رسائی کے لنکس

اغواء کے واقعات پر امدادی تنظیموں کی تشویش

  • یاسر منصوری

اگست 2011ء میں ترقیاتی منصوبوں پر کام کرنے والے امریکی امدادی کارکن کو لاہور سے اغواء کیا گیا تھا، جس کے بارے میں القاعدہ نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ اس کی تحویل میں ہے۔

اگست 2011ء میں ترقیاتی منصوبوں پر کام کرنے والے امریکی امدادی کارکن کو لاہور سے اغواء کیا گیا تھا، جس کے بارے میں القاعدہ نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ اس کی تحویل میں ہے۔

پاکستان میں سرگرم عمل بین الاقوامی امدادی تنظیموں کا کہنا ہے کہ غیر ملکیوں کے اغواء کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کے باعث اُن کے عملے کو اپنی نقل و حرکت میں انتہائی احتیاط کرنا پڑ رہی ہے جس کی وجہ سے اُن کی سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔

رواں ماہ اب تک مختلف واقعات میں چار غیر ملکیوں کو اغواء کیا جا چکا ہے، جن میں سے تین کا تعلق مغربی ممالک سے ہے۔

بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی (آئی سی آر سی) کی ترجمان ستارہ جبین نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کوئٹہ میں تنظیم کے لیے کام کرنے والے برطانوی شہری خلیل ڈیل کے حالیہ اغواء کے بعد آئی سی آر سی نے صوبائی دارالحکومت میں اپنی سرگرمیوں کو انتہائی محدود کر دیا ہے، اور صرف ان منصوبوں پر کام جاری ہے جن کا مقصد انسانی جانوں کو بچانا ہے۔

’’ایسی صورت حال جس میں امدادی اداروں کو اپنی معمول کی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا ہو اس کا اثر اُن لوگوں پر پڑتا ہے جن کے لیے یہ (ادارے) کام کر رہے ہوتے ہیں، اس وجہ سے یہ ہمارے لیے کافی تشویش کی بات ہے۔‘‘

لیکن اُنھوں نے کہا کہ آئی سی آر سی کی کوشش ہے کہ وہ اپنے عملے کا تحفظ اور امدادی کارروائیوں کی اہمیت میں توازن رکھتے ہوئے اپنا کام جاری رکھے۔

ستارہ جبین نے بتایا کہ اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے اُن کی تنظیم کا کراچی، پشاور اور اسلام آباد میں عملہ اپنی معمول کی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے لیکن حفاظتی اقدام کے طور پر اس نے بھی اپنی نقل و حرکت محدود کر دی ہے۔

پاکستان کے شورش زدہ شمال مغربی علاقوں میں شدت پسندوں کے خلاف فوجی کارروائیوں کی وجہ سے نقل مکانی کرنے والے قبائلی خاندانوں اور گزشتہ دو سالوں کے دوران سیلابوں سے متاثر ہونے والے لاکھوں افراد کی امداد اور بحالی میں مصروف درجنوں بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ ان کی سرگرمیوں کا جاری رہنا ناگزیر ہے۔

اقوام متحدہ کے ساتھ مل کر صوبہ پنجاب اور سندھ کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں کام کرنے والی بین الاقوامی تنظیم آئی او ایم کے ترجمان سلیم رحمت کا کہنا ہے کہ امدادی کارکنوں کے اغواء کے واقعات بہرحال باعث تشویش ہیں، لیکن سخت حفاظتی تدابیر اپنا کر اور قانون نافذ کرنے والے مقامی اداروں کے تعاون سے اُن کی کارروائیاں جاری ہیں۔

’’ایسی صورت حال میں اگر آپ مقامی آبادی کے ساتھ قریبی رابطہ رکھیں تو بہت سے ناخوشگوار واقعات سے بچا جا سکتا ہے۔

انتظامیہ اور پولیس کے عہدے داروں کا کہنا ہے کہ بعض امدادی تنظیوں کی طرف سے اپنے دفاتر کی تفصیلات اور عملے کی نقل و حرکت کے بارے میں متعلقہ حکام کا آگاہ نا کرنا بھی امدادی تنظیموں کے کارکنوں کے اغواء میں اضافے کی ایک وجہ ہے۔

گزشتہ چھ ماہ کے دوران صوبہ پنجاب اور بلوچستان سے سات غیر ملکیوں کو اغواء کیا جا چکا ہے۔ ان افراد میں پانچ امدادی کارکن اور دو سیاح شامل ہیں۔

ان وارداتوں کے محرکات تاحال واضح نہیں ہو سکے ہیں لیکن حکام نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ بیشتر غیر ملکیوں کو تاوان کی غرض سے اغواء کیا گیا ہے۔

لیکن گزشتہ سال اگست میں لاہور کے ایک مہنگے رہائشی علاقے سے اغواء کیے گئے امریکی امدادی کارکن وارن وائن سٹائن کے بارے میں القاعدہ نے دسمبر میں دعویٰ کیا تھا کہ مغوی شہری اُس کی تحویل میں ہے۔

XS
SM
MD
LG