رسائی کے لنکس

پاسپورٹ اسکینڈل: پاکستانی تفتیش کار برطانیہ جائیں گے


وزیر داخلہ رحمٰن ملک (فائل فوٹو)

وزیر داخلہ رحمٰن ملک (فائل فوٹو)

وزیرِ داخلہ رحمٰن ملک نے کہا کہ لندن میں انٹرپول کے دفاتر اور پاکستان کے ہائی کمشنر سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ اس ٹیم کی علی اسد سے ملاقات کا بندوبست کریں۔

پاکستان نے حالیہ پاسپورٹ اسکینڈل کے اہم کردار محمد علی اسد سے پوچھ گچھ کے لیے تفتیش کاروں کی ایک ٹیم برطانیہ بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔

وفاقی وزیرِ داخلہ رحمٰن ملک نے بدھ کو اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے ’ایف آئی اے‘ اور کوائف اکٹھا کرنے سے متعلق قومی ادارے ’نادرا‘ کے افسران پر مشتمل یہ ٹیم آئندہ 24 گھنٹوں میں برطانیہ پہنچ جائے گی۔

’’لندن میں انٹرپول کے دفاتر اور پاکستان کے ہائی کمشنر (واجد شمس الحسن) سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ اس ٹیم کی علی اسد سے ملاقات کا بندوبست کریں۔‘‘

رحمٰن ملک نے کہا کہ اسد علی کا دعویٰ ہے کہ دہشت گرد عناصر پاکستانی پاسپورٹ اور نادرا کے نظام کا استعمال کر رہے ہیں، لیکن اگر اس سلسلے میں اُن کے پاس کوئی شواہد موجود ہیں تو پاکستان ان کی فراہمی کا خیر مقدم کرے گا۔

’’اگر وہ (علی اسد) خود کو پاکستانی (شہری) سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ نظام ٹھیک ہونا چاہیئے تو وہ ایف آئی اے کی ٹیم کو تمام تفصیلات بتائیں ... میں تو کہتا ہوں ہمیں انٹرپول کے پاس جانے کی بھی ضرورت نہیں ہے وہ خود پاکستانی ہائی کمشنر سے رابطہ کریں اور بتائیں کہ یہ نقائص ہیں تاکہ ہم ان کو ٹھیک کر سکیں۔‘‘

وفاقی وزیرِ داخلہ کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں ہر نظام، الیکٹرانک یا مینوئل، میں کمزوریوں کا احتمال رہتا ہے، لیکن نادرا نے ڈیٹا پروٹیکشن کے لیے جو انتظامات کر رکھے ہیں وہ انتہائی اطمینان بخش ہیں۔

’’اس میں مختلف سیگمنٹس ہیں ... اور یہ نظام انٹرنیٹ پر بھی نہیں ہے اس لیے ہیکنگ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔‘‘

رحمٰن ملک نے بتایا کہ تفتیش کاروں نے وہ ویڈیو بھی حاصل کر لی ہے جس میں علی اسد کو چودھری عابد، رقیب اور اکبر نامی متنازع شخصیات کے ساتھ دیکھا جا سکتا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ تینوں افراد متعلقہ اداروں کی حراست میں ہیں اور عابد نے اپنے بیان میں بتایا ہے کہ اس کو اسد نے کہا کہ ’’یہ یہ الفاظ کہو کیوں کہ رقیب میرے پیچھے پڑا ہوا ہے کہ مجھے ابھی تک برطانیہ کیوں نہیں لے کر گئے‘‘۔

برطانوی جریدے ’دی سن‘ نے گزشتہ ہفتے اپنی رپورٹ میں الزام لگایا تھا کہ پاکستان میں ایک گروہ سرکاری حکام کی معاونت سے جعلی پاسپورٹ اور ویزوں کا کاروبار کر رہا ہے، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دہشت گرد عناصر لندن تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔

لیکن پاکستان میں حکام نے اس رپورٹ کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ملک کے خلاف سازش ہے۔
XS
SM
MD
LG