رسائی کے لنکس

پاکستانی ٹیم کی مبینہ میچ فکسنگ پر شائقینِ کرکٹ کا ردعمل

  • عمیر ریاض

حکومتِ پاکستان کی جانب سے ایسا کوئی اعلان کیا گیاہے اور نہ ہی سرکاری عمارتوں پہ لہراتا قومی پرچم ہی سرنگوں ہے۔ تاہم اس کے باوجود پاکستانی من حیث القوم گزشتہ دو روز سے قومی سوگ منا رہےہیں۔ لیکن اس بار یہ سوگ کسی قدرتی آفت پہ ہے نہ کسی حادثے کا شکار ہونے والوں کے غم میں۔ بلکہ یہ سوگ ہے قوم کی ان امیدوں، آرزؤں اور امنگوں کا جو اس کے ہیروز نے لارڈز کے میدان میں دفن کردیں!!

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے چند کھلاڑیوں کے انگلینڈ میں مبینہ طور پر میچ فکسنگ میں ملوث ہونے کی خبر کیا بریک ہوئی، ملک میں گویا ایک نیا بحران کھڑا ہوگیا۔ ہرکوئی جھاگ اڑاتا، آستینیں چڑھائے پاکستانی کرکٹ ٹیم کے لتّے لیتا نظر آتا ہے۔ اور کیوں نہ لے، کرکٹ گویا اس قوم کی رگوں میں دوڑتا ہے۔ قومی ٹیم میچ ہار جائے تو پوری قوم پہ پژمردگی چھا جاتی ہے اور ہر طرف سے "بک گئے" کے نعرے بلند ہونے لگتے ہیں۔ میدان سر کرلے تو گویا گلوں میں رنگ بھر جاتے ہیں، بادِ نوبہار چلنے لگتی ہے اور خزاں رسیدہ چمن میں بہار پوری آب و تاب سے اتر آتی ہے!! ہر سمت سے داد و تحسین کے ڈونگرے برستے ہیں، تعریفوں کے پل باندھے جاتے ہیں اور قوم اپنے کھلاڑیوں کے صدقے واری جاتی ہے۔

کبھی یہی کھلاڑی کسی بیرونِ ملک دورے سے قوم کے لیے ہیرو بن کے لوٹتے ہیں تو ہوائی اڈہ پہ ٹھٹ کے ٹھٹ استقبال اور ٹیم کے ارکان کو کاندھوں پہ اٹھا نے کے لیے جمع ہوجاتے ہیں۔ اور اگلے ہی میچ میں ہار گئے تو ایسے زیرو کہ شائقین کو کانوں کان خبر نہیں ہو پاتی کہ شکست خوردہ ٹیم کی فلائٹ ملک کے کس حصے میں کس شب لینڈ کرگئی۔

غم وغصے کا عالم

سو اس بار بھی غصہ بجا ہے اور عروج پہ ہے۔ نیوز بلیٹنز میں سیلاب دوسرے نمبر کی خبر ہے اور میچ فکسنگ ہیڈلائن بن کے اپنی تمام تر "قہر سامانیوں" کے ساتھ قوم کے اعصاب پہ برس رہی ہے۔ ٹی وی اسکرینز پہ سابق کھلاڑی اور تجزیہ کار چھائے ہوئے ہیں اور ہر کوئی سزا سنانے پہ تلا بیٹھا ہے۔ غم وغصہ ہے کہ تھمنے ہی میں نہیں آرہا۔ کرکٹ شائقین مظاہرے بھی کررہے ہیں اور بلّوں اور کٹس کو نذرِ آتش کرنے کے مناظر بھی قومی پریس میں رپورٹ ہورہے ہیں۔

لیکن ان قومی سوگ کی گھڑیوں میں کچھ منچلوں کی رگِ ظرافت پھڑک رہی ہے اور خوب پھڑک رہی ہے۔ اور انکے حسنِ بیان کا ذریعہ ہر ایسے موقع کی طرح اس بار بھی ارضِ پاکستان میں ابلاغ کا سب سے سستا ترین میڈیم بنا ہے۔ یعنی ایس ایم ایس۔ چلبلاتے اور برجستہ برقی پیغامات "قدرتی اور انسانی آفتوں" میں گھری اور "اس تازہ سانحے پہ غم کی تصویر" بنی اس قوم کے افراد کے لبوں پہ مسکراہٹ بکھیر رہے ہیں۔

سیالکوٹ حال ہی میں ہونے والے ایک اندوہ ناک سانحے کے باعث میڈیا میں چھایا ہوا ہے جہاں کی ایک نواحی بستی میں ایک ہجوم کے ہاتھوں دو بھائیوں کی المناک ہلاکت کا منظر تاحال قوم کی نگاہوں سے محو نہیں ہوا۔ ٹیم کے مبینہ طور پر بک جانے کی خبر کے بعد گردش کرنے والے ایک میسج میں کسی ظالم نے کرکٹ ٹیم کو یہ مژدہ سنایا ہے کہ "اب اہلیانِ سیالکوٹ اس کی وطن واپسی کے شدت سے منتظر ہیں"۔

فراز فرماتے ہیں۔۔۔

"فراز" سے ہر موبائل فون رکھنے والا پاکستانی بخوبی واقف ہے۔ یہ محترم پاکستانی تجزیہ نگاروں کی کھیپ کی وہ واحد شخصیت ہیں جو قومی و بین الاقوامی، یہا ں تک کے بعض اوقات نجی، ہر معاملے، ہر مسئلے اور ہر تنازعے پہ سب سے پہلے اپنی برجستہ رائے کا اظہار کرکے میلہ لوٹ لے جاتے ہیں۔ سیاست، معاشرت، معیشت، شخصیت، غرض فراز کو ہر میدان اور ہر شعبہء زندگی پہ کامل دسترس حاصل ہے۔ اختصار اور شاعرانہ لہجہ ان کے تبصرے کے خصوصی اجزاء ہیں جو صرف موبائل فونزپر ہی دستیاب ہوتا ہے۔ سو پاکستانی ٹیم کے ساتھ اتنا بڑا واقعہ ہوجائے اور فراز خاموش ہو، یہ ممکن نہیں۔ اس بار فرازفرماتے ہیں، "ہم نے تو پیسے سیلاب زدگان کی امداد کیلیے لیے تھے فراز، برطانیہ کی پولیس نے میچ فکسنگ کا الزام لگادیا"!

ایک اور ایس ایم ایس میں فراز نے کیا خوب نکتہ آفرینی کی ہے۔ ذرا ملاحظہ فرمائیں: "یہ کیسے پتا چلے گا کہ کھلاڑیوں نے میچ فکسنگ کیوں کی فراز؟؟ جب ابھی تک یہ نہیں پتا چلا کہ 'کس نے کہا تھا پیپسی پہ پانچ روپے کم کردو'"!! اس میسج کا پسِ منظر سمجھنے کے لیے آپ کو آج کل پاکستانی ٹی وی چینلز پہ چلنے والے ایک مشہور کولا برانڈ کا نیا کمرشل دیکھنا پڑے گا۔

دوسری جانب کچھ ستم ظریفوں نے پاکستانی ٹیم کے ارکان کی جانب سے میچ فکسنگ کرنے کی ذمہ داری تحریکِ طالبان سے قبول کرالی ہے اور طالبان کے اس اعترافی بیان کو وزیرِداخلہ رحمٰن ملک سے منسوب کیا ہے۔ ایک اور میسج میں ٹیم کے لیے "دس لاکھ 'کرسز' (اردو ترجمہ ذرا سخت ہے!)" کا تحفہ پیش کرنے کے لیے گنتی کرائی جارہی ہے اور وصول کرنے والے سے اس پیغام کو آگے بڑھانے اور "چین" نہ ٹوٹنے دینے کی دردناک اپیل کی گئی ہے۔

انٹرنیٹ کی دنیا

دوسری جانب پاکستان کی نوجوان "ٹیک سیوی" جنریشن بھی اپنے غم وغصے کا اظہار سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹس اور بلاگز پر خوب کر رہی ہے۔ اکثر تبصرے یوں تو مذمتی اور غم و غصے سے بھرپور ہیں تاہم کچھ نحیف آوازیں ٹیم کے دفاع میں بھی اٹھتی سنائی دے جاتی ہیں۔

فیس بک پر بننے والے ایک پیج بعنوان "پاکستانی ٹیم پہ لگنے والے الزامات جھوٹ کا پلندہ ہیں" کے فینز کی تعداد پانچ سو تک پہنچ گئی ہے۔ پیج پہ اظہارِ خیال کرنے والے اکثر یوزر ہم آواز ہوکر انتہائی شدو مد سے ٹیم پہ لگنے والے الزامات کو جھوٹ قرار دے رہے ہیں۔ تاہم پیج پہ اپنی رائے دینے والے ایک جذباتی یوزر کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر میچ فکسنگ کے الزامات سچ ثابت ہوجائیں تو ملوث تمام کھلاڑیوں کو قذافی اسٹیڈیم میں باجماعت پھانسی دے دی جائے۔

معروف سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ ٹوئٹر پہ بھی کئی یوزرز اپنے جذبات کا اظہار کررہے ہیں۔ ایک بین الاقوامی نشریاتی ادارے کی جانب سے "پاکستان کرکٹ: میچ فکسنگ کے الزامات کے باعث بحران کا شکار" کے عنوان سے شائع کیے گئے ایک مضمون پر وجیہ سعید نے تبصرہ کیا ہے، "پاکستان کرکٹ آخر کب بحران کا شکار نہیں رہا؟؟"

سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس استعمال کرنے والے پاکستانیوں کے ساتھ ساتھ کئی ہندوستانی یوزرز بھی میچ فکسنگ کے حوالے سے سامنے آنے والی وڈیو میں سنائے گئے بکر کے اس متنازعہ جملے "پاکستانی کرکٹرز پیسے کے لیے سب کچھ کر سکتے ہیں۔۔۔" پہ خاصے برانگیختہ نظر آتے ہیں اور اس کی مذمت میں اپنے پڑوسیوں کے ہم آواز ہیں۔

سازشی عناصر کی کارفرمائی

پاکستانی قوم کے ساتھ کوئی سانحہ یا حادثہ رونما ہو اور کسی جانب سے اس میں کسی غیر مرئی ہاتھ یا سازشی عناصر کی کارفرمائی کی نشاندہی نہ ہو، یہ ممکن نہیں۔ سو اس بار بھی انگلینڈ میں پاکستانی ٹیم کی رسوائی میں ٹیم کے کچھ چاہنے والوں نے سازشی ہاتھ تلاش کر ہی لیا ہے۔

میچ فکسنگ اسکینڈل پہ بننے والے ایک فیس بک پیج پہ زوہیب حسن بڑی دور کی کوڑی لائے ہیں۔ زوہیب سمجھتے ہیں کہ انگلش کرکٹ بورڈ درحقیقت پاکستان سے 1992 کے ورلڈ کپ کی اس شکست کا بدلہ لینا چاہتا ہے جس میں بڑا ہاتھ وسیم اکرم کی شاندار بالنگ کا تھا۔ زوہیب لکھتے ہیں کہ چونکہ انگلش بورڈ کو محمد عامر میں وسیم اکرم جیسا بہترین کھلاڑی نظر آگیا تھا لہذا میچ فکسنگ کا یہ سارا ڈرامہ عامر کا کیریئر برباد کرنے کے لیے رچایا گیا!

ایسے ہی ایک یوزر ضیاءالرحمن خبر جاری کرنے والے ادارے کا ماضی کرید لائے ہیں جو ان کے مطابق اس طرح کے الزامات عائد کرنے اور پھر بعد میں ثابت نہ کر پانے سے بھرا پڑا ہے۔ ان کے مطابق یہ ادارہ ابھی بھی اپنے بیان کردہ اسکینڈلزکے جواب میں متاثرین کی جانب سے دائر کردہ کم از کم پانچ کیسز کا سامنا کر رہا ہے۔ ان کے مطابق ماضی میں اسی ادارے کی جانب سے وسیم اکرم اور وقار یونس پر بال ٹیمپرنگ کے الزامات عائد کیے گئے تھے جسے یہ بعد میں ثابت کرنے میں ناکام رہا۔

اب کیا ہوگا؟

یہ تو وقت ہی بتائے گا کہ پاکستانی ٹیم پہ لگنے والا میچ فکسنگ کا یہ الزام درست تھا یہ نہیں، تاہم اس بات میں کوئی کلام نہیں کہ حالیہ واقعے نے عالمی میدان میں اپنی بقا کی جنگ لڑتی پاکستانی کرکٹ ٹیم اور اندرونِ ملک تنقید کے تپھیڑے سہتی ٹیم مینجمنٹ کو ایک نئے بحران سے دوچار ضرور کردیا ہے۔ جو تجزیہ نگاروں کے مطابق ہردو صورت میں ٹیم اور مینجمنٹ میں کچھ تبدیلیوں کا جواز فراہم کرے گا۔ اسی صورتحال پہ فراز نے کیا خوب کہا ہے:

"اب تو اعجاز بٹ نے بھی تنگ آ کے کہہ دیا فراز ۔ ۔ ۔ ایسا کرو گے تو کون آئے گا!!!"

XS
SM
MD
LG