رسائی کے لنکس

پاکستان میں سائبر جرائم کے مجوزہ قانون پر تحفظات


فائل فوٹو

فائل فوٹو

ہیومن رائٹس واچ نے اپنے ایک بیان میں سائبر جرائم کو روکنے کے لیے مجوزہ قانون پر تنقید کرتے ہوئے اسے رازداری اور آزادی اظہار کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔

انسانی حقوق اور انٹرنیٹ پر صارفین کے حقوق کی تنظیموں کے نمائندوں کی طرف سے سائبر جرائم کی روک تھام کے لیے حال ہی میں پارلیمنٹ کی متعلقہ کمیٹی سے منظور کیے گئے مسودہ قانون پر تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

بین الاقوامی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے اپنے ایک بیان میں سائبر جرائم کو روکنے کے لیے مجوزہ قانون پر تنقید کرتے ہوئے اسے رازداری اور آزادی اظہار کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔

ہیومن رائٹس واچ کے علاوہ آرٹیکل 19، بائٹس فار آل، ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن، پاکستان فار آل اور پرائیویسی انٹرنیشنل نامی غیر سرکاری تنظمیوں نے پیر کو ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ اُنھیں الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کے مجوزہ قانون پر گہری تشویش ہے۔

بین الاقوامی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کے ایشیا کے ڈپٹی ڈائریکٹر فیلیم کائں نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کا مجوزہ قانون نہ تو عوام کو جائز آن لائن سکیورٹی خدشات کے خلاف تحفظ فراہم کرتا ہے نہ بنیادی انسانی حقوق کی پاسداری کرتا ہے۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ اپنی موجودہ شکل میں یہ بل بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو قانونی تحفظ فراہم کرے گا۔

مجوزہ بل حکومت کو اجازت دے گا کہ وہ انٹرنیٹ پر موجود مواد کو سنسر کرے اور صارفین کی کئی سرگرمیوں کو جرم قرار دے سکے۔ اس کے علاوہ یہ بل حکومت کو اجازت دے گا کہ وہ اس کے ذریعے کسی عدالتی نظرثانی کے عمل کے بغیر صارفین کے ’’ڈیٹا‘‘ تک رسائی حاصل کر سکے۔

پاکستان کی وزیرِ مملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی انوشہ رحمان کا کہنا ہے کہ مجوزہ قانون کی ملک میں سخت ضرورت ہے اور یہ سائبر جرائم روکنے، ملکی سلامتی کا دفاع کرنے اور انٹرنیٹ کے استعمال سے تجارت اور ادائیگیوں کو تحفظ فراہم کرے گا۔

لیکن آزادی اظہار کے حق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں اور کارکنوں کو کہنا ہے کہ مجوزہ قانون میں مبہم زبان استعمال کی گئی ہے جس کی غلط تشریح کر کے حکومت کسی بھی ایسے شخص کے خلاف کارروائی کر سکتی ہے جو اس کے خیالات سے متفق نہ ہو۔ ان کے بقول اس سے انٹرنیٹ سنسرشپ کی راہ ہموار ہوگی۔

انٹرنیٹ پر صارفین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم بائٹس فار آل کے کنٹری ڈائریکٹر شہزاد احمد نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’اس قانون میں سب سے اہم مسئلہ یہ ہے کہ اس میں استعمال کی گئی زبان بہت مبہم اور وسیع ہے جس کی وجہ سے اس کی تشریح اس طریقے سے کی جا سکتی ہے جس سے بہت سے بنیادی حقوق پر ضرب پڑ سکتی ہے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ اس بل میں نفرت انگیز بیانات کو قابل تعزیر جرم قرار دیا گیا ہے "جبکہ ہمارا یہ خیال ہے کہ نفرت انگیز بیانات جو تشدد پر اکساتے ہیں ان کو روکنے کے بارے میں پہلے سے قانون موجود ہے جسے استعمال کر کے اشتعال اور تشدد کو روکا جا سکتا ہے۔ موجودہ بل کے قانون بننے سے ملک کی اقلیتوں کے لیے مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں جو پہلے سے ہی دباؤ میں ہیں۔‘‘

حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی اور قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے رکن طلال چوہدری مجوزہ بل کا دفاع کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’’ترقی یافتہ ممالک میں جہاں آزادی اظہار کا تصور بہت پختہ ہے پاکستان کے مجوزہ قانون کی نسبت (وہاں) سائبر جرائم کے لیے قوانین بہت سخت ہیں اور سزائیں بھی زیادہ ہیں۔ یہاں ان کی نسبت الفاظ بھی نرم استعمال کیے گئے ہیں۔‘‘

شہزاد احمد نے اس حکومتی مؤقف کو رد کرتے ہوئے کہا کہ ایسا قطعاً نہیں ہے۔ ’’اس میں اخلاقیات کی جو تعریف کی گئی ہے اس کی غلط تشریح ہو سکتی ہے۔ ہر شخص کی اپنی اخلاقی اقدار ہو سکتی ہیں، مگر اس قانون کے مطابق تو اسی کی اقدار چلیں گی جس کے پاس طاقت ہو گی۔‘‘

اس کے جواب میں طلال احمد کا کہنا تھا کہ یہ تنقید بے جا ہے، ’’اس قانون میں آزادیٔ اظہار کے بارے میں وہی زبان استعمال کی گئی ہے جو آئین کے آرٹیکل 19 میں استعمال کی گئی ہے۔ پاکستان میں متحرک سول سوسائٹی، جمہوریت اور آزاد میڈیا کی موجودگی میں اس قانون کا غلط استعمال ممکن ہی نہیں۔‘‘

شہزاد احمد کا الزام ہے کہ حکومت نے اس بل کے مسودے پر بند دروازے کے پیچھے کام کیا اور متعلقہ عوامی حلقوں کو اس عمل میں شامل نہیں کیا۔

تاہم انہوں نے پیر کو اپوزیشن اراکین کی جانب سے قومی اسمبلی میں اس بل پر عوام کے تحفظات کے اظہار پر اطمینان ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’’انہوں نے بہت مضبوط آواز اٹھائی ہے ۔۔۔ ہم امید کرتے ہیں کہ اس بل کو دوبارہ قائمہ کمیٹی میں بھیجا جائے گا کیونکہ اس پر بہت سا کام باقی ہے۔‘‘

طلال چوہدری نے اس کے بارے میں کہا کہ ابھی اس بل پر قومی اسمبلی میں بحث ہونی ہے اور اگر کوئی خامیاں ہوئیں تو منظور کرنے سے پہلے ان کو دور کر دیا جائے گا۔

شہزاد کا کہنا تھا کہ اگر یہ بل واپس قائمہ کمیٹی میں نہ بھی گیا اور قومی اسمبلی نے خامیوں سمیت اس بل کو منظور کر لیا تو پھر وہ سینیٹ میں اپوزیشن اراکین کو اپنا موقف سمجھانے کی کوشش کریں گے، کیونکہ وہ خود بھی ممکنہ طور پر مستقبل میں اس قانون کی زد میں آ سکتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG