رسائی کے لنکس

پاکستان کرکٹ بورڈ: سلیم ملک کی تاحیات پابندی پر غور


سلیم ملک (فائل فوٹو)

سلیم ملک (فائل فوٹو)

کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نجم سیٹھی نے کہا کہ سلیم نے ہم سے رابطہ کیا اور بتایا کہ انھیں عدالت نے بے قصور قرار دیا ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نجم سیٹھی نے کہا ہے کہ عدالتی تحقیقات اور اس کی سفارشات کی روشنی میں سابق کپتان سلیم ملک پر عائد تاحیات پابندی ختم کرنے کا جائزہ لیا جائے گا۔

سرکاری ٹی وی سے بات کرتے ہوئے نجم سیٹھی کا کہنا تھا کہ سلیم ملک نے انھیں اس ضمن میں کچھ دستاویزات ارسال کی ہیں جن کا جائزہ لیا جارہا ہے۔

"میں نے ان (سلیم ملک) سے کہا ہے کہ وہ آئندہ چند روز میں مجھ سے ملیں، ہم ان کے کیس کا جائزہ لینے کو تیار ہیں۔"

سلیم ملک پر 2000ء میں اس وقت کرکٹ کے کھیل پر کسی بھی طرح شرکت پر پابندی عائد کی گئی جب جنوبی افریقہ کے کپتان ہنسی کرونیے نے انکشاف کیا تھا کہ میچ فکسنگ میں ان کے علاوہ سلیم ملک اور بھارتی کپتان اظہر الدین بھی شامل تھے۔

ان دونوں کھلاڑیوں پر بھی تاحیات پابندی عائد کی گئی تھی۔ کرونیے 2002ء میں ہوائی جہاز کے ایک حادثے میں ہلاک ہوگئے تھے۔

سلیم ملک خود پر لگنے والے الزامات کی تردد کرتے رہے ہیں اور 2001ء میں لاہور ہائی کورٹ میں پابندی کے خلاف درخواست مسترد ہونے کے بعد انھوں نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ عدالت عظمیٰ نے یہ معاملہ ماتحت عدالت میں چلانے کی ہدایت کی تھی۔

سلیم ملک کے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ 2008ء میں ماتحت عدالت نے ان پر عائد پابندی کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔

51 سالہ سابق کپتان نے پاکستان کے لیے 103 ٹیسٹ اور 283 ایک روزہ بین الاقوامی میچز کھیلے ہیں۔

2012 ء میں انھوں نے پاکستانی ٹیم کے بیٹنگ کوچ کے عہدے کے لیے درخواست دی تھی جسے ان پر عائد پابندی کی وجہ سے مسترد کر دیا گیا تھا۔
XS
SM
MD
LG