رسائی کے لنکس

پاکستانی ہونے کی سزا دی جارہی ہے، معطل کرکٹرز

  • عمیر ریاض

پاکستانی ہونے کی سزا دی جارہی ہے، معطل کرکٹرز

پاکستانی ہونے کی سزا دی جارہی ہے، معطل کرکٹرز

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی جانب سے اسپاٹ فکسنگ کے الزامات کے تحت پابندی کا سامنا کرنے والے دو پاکستانی کھلاڑیوں نے آئی سی سی پر تعصب برتنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں صرف پاکستانی ہونے کی وجہ سے امتیازی سلوک کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

پیر کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستانی ٹیسٹ ٹیم کے سابق کپتان سلمان بٹ اور فاسٹ بائولر محمد عامر کا کہنا تھا کہ آئی سی سی کے پاس ان پر لگائے گئے الزامات کا کوئی ثبوت موجود نہیں اور کرکٹ کی عالمی تنظیم انہیں پاکستانی ہونے کی وجہ سے امتیازی سلوک کا نشانہ بنا رہی ہے۔

رواں سال اگست میں پاکستا ن کے دورہ انگلینڈ کے دوران کھیلے گئے تیسرے ٹیسٹ میچ میں اسپاٹ فکسنگ کے الزامات سامنے آنے کے بعد آئی سی سی نے پاکستان کے ٹیسٹ کپتان سلمان بٹ اور فاسٹ بائولرز محمد آصف اور محمد عامر پر تحقیقات مکمل ہونے تک ہر قسم کی کرکٹ کھیلنے پر پابندی عائد کردی تھی۔

تینوں کھلاڑیوں نے کرکٹ کی عالمی تنظیم کی جانب سے معطلی کے فیصلے کے خلاف اپیلیں دائر کی تھیں تاہم محمد آصف نے اپنی اپیل واپس لے لی تھی۔

آئی سی سی کے کوڈ آف کنڈکٹ کمیشن کے سربراہ مائیکل بیلوف نے اتوار کو دبئی میں دو روزہ سماعت کے بعد سلمان بٹ اور محمد عامر کی اپیلوں کو مسترد کرتے ہوئے ان پر عائد پابندی برقرار رکھنے کا اعلان کیا تھا۔

دبئی سے واپسی پر لاہور ایئرپورٹ پر صحافیوں سے بات چیت میں دونوں معطل کھلاڑیوں نے آئی سی سی کے فیصلے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسے متعصبانہ اور یک طرفہ قرار دیا۔

نوجوان فاسٹ بائولر محمد عامر کا کہنا تھا کہ وہ سچائی کی تلاش میں دبئی گئے تھے تاہم انہیں مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔ خود پر لگنے والے الزامات کے بارے میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ پاکستان کے خلاف سازش ہے اور اس کے ذریعے پاکستان کرکٹ کو بدنام کیا جارہا ہے۔

محمد عامر نے کہا کہ انہیں ان کی اپیل مسترد ہونے کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی اور ایسا معلوم ہورہا تھا کہ جیسے اپیلوں کا فیصلہ ان کی سماعت سے قبل ہی طے کرلیا گیا تھا۔ پاکستان کے ابھرتے ہوئے لیفٹ آرم پیس بائولر کا کہنا تھا کہ انہیں انصاف نہیں دیا گیا اور آئی سی سی کے جو جی میں آرہا ہے وہ کررہی ہے۔

اس موقع پہ سلمان بٹ کا کہنا تھا کہ ایسا لگ رہا ہے انہیں صرف ان کے پاکستانی ہونے کی سزا دی جارہی ہے۔ انہوں نے خود پہ عائد پابندی کے خلاف دائر کردہ اپیلیں مسترد کیے جانے کے فیصلے کو متعصبانہ قرار دیا۔

اسپاٹ فکسنگ کے الزامات ایک برطانوی اخبار "نیوز آف دی ورلڈ" کی تحقیقاتی رپورٹ میں سامنے آئے تھے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پاکستانی کھلاڑیوں نے ایک سٹے باز سے رقم وصول کرکے اس کے بیان کردہ طریقے کے مطابق بالنگ کرائی تھی تاکہ اسے اگلا میچ فکس کرنے پر آمادہ کیا جاسکے۔

سلمان بٹ کا کہنا تھا کہ کمیشن کی کاروائی 12 گھنٹے سے زائد جاری رہی جس میں آئی سی سی کی جانب سے ان کے خلاف پیش کردہ تمام تر ثبوت "نیوز آف دی ورلڈ" کے اخباری تراشوں اور ویڈیو کلپس پر مشتمل تھے۔ ان کے مطابق آئی سی سی کمیشن کا ان کی اپیل مسترد کرنے کا فیصلہ نہ تو دستیاب شواہد کی بنیاد پر کیا گیا اور نہ ہی کمیشن نے ان پر پابندی برقرار رکھنے کے فیصلہ کی کوئی وجہ بیان کی۔

سلمان بٹ کا کہنا تھا کہ ان کی جانب سے بار بار مطالبہ کیے جانے کے باوجود آئی سی سی ان پر لگنے والے الزامات کی سماعت کی تاریخ نہیں دے رہی ہے اور دو ماہ گزرنے کے باوجود نہ ان کے کیس کی سماعت کی جارہی ہے اور نہ ہی انہیں کرکٹ کھیلنے کی آزادی دی جارہی ہے۔ ان کے دعویٰ کے مطابق آئی سی سی کے پاس ان کے خلاف اخباری تراشوں اور ویڈیو ٹیپ کے علاوہ کوئی ثبوت موجود نہیں ہے اور "ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب صرف پاکستان کو کارنر کرنے کیلیے کیا جارہا ہے"۔

سلمان بٹ نے کہا کہ اس طرح کے الزامات ماضی میں بھی کئی کھلاڑیوں پر لگتے آئے ہیں تاہم ان کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جارہا ہے۔ ان کے مطابق یہ صرف تین کھلاڑیوں کو معاملہ نہیں بلکہ "ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ پاکستان کو کارنر کرنے کیلیے کیا جارہا ہے"۔

انہوں نے جذباتی انداز میں کہا کہ "اگر ہم نے کچھ برا کیا ہے تو ہمیں سزا دیں اور اگر آپ کے پاس ہمارے خلاف کوئی ثبوت نہیں تو ہمیں کرکٹ کھیلنے دی جائے"۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف شکوک کی بنیاد پر سزا نہیں دی جاسکتی۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے معطل کھلاڑیوں کے ساتھ روا رکھی جانے والی لاتعلقی کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال پر سلمان بٹ نے شاکی لہجے میں کہا کہ بورڈ کی لاتعلقی سب کے سامنے ہے اور انہیں اس کی سمجھ نہیں آرہی۔ ان کا کہنا تھا کہ بورڈ کے کسی فرد نے ان سے فون تک کرکے نہیں پوچھا کہ ان کے ساتھ کیا معاملہ کیا گیا۔

اس سوال کے جواب میں کہ معطل کھلاڑیوں نے اس سے قبل میڈیا پر آکر اپنے خدشات کا اظہار کیوں نہیں کیا، سلمان بٹ کا کہنا تھا کہ انہیں کئی سابق کرکٹرز کی جانب سے الزامات لگنے کے فوراً بعد پریس کانفرنس کرنے کا مشورہ دیا گیا تھا تاہم پی سی بی کی جانب سے انہیں خاموشی اختیار کرنے کو کہا گیا تھا۔ تاہم ان کے مطابق اب جو کچھ وہ دبئی میں دیکھ کر آئے ہیں اس نے انہیں مجبور کیا کہ وہ کھل کر اپنی رائے کا اظہار کریں۔

XS
SM
MD
LG