رسائی کے لنکس

2010 پاکستان کرکٹ کیلئے مایوس کن سال، کامیابی دور اور شکست غالب رہی


2010 پاکستان کرکٹ کیلئے مایوس کن سال، کامیابی دور اور شکست غالب رہی

2010 پاکستان کرکٹ کیلئے مایوس کن سال، کامیابی دور اور شکست غالب رہی

سال 2010 پاکستان کرکٹ کیلئے انتہائی مایوس کن ثابت ہوا۔ ایک جانب تو قومی ٹیم مسائل کے انبار تلے دبی رہی تو دوسری جانب تینوں طرز کی کرکٹ میں اس کی کارکردگی بھی انتہائی خراب رہی جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس سال پاکستان نے چار ٹیسٹ سیریز اور تین ایک روزہ سیریز میں حصہ لیا تاہم فتح ہمیشہ اس سے کوسوں دور نظر آئی جبکہ پانچ ٹی ٹوئنٹی سیریز میں سے صرف ایک میں اسے کامیابی نصیب ہوئی ۔

اس سال کا سورج مایوسیوں کی خوفناک داستان اپنے ساتھ لیے طلوع ہوا۔ پورے سال میں پاکستان نے مجموعی طور پر دس ٹیسٹ میچ کھیلے، چھ میں اسے شکست کا کڑوا گھونٹ پینے کو ملا اور صرف دو مرتبہ جیت کا مزا چکھا جبکہ دو ہار جیت کے بغیر اختتام پذیرہوئے ۔

ایک روزہ کرکٹ میں بھی شکستوں کا ہی راج رہا۔ پاکستانی ٹیم کا 18 مرتبہ حریفوں سے ٹکراؤ ہوا تاہم صرف پانچ بار اسے جشن منانے کاموقع ملا جبکہ تیرہ بارحریف ٹیم نے اس کے چاروں شانے چت کر دیئے ۔

ٹی ٹوئنٹی میں بھی گرین شرٹس کوئی خاطر خواہ کارکردگی دکھانے میں ناکام رہی اور نو میچوں میں صرف تین میں اسے کامیابی ملی جبکہ چھ مرتبہ سر جھکا کر میدان سے واپس لوٹنا پڑا۔

سال کے آغازمیں ہی آسٹریلیانے گرین شرٹس کوفکریات میں ڈال دیا ۔ جنوری میں دورہ آسٹریلیا کے دوران تین ٹیسٹ،پانچ ایک روزہ اورایک ٹی ٹوئنٹی میچ کھیلا گیا اور ان تمام میچوں میں قومی ٹیم کو شکست کا منہ دیکھنا پڑا۔

فروری میں ابوظہبی میں انگلینڈ کے خلاف دو ٹی ٹوئنٹی میچ کھیلے گئے جن میں سے ایک بار پاکستان اور ایک بار انگلینڈ فتح یاب ہوا ۔

جولائی میں پاکستان انگلینڈ پہنچا اور آسٹریلیا سے دو ٹیسٹ میچوں میں سے ایک میں جیت اور ایک میں ہار اس کے حصے میں آئی ۔ جولائی میں ہی پاکستان نے ابوظہبی کے مقام پر آسٹریلیا کو دو ٹی ٹوئنٹی میچوں میں شکست دے کر سال کی واحدسیریز اپنے نام کی ۔

جولائی میں ایشیا کپ کے دوران بھی پاکستان کو بھارت اور سری لنکا سے شکست ہوئی تاہم اس نے بنگلہ دیش پر غلبہ پایا ۔

جولائی اور اگست میں پاکستانی ٹیم نے ایک مرتبہ پھر انگلینڈ کی سر زمین پر قدم رکھا تاہم اس مرتبہ بھی اس کی جھولی میں کانٹے ہی آئے اور لارڈز ٹیسٹ میں اسپاٹ فکسنگ سے متعلق الزامات نے پاکستان کو ایساداغ دار بنا دیا کہ ابھی تک یہ داغ دھل نہیں سکے ہیں۔

اس دوران پاکستان نے انگلینڈ کے خلاف چار ٹیسٹ کھیلے لیکن اس کے حصے میں صرف ایک میں ہی فتح آئی اور مخالف ٹیم نے تین، ایک سے اسے زیر کرلیا۔ انگلینڈ کے خلاف ایک روزہ سیریز میں بھی نتائج ٹیسٹ سریز سے مختلف نہ تھے اور پانچ میں سے تین میں فتح انگلینڈ کے نام رہی جبکہ دو میچ پاکستان کے نام رہے ۔ اس دوران دو ٹی ٹوئنٹی بھی کھیلے گئے تاہم وہ بھی میزبان انگلینڈ کے نام ہی رہے۔

نومبر میں پاکستان، جنوبی افریقہ کے ساتھ ہوم سیریز کھیلنے کیلئے ابوظہبی پہنچا اور دوٹیسٹ میچ کھیلے تاہم دونوں بغیر کسی نتیجے پر پہنچے ختم ہو گئے ۔ پانچ ایک روزہ میچوں کی سیریز میں سے دو مرتبہ پاکستان اور تین مرتبہ جنوبی افریقہ فتحیاب ہوا ۔ اس دورہ کے دوران دونوں ٹیموں کے درمیان دو ٹی ٹوئنٹی بھی کھیلے گئے لیکن دونوں مرتبہ فتح حریف ٹیم کے ہی حصے میں آئی ۔

XS
SM
MD
LG