رسائی کے لنکس

حج انتظامات میں مبینہ بدعنوانی میں ملوث سابق وفاقی وزیر برائے مذہبی اُمور حامد سعید کاظمی کو وفاقی تحقیقاتی ادارے، ایف آئی اے، نے گرفتار کرلیا ہے۔

اس مقدمے میں سابق وفاقی وزیر نے ضمانت قبل ازگرفتار ی کی درخواست دائر کررکھی تھی جس کے منگل کو راولپنڈی کی ایک عدالت میں سماعت کے دوران منسوخ ہونے پر اُنھیں گرفتار کر لیا گیا۔

سابق وفاقی وزیر کا تعلق حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی سے ہے اور وہ رکن قومی اسمبلی ہیں۔

وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے اب تک جو شواہد اکٹھے کیے ہیں اُن میں الزام لگایا گیا ہے کہ حج انتظامات میں بدعنوانی حامد سعید کاظمی کی ایما پر کی گئی۔ تاہم سابق وفاقی وزیر ان الزامات کو بے بنیاد قرار دے کر مسترد کرتے ہیں۔

اُن کی گرفتاری سے قبل وفاقی وزارت برائے مذہبی اُمور کے دو اعلیٰ عہدے داروں کو بھی اس سکینڈل میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار کیا جاچکا ہے۔ان میں ڈائریکٹر جنرل حج راؤ شکیل اور وزارت کے جوائنٹ سیکرٹری شامل ہیں۔

وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے حج سکینڈل منظر عام پر آنے کے بعد حامد سعید کاظمی کو وزیر کے عہدے سے برطرف کردیا تھا جبکہ اس سکینڈل پر حکومت مخالف بیانات دینے پر پیپلز پارٹی کی اتحادی جماعت جمیت علما ئے اسلام کے وفاقی وزیر اعظم سواتی کو بھی اُن کے عہدے سے ہٹا دیاگیا جس پر جے یو آئی حکمران اتحاد سے احتجاجاََ الگ ہوگئی۔

حج انتظامات میں بدعنوانی اور پاکستانی حاجیوں سے زیادہ رقم وصول کرنے کی اطلاعات کا عدالت عظمیٰ نے ازخود نوٹس لیا تھا اور عدالت کے حکم پر حکومت پاکستان نے 26 ہزار حاجیوں کو سات سو سعودی ریال فی کس واپس کیے تھے۔

XS
SM
MD
LG