رسائی کے لنکس

میچ فکسنگ: مبینہ ملوث کرکٹرز کو برطانیہ میں مزید تفتیش کا سامنا


(دائیں سے) قومی ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کے کپتان سلمان بٹ، فاسٹ بائولرز محمد آصف اور محمد عامر

(دائیں سے) قومی ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کے کپتان سلمان بٹ، فاسٹ بائولرز محمد آصف اور محمد عامر

برطانوی پولیس کی جانب سے اسپاٹ فکسنگ میں مبینہ طور پہ ملوث تین پاکستانی کرکٹرز سے آج مزید تفتیش کی جارہی ہے۔

قومی ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کے کپتان سلمان بٹ، اور فاسٹ بائولرز محمد آصف اور محمد عامر پہ پیسے لے کر انگلینڈ کے خلاف آخری ٹیسٹ میچ میں نو بالز کرانے کا الزام ہے۔ نو بالز کرانے کا مبینہ مقصد رقم لگانے والے افراد کو میچ فکسنگ کیلیے اپنی آمادگی کا یقین دلانا تھا۔

لندن میٹرو پولیٹن پولیس کی جانب سے تاحال تینوں کھلاڑیوں پر کوئی الزام عائد نہیں کیا گیا۔ تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ تینوں کھلاڑیوں سے جمعہ کے روز مزید تفتیش کی جائیگی۔ قبل ازیں اس ہفتے کے آغاز میں پولیس نے تینوں کھلاڑیوں کے بیان قلم بند کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے موبائل فونز بھی اپنے قبضے میں لے لیے تھے۔

تینوں کھلاڑیوں کو انٹرنیشنل کرکٹ کونسل پہلے ہی معطل کرچکی ہے۔ کرکٹ کی منتظم عالمی تنظیم کا کہنا ہے کہ تینوں کرکٹرز کے خلاف کرپشن کے الزامات کے تحت تحقیقات کی جائینگی اور نتیجہ سامنے آنے تک مذکورہ کھلاڑیوں پر کرکٹ کے حوالے سے ہونے والی کسی بھی سرگرمی میں شمولیت پہ پابندی ہوگی۔ آئی سی سی کے مطابق برطانوی اخبار کی جانب سے سامنے لایا جانے والا اسپاٹ فکسنگ کا مذکورہ کیس کرکٹ میں اس دہائی کا سب سے بڑا اسکینڈل ہے۔

معطل کھلاڑیوں کے پاس آئی سی سی کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کیلیے 14 دن کا وقت ہے۔ اگر جاری تحقیقات میں تینوں کرکٹرز پہ کرپشن کا الزام ثابت ہوگیا تو ان کے کرکٹ کھیلنے پہ تاحیات پابندی لگ سکتی ہے۔

پاکستان کے برطانیہ میں ہائی کمشنر واجد شمس الحسن نے کھلاڑیوں کی معطلی کے فیصلے پہ آئی سی سی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ مذکورہ تینوں پاکستانی کرکٹرز بے گناہ ہیں۔

دوسری جانب پاکستانی کرکٹ ٹیم کے مینیجر یاور سعید کا کہنا ہے انگلینڈ کے ساتھ ٹوئنٹی ٹوئنٹی اور ون ڈے انٹرنیشنل سیریز کے تمام میچز طے شدہ اوقات کے مطابق جاری رہیں گے۔ انہوں نے انگلینڈ کے شہر ٹائونٹن میں پریکٹس میں مصروف پاکستانی کھلاڑیوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ حالیہ واقعات کا دبائو قبول نہ کرتے ہوئے خود کو پرسکون رکھیں۔

XS
SM
MD
LG