رسائی کے لنکس

آثار قدیمہ کے تحفظ کے لیے ناکافی اقدامات پر ماہرین کی تشویش

  • یاسر منصوری

ہڑپہ کے کھنڈرات

ہڑپہ کے کھنڈرات

آثارِ قدیمہ کے ماہرین نے پاکستان میں تاریخی عمارتوں اور کھنڈرات کی درست انداز میں دیکھ بھال نا ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کی حفاظت سے متعلق قانون سازی اور خصوصاً نوجوان نسل میں اس تاریخی ورثے کی اہمیت کے بارے میں شعور اجاگر کرنے پر زور دیا ہے۔

اسلام آباد میں جمعرات کو شروع ہونے والی ثقافتی ورثے سے متعلق تین روزہ کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب میں آثارِ قدیمہ کے ایک امریکی ماہر جونیتھن مارک کینوائر نے کہا ہے کہ پاکستان میں لاکھوں کی تعداد میں تاریخی عمارتیں اور کھنڈر موجود ہیں جن کا تحفظ آثارِ قدیمہ سے متعلق سرکاری ادارہ انفرادی طور پر نہیں کر سکتا ۔

جونیتھن مارک کینوائر

جونیتھن مارک کینوائر

”لہذا پاکستان کے ہر شہری کو یہ ذمہ داری اپنے سر لینا ہوگی۔ اس چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لیے سب کو متحد ہونا ہوگا اور جب تک ایسا نہیں ہوتا اس ورثے کا تحفظ ممکن نہیں۔“ کینوائر نے کہا کہ صرف قدرتی عوامل ہی تاریخی ورثے کے لیے نقصان دہ نہیں بلکہ جدید دور میں خود انسان اس کے لیے بڑا خطرہ بن گئے ہیں۔

اس کی ایک مثال دیتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ صوبہ سندھ میں تاریخی اہمیت کے حامل موئنجو ڈرو کے آثار قدیمہ کو اینٹوں کے بھٹوں سے شدید نقصان پہنچا ہے۔ اُنھوں نے بتایا کہ علاقے میں مٹی کے حصول کے دوران مزدور متعین کردہ گہرائی سے زیادہ کھدائی کرتے ہیں جس کے باعث تاحال دریافت نا ہونے والے آثار قدیمہ کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

امریکی ماہر آثار قدیمہ نے اسلام آباد کے مضافات میں مارگلہ کے پہاڑی سلسلے کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ بڑے تعمیراتی منصوبوں کے لیے درکار سیمنٹ کی بڑھتی ہوئی مانگ پوری کرنے کے لیے ان پہاڑیوں کو تیزی سے تراشا جا رہا ہے جس سے اس خوبصورت پہاڑی سلسلے کے وجود کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔

زمانہ قدیم کی باقیات سے متعلق صوبہ سندھ کے محکمے کے سیکرٹری کلیم لاشاری نے کہا کہ تاریخی ورثے کے تحفظ کے لیے قوانین انتہائی کمزور ہیں اور ان کے محکمے کو اہمیت کی حامل عمارتوں کی حفاظت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اُنھوں نے بتایا کہ کراچی میں دو سال قبل ایک ہلاکت خیز بم دھماکے کے بعد کیے گئے احتجاج میں کئی اہم عمارتوں کو نظر آتش کر دیا گیا اور اس واقعہ کے بعد مقامی افراد نے ان عمارتوں کے بنیادی ڈھانچے کو بھی منہدم کرنا شروع کر دیا تاہم محکمے کی کوششوں سے بیشتر عمارتوں کو بچا لیا گیا۔

پاکستان میں آثار قدیمہ اور کھنڈرات کے موضوع پر تین روزہ کانفرنس کا انعقاد امریکہ کی ویسکانسن یونیورسٹی نے اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے اور پاکستانی وزارت تقافت کے محکمہ آثارِقدیمہ اور عجائب گھر کے تعاون سے کیا ہے۔

XS
SM
MD
LG