رسائی کے لنکس

پی سی بی کے چیئرمین اعجاز بٹ مشکلات کا شکار


پی سی بی کے چیئرمین اعجاز بٹ مشکلات کا شکار

پی سی بی کے چیئرمین اعجاز بٹ مشکلات کا شکار

اگریہ کہا جائے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ انتہائی نازک دور سے گزر رہا ہے توشائد بے جا نہ ہو گا ۔ ایک جانب تو آئی سی سی نے پی سی بی کو معاملات درست کرنے کیلئے تیس دن کی مہلت دے رکھی ہے تو دوسری جانب پی سی بی کے اندرونی معاملات اور چیئرمین پی سی بی اعجازبٹ کی مخالفت دن بدن زور پکڑ رہی ہے ۔

دوہزار آٹھ میں صدارت کا منصب سنبھالنے کے بعد صدر آصف علی زرداری نے8 ٹیسٹ میچوں میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے اعجاز بٹ کو سات اکتوبر دو ہزار آٹھ کو چیئرمین پی سی بی کی ذمہ داریاں سونپیں۔اعجاز بٹ پاکستان کرکٹ بورڈ کا سیکرٹری رہنے کے ساتھ ساتھ لاہور کرکٹ ایسوسی ایشن کے چیئرمین بھی رہے اور نسیم اشرف کے دور میں وہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی گورننگ باڈی کی سینئر ترین رکن بھی تھے۔

ماضی کی طرح اعجاز بٹ کیلئے بھی یہ منصب پھولوں کی سیج ثابت نہ ہوئی اورآغاز ہی سے انہیں نہ ختم ہونے والی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک جانب تو انہیں آئی سی ایل میں شمولیت اختیار کرنے والے کھلاڑیوں کا مسئلہ حل کرنا تھا تو دوسری جانب لاہور میں سری لنکن ٹیم پر حملے کے بعد غیر ملکی ٹیموں کیلئے پاکستان میں کرکٹ کے دروازے بند ہو چکے تھے ۔

ان کے دور میں قومی ٹیم کی قیادت میں پانچ بار تبدیلی کی گئی ، یونس خان کی جگہ شعیب ملک ، پھر محمد یوسف ، شاہد آفریدی ، سلمان بٹ اور آؤٹ آف فارم مصباح الحق کو ٹیسٹ کرکٹ کا کپتان مقرر کر دیا گیا ۔ دورہ انگلینڈ پر خراب کارکردگی کے باعث ڈراپ ہونے والے مصباح الحق کودورہ جنوبی افریقہ میں کپتان مقرر کرنے پر بھی اعجاز بٹ کو کافی تنقید کا سامنا ہے ۔

اس سے قبل رواں سال کے آغاز پر دورہ آسٹریلیا کے موقع پر قومی ٹیم کے کرکٹرز کو ڈسپلن کی خلاف ورزی پر سزائیں دی گئیں تاہم بعدمیں سب کو ایک ، ایک کر کے معاف کر دیا گیا ۔ یونس خان سب سے آخری کھلاڑی تھے جنہیں معاف کیا گیا انہیں دس ماہ تک بین الاقوامی کرکٹ سے دور رکھا گیا اور پھر اچانک اعجاز بٹ سے ایک ملاقات کے بعد دورہ جنوبی افریقہ کیلئے منتخب کر لیا گیا، کرکٹ کے بعض حلقے اس پر بھی خوش نہیں دکھائی دیتے ۔

اس کے علاوہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے انہیں کرکٹ کیلئے کینسر قرار دیا اور استعفیٰ کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں ۔ اعجاز بٹ کو صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ بیرون ملک بھی کافی تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔یکم جولائی دو ہزار دس کو آئی سی سی کے سابق چیف ایگزیکٹو آفیسر میلیکم اسپیڈ نے اپنے ایک بیان میں مسخرہ قرار دیا تاہم پی سی بی نے اس پر بھی کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا گیا۔

اعجاز بٹ کا اصل امتحان اس وقت شروع ہوا جب تیس اگست کو برطانیہ کے ایک اخبار نے الزام عائد کیا کہ پاکستان کے تین کرکٹر سلمان بٹ ، محمد عامر اورمحمد آصف میچ فکسنگ میں ملوث ہیں ۔ اس کے بعد فوری طور پر اعجازبٹ کا کوئی موقف سامنے نہ آ سکا اور آئی سی سی نے تینوں کرکٹرز پر پابندی لگا دی ۔

الزامات کے اکیس دن بعد اکیس ستمبر کو اعجاز بٹ نے یہ کہہ کر کرکٹ کے ایوانوں میں ہلچل مچا دی کہ ان کے پاس کے پاس اطلاعات ہیں کہ بکیوں کے حلقے میں یہ باتیں گردش کررہی ہیں کہ اوول میں ہونے والے تیسرے ون ڈے میں انگلینڈ کی ٹیم میچ فکسنگ میں ملوث ہے۔

اس بیان کے بعد انگلینڈ کرکٹ بورڈ اور پاکستان کرکٹ بورڈ آمنے سامنے آ گئے اور ایک دوسرے پر الزامات کا سلسلہ جاری ہو گیا ۔ انگلینڈ کی جانب سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے میچ فکسنگ میں ملوث ہونے کے شواہد پیش کریں یا پھر عدالتی کارروائی کیلئے تیار ہو جائیں ۔ انگلینڈ کی جانب سے اتنے شدید ردعمل کے بعد بیان کے صرف نو دن بعد تیس ستمبر کو انگلینڈ سے معاف مانگ لی ۔پاکستان میں شائقین کا کہنا ہے کہ اگر اعجاز بٹ نے معافی ہی مانگنی تھی تو ایسا بیان کیوں دیا تھا ؟

اس تمام ترصورتحال میں ایک جانب تو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی اور ملک میں کرکٹ کے مختلف حلقے اعجاز بٹ سے مستعفی ہونے کے مطالبات کر رہے ہیں تو دوسری جانب آئی سی سی بھی ان کیلئے درد سر بن چکی ہے ۔تیرہ اکتوبر کو دوہزار دس کو آئی سی سی نے پاکستان کرکٹ بورڈ کو تیس دن کی مہلت دے دی کہ اس دوران وہ اپنے اندرونی اور بیرونی معاملات درست کرے اور کرپشن کا بھی خاتمہ کرے ۔

اس کے ساتھ ساتھ انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کے چیئرمین گلس کلارک کی سربراہی میں زمبابوے کرکٹ کے چیئرمین پیٹر چنگوکا ، سابق سری لنکن کپتان رنجن مدوگلے، سابق انگلش کپتان مائیک بیئرلے، سابق پاکستانی کپتان رمیز راجہ اورآئی سی سی کے جنرل منیجر ڈیو رچرڈسن پر مشتمل ایک ٹاسک ٹیم بھی تشکیل دے دی گئی جس کا مقصد پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی میں مدد فراہم کرنا تھا۔

آئی سی سی کے اس الٹی میٹم کے بعد اعجاز بٹ سب کچھ بھول چکے ہیں اور ہر وقت کام ، کام اور صرف کام کو اپنا منشور بنا لیا ہے ۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر اعجاز بٹ یہی اقدامات پہلے کرتے تو شاید پاکستان کرکٹ کو یہ دن دیکھنے کو نہ ملتے ۔ اعجاز بٹ کے متحرک ہونے کی ایک مثال یہ ہے کہ انہوں نے گزشتہ اتوار کوسرکاری چھٹی بھی پی سی بی ہیڈ کوارٹر قذافی اسٹیڈیم میں گزاری اور مختلف حکام سے ملاقاتیں کرتے رہے ۔

اس کے علاوہ الزامات کا شکار پاکستانی کھلاڑی سلمان بٹ، محمد عامر اور محمد آصف پر سے پاکستان کرکٹ بورڈ نے ہاتھ اٹھالیا ہے۔ پی سی بی نے تینوں کھلاڑیوں کے پاسپورٹ واپس کردیے ہیں اور انہیں کہا گیا ہے کہ وہ قطر کے ویزے خود لگوائیں اور وکلا کو فیس بھی خود ادا کریں۔ کھلاڑیوں نے شکوہ کیا ہے کہ بورڈ نے تعاون کا وعدہ کیا تھا اب ہماری کئی دوروں کی میچ فیس اور انعامی رقوم بھی روک لی گئی ہیں۔ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ، ایشیا کپ اور انگلینڈ کے دورے کی میچ فیس بھی ادا نہیں کی گئی۔دوسری جانب شائقین کا کہنا ہے کہ پی سی بی کا یہ فیصلہ بھی کرکٹرز کے ساتھ نا انصافی ہے کیونکہ ابھی تک الزامات ثابت نہیں ہوئے ۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق آئی سی سی کی ہدایت پر چیئرمین پی سی بی اعجاز بٹ کی سربراہی میں بورڈ کی سات رکنی بھی قائم کر دی گئی ہے جسے کھلاڑیوں ، آفیشلز اور بورڈ ملازمین میں سے مشکوک افراد کو فارغ کرنے کا اختیار ہو گا اور اس کے لئے شوکاز نوٹس کی بھی ضرورت نہیں ہو گی ۔ کمیٹی میں چیئرمین پی سی بی اعجاز بٹ اور چیف آپریٹنگ آفیسر وسیم باری سمیت بورڈ کے اعلیٰ عہدیدار شامل ہیں۔اس کے علاوہ جمعہ کی شب وہ پاکستان کرکٹ ٹیم کو اہم بریفنگ بھی دیں گے جس کے بعد وہ ہفتہ کو ابو ظہبی روانہ ہو گی۔

دوسری جانب ذرائع ابلاغ کا دعویٰ ہے کہ ہفتہ کو چیئرمین پی سی بی اعجاز بٹ آئی سی سی حکام سے ٹیلی فونک کانفرنس کریں گے جس میں آئی سی سی کی ہدایت کے بعد سے اب تک پی سی بی کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات سے آئی سی سی کو آگاہ کیا جائے گا ۔ شائقین کرکٹ کے لئے یہ بات حوصلہ افزاء ہے کہ بالآخر آئی سی سی نے پی سی بی حکام کو جگا ہی دیا ہے اور امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ ان اقدامات سے پاکستان میں کرکٹ پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے ۔

اعجاز بٹ پی سی بی کے 25ویں چیئرمین

1948ء سے 2010تک پی سی بی کے 25 چیئرمین تبدیل ہوچکے ہیں۔ عجب اتفاق ہے کہ ماضی میں بھی یہ ادارہ مختلف شخصیات کے درمیان تنازعات کا شکار رہا ۔ اور یہی وجہ ہے کہ اعجاز بٹ سے قبل زیادہ تر چیئرمین ایک سال سے بھی کم عرصہ تک اس عہدہ پر فائز رہ سکے ۔

1948 میں کرکٹ بورڈ کے قیام کے بعد خان افتخار حسین خان کو پہلا چیئرمین مقرر کیا گیا جو 1950 تک اس منصب پر فائز رہے ۔ان کے بعدمارچ 1951 سے ستمبر 1951تک چوہدری نظیر احمد ،ستمبر 1951 سے مئی 1953 تک عبدالستار پیرزادہ،مئی 1953 سے جولائی 1954 تک میاں امین الدین ،جولائی 1954 سے ستمبر 1955تک محمد علی بوگرہ ،ستمبر 1955 سے دسمبر 1958 تک میجر جنرل سکندر مرزا ،دسمبر 1958 سے جون 1963 تک فیلڈ مارشل محمد ایوب خان ،جون 1963 سے مئی 1969 تک سید فدا حسین ،مئی 1969 سے مئی 1972 تک آئی اے خان ، مئی 1972سے اپریل 1977 تک عبدالحفیظ کردار، عبدالحفیظ کردار دوسرے چیئرمین تھے جو سب سے زیادہ اس عہدے پر فائز رہے ۔

اپریل 1977 سے جون 1978 تک چوہدری محمد حسین ، جون 1978 سے فروری 1980 تک لیفٹیننٹ جنرل کے ایم اظہر ، فروری 1980 سے فروری 1984 ائیر مارشل نور خان ،فروری 1984 سے فروری 1988 لیفٹنٹ جنرل ( ر) غلام صفدر بٹ،فروری 1988 سے ستمبر 1992 تک لیفٹیننٹ جنرل ( ر) زاہد علی اکبر خان،اکتوبر 1992 سے جنوری 1994 تک جسٹس ڈاکٹر نسیم حسن شاہ ، جنوری 1994 سے مارچ 1995 تک جاوید برقی ۔ مارچ 1995 سے جنوری 1998 تک سید ذوالفقار علی شاہ بخاری چیئرمین کرکٹ بورڈ رہے ۔

جنوری 1998 میں خالد محمود کو یہ ذمہ داری سونپی گئی ۔ 1999 میں تین چیئرمین تبدیل کیے گئے ۔ خالد محمودکی جگہ مجیب الرحمن آئے لیکن چند ماہ بعد ڈاکٹر الطاف کو ان کی جگہ تعینات کر دیا گیا ۔پھر جولائی 1999 میں لیفٹیننٹ جنرل توقیر ضیاء اس منصب پر فائز ہوئے جو دسمبر دو ہزار تین تک برقرار رہے ۔ دسمبر 2003 سے اکتوبر 2006 تک شہریار محمد خان ،اکتوبر 2006 سے اگست 2008 تک ڈاکٹر نسیم اشرف نے چیئرمین کرکٹ بورڈ کی ذمہ داریاں نبھائیں ۔

XS
SM
MD
LG