رسائی کے لنکس

سمندری طوفان ’نیلوفر‘ کے ممکنہ نقصانات سے بچنے کے لیے اقدامات


فائل فوٹو

فائل فوٹو

ابتدائی طور پر اس طوفان کا پاکستانی ساحلی علاقوں سے ٹکراؤ متوقع نہیں تھا لیکن بحیرہ عرب میں موسمیاتی تبدیلی کے باعث اب 29 سے 31 اکتوبر تک یہ علاقے شدید طوفان کی زد میں آسکتے ہیں۔

بحیرہ عرب میں موسمی دباؤ کی وجہ سے بننے والے نیلوفر نامی سمندری طوفان میں شدت دیکھی جا رہی ہے اور اسی بنا پر متعلقہ اداروں نے ممکنہ متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں کو حتمی شکل دے کر سب کو چوکنا رہنے کا کہا ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق اس وقت یہ طوفان کراچی سے جنوب مغرب میں 1120 کلومیٹر اور گوادر سے جنوب میں تقریباً 1030 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔

فی الوقت اس طوفان کی رفتار چھ کلومیٹر فی گھنٹہ بتائی جا رہی ہے لیکن آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے این ڈی ایم اے کی طرف سے منگل کو جاری ایک بیان میں بتایا گیا کہ آئندہ 24 سے 36 گھنٹوں میں اس طوفان کی رفتار آٹھ کلومیٹر تک بڑھ سکتی ہے۔

بیان کے مطابق ابتدائی طور پر اس طوفان کا پاکستانی ساحلی علاقوں سے ٹکراؤ متوقع نہیں تھا لیکن بحیرہ عرب میں موسمیاتی تبدیلی کے باعث اب 29 سے 31 اکتوبر تک یہ علاقے شدید طوفان کی زد میں آ سکتے ہیں۔

حکام نے طوفان کے باعث بدھ سے جمعہ تک سندھ اور بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں تیز ہواؤں اور موسلادھار بارشوں کی پیش گوئی بھی کی ہے۔

بیان میں بتایا گیا کہ آفات سے نمٹنے کے سندھ اور بلوچستان کے صوبائی اداروں کو ساحلوں علاقوں اور سندھ کے زیریں علاقوں میں مقیم افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کی ہدایت کر دی گئی ہے۔

علاوہ ازیں کسی بھی ہنگامی صورتحال کے پیش نظر متوقع متاثرہ علاقوں میں امدادی کیمپوں کی فراہمی کو یقینی بنانے اور وہاں طوفان کے ختم ہونے تک ایمرجنسی آپریشن سنٹرز کو متواتر کام کرتے رہنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔

ماہی گیروں کو پہلے ہی بدھ سے جمعہ تک کھلے سمندر میں نہ جانے کا انتباہ جاری کیا جا چکا ہے جب کہ لوگوں کو بھی ساحلی علاقے میں سمندر میں تیراکی سے باز رکھنے کے لیے حکام کو ہدایت کی جاچکی ہے۔

بحیرہ عرب میں موسمی تبدیلی اور ہواؤں کے کم دباؤ کی باعث سمندری طوفان جنم لیتے رہتے ہیں لیکن ان میں سے کم ہی کوئی پاکستانی ساحلی علاقوں کی طرف آتے ہیں۔

2010ء اور 2011ء میں سندھ اور بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں دو مختلف سمندری طوفان آئے لیکن ان کی شدت اتنی نہیں تھی کہ جو کسی بڑے نقصان پر باعث بنتی۔

XS
SM
MD
LG