رسائی کے لنکس

امریکی شہری کے مبینہ اغوا کار کا خاکہ جاری


ماڈل ٹاؤن میں واقع وائنس ٹائن کی رہائش گاہ

ماڈل ٹاؤن میں واقع وائنس ٹائن کی رہائش گاہ

وائنس ٹائن کی کمپنی نے وائس آف امریکہ کو بھیجے گئے ایک بیان میں کہا ہے کہ ڈاکٹر وائنس ٹائن کے اہل خانہ اور دوست احباب کو اُن کے اغوا سے دلی صدمہ ہوا ہے۔ ”ہمیں ان کی صحت کے حوالے سے انتہائی تشویش ہے۔ وہ دل کے عارضے میں مبتلا ہیں اور اُنھیں سانس کی بھی شدید تکلیف ہے۔“

ترقیاتی اُمور کے امریکی ماہر وارن وائنس ٹائن کے اغوا میں مبینہ طور پر ملوث ایک شخص کا خاکہ جمعرات کو لاہور پولیس نے جاری کیا ہے۔

حکام نے بتایا کہ مبینہ ملزم کا خاکہ اس واردات کی تحقیقات کے دوران اب تک گرفتار کیے گئے مشتبہ افراد سے حاصل ہونے والی معلومات کی روشنی میں تیار کیا گیا۔ زیر حراست افراد میں امریکی باشندے کا ڈرائیور اور اس کے گھر پر تعینات نجی سکیورٹی گارڈز بھی شامل ہیں۔

پولیس کی طرف سے جاری کیا گیا ایک مشتبہ اغوا کار کا خاکہ

پولیس کی طرف سے جاری کیا گیا ایک مشتبہ اغوا کار کا خاکہ

تاہم تفتیش کار بظاہر وائنس ٹائن کے اغوا کے محرکات کا کھوج لگانے میں تاحال ناکام رہے ہیں، کیوں کہ نا تو اغوا کاروں نے اب تک کسی سے رابطہ کیا ہے اور نا ہی حکام کی طرف سے باضابطہ طور پر تحقیقات میں کسی نمایاں پیش رفت کا اعلان کیا گیا ہے۔

تاہم صوبہ پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناالله نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں بتایا کہ گرفتار افراد سے دوران تفتیش اہم معلومات حاصل ہوئی ہیں جن سے اس معاملے کو حل کرنے میں مدد ملے گی۔ اُنھوں نے کہا کہ مغوی امریکی کے گھر پر تعینات نجی سکیورٹی گارڈز میں سے دو کے بارے میں تفتیش کار شکوک و شبہات کا اظہار کر رہے ہیں۔

”ان میں سے ایک (گارڈ) کا تعلق صوابی اور دوسرے کا چارسدہ سے ہے جو قبائلی علاقے کے قریب ہے۔ اس حساب سے اُن سے تفتیش جاری ہے۔“

رانا ثناالله نے بتایا کہ اگر وائنس ٹائن کا ڈرائیور اغوا کاروں کے کہنے پر امریکی شہری کو اپنے کمرے کا دروازہ کھولنے پر مجبور نا کرتا تو امریکی شہری کا اغوا تقریباً ناممکن تھا۔ ”دروازے میں خودکار لاک نصب تھا اور کمرہ بھی خاصہ محفوظ تھا۔“

صوبائی وزیر قانون نے مزید تفصیل بتانے سے گریز کیا کیوں کہ اُن کے بقول ایسا کرنا آئندہ کامیابیوں کے حصول میں رکاوٹ پیدا کر سکتا ہے۔

وارن وائنس ٹائن پاکستان کے شورش زدہ شمال مغربی علاقوں میں امریکی تعاون سے ترقیاتی منصوبوں پر کام کرنے والے ادارے جے ای آسٹن ایسوسی ایٹس کے پاکستان میں ڈائریکٹر تھے اور اطلاعات کے مطابق اُنھوں نے 15 اگست کو وطن واپس چلے جانا تھا۔

لیکن اُنھیں 12 اور 13 اگست کی درمیانی شب لگ بھگ آٹھ افراد نے لاہور کے معروف رہائشی علاقے ماڈل ٹاؤن میں اُن کے گھر سے اغوا کر لیا۔

وزیر قانون رانا ثناالله کا کہنا ہے کہ وائنس ٹائن کے پاکستان میں پانچ سال قیام کے دوران وفاقی حکومت یا کسی دوسرے مقامی ادارے کو اُن کی سرگرمیوں کا علم نہیں تھا اور نا ہی کبھی امریکی باشندے نے حفاظت کی غرض سے پولیس کی مدد کا مطالبہ کیا۔

مزید برآں حکام نے تصدیق کی ہے کہ امریکی تحقیقاتی ادارہ ’ایف بی آئی ‘ تفتیش کے عمل میں پاکستانی ہم منصبوں کی مدد کر رہا ہے۔ رانا ثنا اللہ کے مطابق تحقیقات کے سلسلے میں ایف بی آئی کا تعاون اس لیے بھی اہم ہے کہ امریکی ادارے کی جدید سائنسی خطوط پر تفتیش کی صلاحیت مقامی اداروں سے کہیں زیادہ ہے۔

وائنس ٹائن کی کمپنی نے وائس آف امریکہ کو بھیجے گئے ایک بیان میں کہا ہے کہ ڈاکٹر وائنس ٹائن کے اہل خانہ اور دوست احباب کو اُن کے اغوا سے دلی صدمہ ہوا ہے۔ ”ہمیں ان کی صحت کے حوالے سے انتہائی تشویش ہے۔ وہ دل کے عارضے میں مبتلا ہیں اور اُنھیں سانس کی بھی شدید تکلیف ہے۔“

بیان میں کہا گیا ہے کہ وائنس ٹائن کو روزانہ کی بنیاد پر ادویات کی ضرورت ہے اور ساتھ ہی درخواست کی گئی ہے کہ انسانی بنیادوں پر اُنھیں یہ ادویات فراہم کی جائیں۔

XS
SM
MD
LG