رسائی کے لنکس

انٹرنیٹ صارفین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اگر یہ بل موجودہ شکل میں سینیٹ سے منظور ہو گیا تو اس سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو وسیع اختیارات مل جائیں گے۔

پاکستانی پارلیمان کے ایوان زیریں یعنی قومی اسمبلی سے بدھ کو سائبر جرائم کی روک تھام سے متعلق منظور کرائے گئے بل پر بعض حلقے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ اس انٹرنیٹ صارفین کی آزادی متاثر ہو گی۔

قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد اب اس بل کو سینیٹ میں پیش کیا جائے گا، واضح رہے کہ ایوان بالا یعنی سینیٹ میں حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کو اکثریت حاصل نہیں ہے۔

انٹرنیٹ صارفین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اگر یہ بل موجودہ شکل میں سینیٹ سے منظور ہو گیا تو اس سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو وسیع اختیارات مل جائیں گے۔

یہ متنازع مسودہ قانون پارلیمان میں بھی تنازعے کا شکار رہا جہاں اس سے قبل حزب مخالف کی جماعتوں کی طرف سے اس میں ترامیم کے لیے آواز بلند کی گئی۔

حزب مخالف کی تنقید کے بعد اس مسودہ قانون کو قومی اسمبلی کی متعلقہ کمیٹی میں بھی بھیجا گیا لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ بیشتر تجاویز کو مسودے میں شامل نہیں کیا گیا۔

اس بل کے تحت بغیر رضامندی یا اجازت کے تکلیف یا اذیت کا باعثبننے والے ٹیکسٹ میسیجز یا موبائل ہونے کے ذریعے بھیجے جانے والے پیغامات قابل گرفت ہوں جب کہ سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر حکومت کے اقدامات کو تنقید کا نشانہ بنانے والے کے لیے جرمانے اور قید کی سزا بھی تجویز کی گئی ہے۔

پاکستان میں انٹرنیٹ صارفین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم بائٹس فار آل کے اعلیٰ عہدیدار شہزاد احمد نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ اس مجوزہ قانون کو غلط انداز میں استعمال بھی کیا جا سکتا ہے۔

’’قانون ہونا چاہیے لیکن وہ لوگوں کی حفاظت کے لیے ہونا چاہیئے یا لوگوں کی بہتری کے لیے ہونا چاہیئے ناکہ ریاستی کنٹرول کو مضبوظ بنانے کے لیے۔ ہمارا شروع سے یہ خیال رہا ہے کہ اس بل کے ذریعے ریاست ہے اپنے کنٹرول کو مزید بڑھانا چاہتی ہے۔‘‘

ماضی میں انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ہیومن رائٹس واچ اور کئی دیگر غیر سرکاری تنطیموں نے بھی اس بل کے مسودے میں شامل کڑی شقوں پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزیر مملکت انوشہ الرحمن نے سرکاری میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ اس مجوزہ قانون کے نفاذ سے متعلق نگرانی کا ایک طریقہ کار بھی تجویز کیا گیا ہے۔

وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اور حکومت میں شامل عہدیداروں کا ماننا ہے کہ یہ مجوزہ قانون وقت کی ضرورت ہے اور ملک میں سائبر جرائم کی روک تھام کے لیے ضروری ہے۔

حکام کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک میں بھی ’سائبر جرائم‘ کی روک تھام کے لیے سزائیں موجود ہیں اور اگر یہ مسودہ قانون منظور ہو جاتا ہے تو حکومت اس بات کو یقینی بنانے کی بھی کوشش کرے گی کہ اس کا غلط استعمال نا ہو۔

XS
SM
MD
LG