رسائی کے لنکس

معطل پاکستانی کھلاڑیوں کے کیس کی سماعت کے لئے ٹربیونل تشکیل

  • عمیر ریاض

معطل پاکستانی کھلاڑیوں کے کیس کی سماعت کے لئے ٹربیونل تشکیل

معطل پاکستانی کھلاڑیوں کے کیس کی سماعت کے لئے ٹربیونل تشکیل

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے میچ فکسنگ کے الزام میں عارضی طور پر معطل کیے جانے والے تین پاکستانی کھلاڑیوں کے کیسز کی سماعتکے لئے ٹریبیونل کے قیام کا اعلان کردیا ہے۔

آئی سی سی کی جانب سے قائم کردہ ٹریبیونل پاکستانی کھلاڑیوں سلمان بٹ، محمد آصف اور محمد عامر کی جانب سے آئی سی سی کے اینٹی کرپشن کوڈ کی خلاف ورزی کے الزامات کا جائزہ لے کر اپنا فیصلہ سنائے گا۔
رواں سال اگست میں پاکستا ن کے دورہ انگلینڈ کے دوران کھیلے گئے تیسرے ٹیسٹ میچ میں اسپاٹ فکسنگ کے الزامات سامنے آنے کے بعد آئی سی سی نے تینوں کھلاڑیوں پر تحقیقات مکمل ہونے تک ہر قسم کی کرکٹ کھیلنے پر پابندی عائد کردی تھی۔ سلمان بٹ اور محمد عامر کی جانب سے اپنی معطلی کے خلاف دائر اپیلیں آئی سی سی کے کوڈ آف کنڈکٹ کمیشن نے گزشتہ مہینے مسترد کردی تھیں جس کے بعد دونوں کھلاڑیوں نے فیصلے کو جانبدارانہ اور تعصب پر مبنی قرار دیتے ہوئے کرکٹ کی عالمی تنظیم کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

جمعہ کے روز آئی سی سی کی جانب سے جاری ہونے والے ایک اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ تنظیم کی جانب سے تشکیل کردہ "آزاد انسدادِ کرپشن ٹریبیونل" کے سربراہ مائیکل بیلوف (برطانیہ) ہوں گے جبکہ اس کے ارکان میں جسٹس ایلبی ساشس (جنوبی افریقہ) اور شرد راؤ (کینیا) شامل ہیں۔ ٹریبیونل کی کاروائی 6 سے 11 جنوری تک دوحہ میں ہوگی۔
اسپاٹ فکسنگ کے الزامات ایک برطانوی اخبا "نیوز آف دی ورلڈ" کی تحقیقاتی رپورٹ میں سامنے آئے تھے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پاکستانی کھلاڑیوں نے ایک سٹے باز سے رقم وصول کرکے اس کے بیان کردہ طریقے کے مطابق بالنگ کرائی تھی تاکہ اسے اگلا میچ فکس کرنے پر آمادہ کیا جاسکے۔

آئی سی سی کے مطابق ٹریبیونل کھلاڑیوں کے خلاف موجود شواہد کی جانچ پڑتال اور ان کے وکلاء کے بیانات سننے کے بعد فیصلہ کرے گا کہ آیا مذکورہ کھلاڑی اسپاٹ فکسنگ میں ملوث تھے یا نہیں۔ تینوں کھلاڑی الزامات کی صداقت کا انکار کرتے آئے ہیں۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی نے دعویٰ کیا ہے کہ ٹریبیونل کی سماعت کا مقام آئی سی سی کے ہیڈ کوارٹرز واقع دبئی کے بجائے دوحہ اس لیے رکھا گیا ہے کہ محمد آصف متحدہ عرب امارات میں اپنے داخلے پر پابندی کے باعث دبئی نہیں آسکتے۔ محمد آصف کو امارات کے سیکورٹی حکام کی جانب سے 2008 میں نشہ آور اشیاء رکھنے کے الزام میں دبئی سے ڈی پورٹ کردیا گیا تھا اور آئندہ ان کے ملک میں داخلے پر پابندی عائد کردی گئی تھی۔

XS
SM
MD
LG