رسائی کے لنکس

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئر مین ذکا اشرف نے کہا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر کرکٹ کے حوالے سے پاکستان کا مثبت تصور ابھر کر سامنے آیا ہے اور رواں ماہ بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم کے دورہ پاکستان سے اسے مزید تقویت ملے گی۔

بدھ کو لاہور میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ذکا اشرف نے کہا کہ ملک میں سکیورٹی کی صورتحال ماضی کے مقابلے میں بہت بہتر ہے اور اب حالات 2009ء سے بہت مختلف ہیں۔’’ ہم نے حال ہی میں انگلش یونیورسٹیوں کی کرکٹ ٹیم بلائی جو انگلینڈ سے آئی وہاں کے پلیئرز تھے اس میں۔۔۔ کوئی ایسا واقعہ بھی نہیں ہوا اور نہ ہی حالات اب وہ ہیں کہ ہم اتنا خطرہ محسوس ہو جو 2009 ء میں تھا وہ دہشت گردی کا ہائیٹ تھی‘‘۔

مارچ 2009ء میں پاکستان کے دورے پر آئی ہوئی سر لنکن کرکٹ ٹیم پر لاہور میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے کے بعد غیر ملکی کرکٹ ٹیمیں پاکستان آکر کھیلنے سے انکار کرتی رہی ہیں اور اسی باعث گزشتہ سال کرکٹ کے عالمی کپ کی شریک میزبانی سے بھی پاکستان کو ہاتھ دھونا پڑے۔

ذکا اشرف کا کہنا تھا کہ ملک میں بین الاقوامی کرکٹ کی واپسی ان کی اولین ترجیح ہے جس کے لیے وہ بھرپور کوششیں کررہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے اپنے حالیہ دورہ بھارت میں وزیراعظم من موہن سنگھ سے ملاقات میں دونوں ملکوں کے درمیان کرکٹ کی بحالی پر بات چیت کی اور وہ پرامید ہیں کہ بھارت کی طرف سے اس بارے میں مثبت جواب ملے گا۔

ذکا اشرف کا کہنا تھا کہ ملک میں بین الاقوامی کرکٹ کی واپسی ناصرف شائقین کرکٹ کے لیے بہت خوش آئند ہوگی بلکہ اس سے ملک کی اقتصادی صورتحال میں بھی خاطر خواہ بہتری آئے گی۔ ’’ ایک ریڑھی والے سے چھابڑی والے سے لے کر فائیو اسٹار ہوٹل تک آپ دیکھیں کتنی بڑی اکنامک اکٹیویٹی جنیریٹ ہوتی ہے۔‘‘

ذکا اشرف

ذکا اشرف

چیئرمین کرکٹ بورڈ نے کہا کہ ملک میں بین الاقوامی کرکٹ کے فروغ کے لیے تمام میدانوں میں بھرپور سکیورٹی اقدامات کیے گئے ہیں۔ اس سے قبل وفاقی وزیرداخلہ رحمن ملک بھی یہ کہہ چکے ہیں پاکستان آنے والی ٹیموں کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے گا۔

بنگلہ دیش کی ٹیم رواں ماہ کے اواخر میں دورہ پاکستان کے دوران ایک ٹی ٹوئنٹی اور ایک ون ڈے انٹرنیشنل میچ کھیلے گی۔

XS
SM
MD
LG