رسائی کے لنکس

مصباح الحق کو ٹیم کی قیادت سے ہٹانے کا ارادہ نہیں: چیئرمین


شہریار خان (فائل فوٹو)

شہریار خان (فائل فوٹو)

شہریارخان کا کہنا تھا کہ بورڈ اس بات کا جائزہ لے رہا ہے کہ کہیں شاید آفریدی کا بیان بورڈ کی طرف سے متعین کردہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی تو نہیں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریارخان نے کہا ہے کہ مصباح الحق کو ٹیم کی قیادت سے ہٹانے کا کوئی ارادہ نہیں تاہم اُنھوں نے کپتانی سے متعلق شاہد آفریدی کے بیان کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیا۔

’’شاہد آفریدی سے ابھی میری ملاقات نہیں ہوئی ہے، آفریدی کو معلوم ہے کہ وہ کیا کہہ سکتا ہے اور کیا نہیں کہہ سکتا۔ میرا اپنا خیال ہے کہ اُس نے جو باتیں کی ہیں وہ غیر ذمہ دارانہ ہیں۔‘‘

پاکستانی آل راؤنڈر شاہد آفریدی نے آسٹریلیا کے خلاف تیسرے اور آخری ایک روزہ میچ کے اختتام پر کہا تھا کہ جو بھی کپتان ہو اُسے پتہ ہونا چاہیئے کہ اُسے 2015ء میں کرکٹ کے عالمی کپ میں کپتانی کرنی ہے۔

شہریارخان کا کہنا تھا کہ بورڈ اس بات کا جائزہ لے رہا ہے کہ کہیں شاید آفریدی کا بیان بورڈ کی طرف سے متعین کردہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی تو نہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ اگر ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہوئی تو اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کیا کارروائی کی جا سکتی ہے۔ تاہم کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نے واضح کیا کہ ابھی تک اس ضمن میں کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔

اُدھر آسٹریلیا کے خلاف متحدہ امارات میں کھیلے جانے والے دو ٹیسٹ میچوں کے لیے ٹیم میں اعلان کردہ 19 کھلاڑیوں میں پاکستان کرکٹ بورڈ نے سینیئر بلے باز یونس خان اور تجربہ کار افتتاحی بلے باز توفیق عمر کو بھی شامل کیا ہے۔

بورڈ کے مطابق شارجہ میں آسٹریلیا کے خلاف چار روزہ پریکٹس میچ کے بعد حتمی 15 کھلاڑیوں کا اعلان کیا جائے گا۔

بورڈ نے 19 رکنی اسکواڈ میں محمد حفیظ کو شامل کیا ہے، وہ متحدہ عرب امارات میں پریکٹس کے دوران زخمی ہو گئے تھے جس بنا پر ٹوئنٹی ٹوئنٹی اور ایک روزہ میچوں میں شرکت نا کر سکے۔

دریں اثناء مشکوک باؤلنگ ایکشن کی وجہ سے پابندی کا سامنا کرنے والے پاکستانی اسپنر سعید اجمل اپنے باؤلنگ ایکشن کا ٹیسٹ دینے کے لیے تیار ہیں۔

سابق اسپنر ثقلین مشتاق نے ان کا باؤلنگ ایکشن درست کرنے میں انھیں مدد اور رہنمائی فراہم کی ہے۔

کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریار خان کے مطابق ابتدائی ٹیسٹ اور جائزے میں اگر سعید اجمل پاس ہو جاتے ہیں تو پھر کرکٹ کی عالمی تنظیم سے ان کا معاملے کا جائزہ لینے کے لیے کہا جائے گا۔

XS
SM
MD
LG