ہی خبر بجلی بن گری جب معلوم ہوا کہ محمد عامر ، محمد آصف اور سلمان بٹ سمیت دیگر کھلاڑی اسپاٹ فکسنگ میں ملوث ہیں اور اسکاٹ لینڈ یارڈ ان کھلاڑیوں سے تفتیش کر رہا ہے ۔

اس خبر نے جہاں کرکٹ کے ایوانوں میں ہلچل مچا دی وہیں پاکستانی کرکٹ پر بھی انتہائی گہرے اثرات مرتب کیے اور شائقین کو شدید مایوسی ہوئی ،مگر اس کے ساتھ ساتھ بہت سی نئی امیدوں اور امنگوں نے بھی جنم لیا ۔ پاکستانی قوم کے لئے اس موقع پر سب سے بڑی حوصلہ افزاء بات یہ تھی کہ یہ واقعہ انگلینڈ میں ہوا اور اسکاٹ لینڈ یارڈ جیسا ادارہ اس کی تحقیق کر رہا ہے ۔

اس واقعہ کے بعدایسے انکشافات بھی سامنے آئے کہ پی سی بی کھلاڑیوں کی اسپاٹ فکسنگ سے متعلق آگاہ تھا لیکن کوئی کارروائی نہیں کی گئی لیکن پی سی بی کی جانب سے اس کی تردید کی گئی ۔ خیرجہاں تک پی سی بی کی بات ہے تو ہو سکتا ہے کہ وہ بعض بدعنوانی میں ملوث کھلاڑیوں کو اپنی یا ملک کی ساکھ کی خاطر بچا بھی دیتا ۔اگر ماضی میں بھی دیکھا جائے تو پی سی بی نے کھلاڑیوں کے خلاف متعدد بار کارروائی کی لیکن ہر بار اس نے یوٹرن لے لیا ۔ جس کی واضح مثال گزشتہ سال مارچ میں کھلاڑیوں کو سزائیں دینا اور اس کے بعد معاف کر دینا ہے ۔

ماہرین کے مطابق حالیہ اسکینڈل بھی پی سی بی کے فیصلوں پر عمل درآمد نہ کرنے کی وجہ سے ہی پیش آیا ۔ لیکن شائد تعالیٰ پاکستانی شائقین کی دعائیں قبول کر لی گئی ہیں اور معاملہ اسکاٹ لینڈ یارڈ اور براہ راست انٹرنیشنل کرکٹ کونسل دیکھ رہی ہے۔ امید ہے کہ گزشتہ کئی عرصہ سے پاکستانی ٹیم کی پے در پے شکستوں کی وجوہات بھی سامنے آ جائیں گی جنہیں جاننے کے لئے ہردل بے چین ہے ۔

اسپاٹ فکسنگ سے متعلق آئی سی سی اور اسکاٹ لینڈ یارڈ کی تفتیش جاری ہے اور روزانہ اس حوالے سے مختلف طریقوں سے پیش رفت سامنے آ رہی ہے ۔ دوسری جانب ورلڈ اینٹی ڈوپنگ ایجنسی نے انگلینڈ کے خلاف تیسرے ون ڈے انٹرنیشنل سے قبل پاکستانی کھلاڑیوں کا ڈوپ ٹیسٹ لیا۔ قومی ٹیم کے منیجر یاور سعید نے بدھ کو تصدیق کی کہ واڈا کے ماہرین نے قومی ٹیم کے کپتان شاہد آفریدی، بیٹسمین محمد یوسف، کامران اکمل اور فاسٹ بولر شعیب اختر کا ڈوپ ٹیسٹ لیا۔

اس مرتبہ امید کی جا رہی ہے کہ تمام تحقیقاتی ادارے ان معاملات کی صاف و شفاف تحقیق کے بعد کسی نتیجے پر پہنچ جائیں گے اور اگر کوئی پاکستانی کھلاڑی اس میں ملوث پایا جاتا ہے اور اسے سزا دی جاتی ہے تو یقینایہ مستقبل کے لئے ایک خوش آئند عمل ہو گا تا کہ آئندہ کسی ہیرو میں اتنی ہمت نہ ہو کہ وہ قوم کے جذبات کو چند روپوں کی خاطر بیچ سکے ۔

اس معاملے میں پی سی بی کو بھی تحقیقاتی اداروں سے بھر پور تعاون کرنا چاہیے تاکہ آئندہ کوئی منفی رپورٹ شائع ہو تو قوم ان کے خلاف نہیں بلکہ ان کے حق میں آواز اٹھائے ۔

ٹینس جو ہمارے ملک میں ابھی تک زیادہ مقبول کھیل نہیں ، اگریو ایس اوپن کے مکسڈ ڈبلز اور مینز ڈبلز کے فائنل میں پہنچنے والے اعصام الحق قریشی کو وطن واپسی پر پھولوں سے لاد دیا جاسکتا ہے تو کرکٹ کے ہیروز کے لئے توپہلے سے ہی دل میں پیار کے ٹھاٹھیں مارتے سمندر موجود ہیں۔

XS
SM
MD
LG