رسائی کے لنکس

کوشش ہے بہتر انسان اور بہتر کھلاڑی بن کر سامنے آؤں: سلمان بٹ


سلمان بٹ (فائل فوٹو)

سلمان بٹ (فائل فوٹو)

پابندی ختم ہونے کے بعد تینوں کھلاڑیوں کی دوبارہ پاکستان کی نمائندگی کرنے کے امکانات پر کرکٹ کے حلقوں میں ملا جلا رجحان پایا جاتا ہے۔

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور اسپاٹ فکسنگ کے الزام میں پابندی کی سزا بھگتنے والے سلمان بٹ کا کہنا ہے کہ ان کی کوشش ہے کہ وہ ایک بہتر انسان اور بہتر کھلاڑی بن کر سامنے آئیں۔

کرکٹ کی بین الاقوامی تنظیم "آئی سی سی" کی طرف سے ان پر عائد پانچ سالہ پابندی یکم ستمبر کو ختم ہو رہی ہے اور بدھ کو ہی تنظیم نے انھیں کھیل میں شریک ہونے کی اجازت دے دی تھی۔

جمعرات کو لاہور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سلمان بٹ کا کہنا تھا کہ فی الوقت ان کی توجہ اپنی کارکردگی کو بہتر بنانا ہے اور اس کے لیے وہ ہر قسم کی کرکٹ کھیلنے کے لیے تیار ہیں۔

"میرا ہدف کرکٹ جو بھی ملے اس میں کارکردگی دکھانا ہے۔ یہ ٹیم پر منحصر ہے کہ وہ کیسا (پرفام) کر رہی ہے یا سلیکٹرز کو کس کی ضرورت ہے۔ ٹیم کو ضرورت ہے یا نہیں، میری کوشش تو ہوگی کہ اپنے آپ کو فٹ رکھا جائے اور پرفامنس دی جائے باقی سلیکشن کی مرضی سے ہے اور جو سلیکٹ کرنے والے ہیں وہ بہتر فیصلہ کر سکتے ہیں۔"

سلمان بٹ اور محمد آصف کو نوجوان فاسٹ باؤلر محمد عامر کے ہمراہ اگست 2010ء میں انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ میچ میں اسپاٹ فکسنگ کا الزام عائد کیے جانے کے بعد پابندی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

محمد عامر پر عائد پابندی رواں سال کے اوائل میں ختم ہو چکی ہے اور وہ مقامی کرکٹ میں حصہ بھی لے رہے ہیں۔

ان تینوں کھلاڑیوں کی دوبارہ پاکستان کی نمائندگی کرنے کے امکانات پر کرکٹ کے حلقوں میں ملا جلا رجحان پایا جاتا ہے۔

سلمان بٹ، محمد آصف اور محمد عامر (فائل فوٹو)

سلمان بٹ، محمد آصف اور محمد عامر (فائل فوٹو)

بعض سینیئر کھلاڑیوں اور مبصرین کا خیال ہے کہ چونکہ یہ لوگ اپنے کیے کی سزا بھگت چکے ہیں لہذا انھیں موقع دیے جانے میں کوئی حرج نہیں۔

کرکٹ ٹیم کے سابق چیف سلیکٹر اقبال قاسم کہتے ہیں کہ اگر یہ کھلاڑی اپنی کارکردگی ثابت کریں تو انھیں ضرور موقع دیا جانا چاہیے۔

"انھوں نے سزا پوری کر لی ہے تو انھیں کھلائیں، میں یہ نہیں کہتا کہ انھیں غیر ضروری فائدہ دیں اگر یہ اپنی فٹنس اور پرفامنس دکھاتے ہیں تو انھیں حق ہے کہ وہ ضرور کھیلیں۔"

لیکن کرکٹ کے حلقوں ہی سے بعض ایسی آوازیں بھی آ رہی ہیں کہ بدعنوانی میں ملوث رہنے والے کھلاڑیوں کو ٹیم میں شامل کرنے سے دیگر کھلاڑیوں پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق سربراہ توقیر ضیا کہتے ہیں کہ ان لڑکوں سے کرکٹ کے لیے کوئی اور کام لے لیا جائے لیکن انھیں ٹیم میں شامل کرنا درست نہیں ہوگا۔

"شاید انھیں میری یہ بات اچھی نہ لگے لیکن دیکھیں آپ بہت سارے لوگوں کا حق ماریں گے، یہ تو وہی بات ہے کہ آپ خوب پیسے کمائیں اور جرم کریں پھر پانچ سال سزا بھگت کر دوبارہ واپس آجائیں۔ تو یہ ٹھیک بات نہیں"

حالیہ مہینوں میں ایسی خبریں بھی منظر عام پر آئی تھیں کہ پاکستانی ٹیم میں شامل بعض کھلاڑیوں کی طرف سے بھی ان سابق کھلاڑیوں کو ٹیم میں شامل کیے جانے کے امکان پر تحفظات کا اظہار کیا گیا۔

XS
SM
MD
LG