رسائی کے لنکس

گلگت بلتستان کے وزیر برائے تعمیرات بشیر احمد خان کا کہنا تھا ’’یہ مسائل حل نا ہوئے تو لوگ شاید احتجاج پر اتر آئیں۔ لوگ اپنی زمین اونے پونے داموں بیچ کر جگہ چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہوں گے۔‘‘

گلگت بلتستان کے وزیر برائے تعمیرات بشیر احمد خان نے وفاقی حکومت کو متنبہ کیا ہے کہ اگر دیامیر بھاشا منصوبے کے متاثرین کے زر تلافی سے متعلق تحفظات دور نا ہوئے تو ڈیم کے مجوزہ مقام پر مزید سروے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ہفتہ کو وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے صوبہ خیبرپختونخواہ حکومت کی طرف سے رائلٹی میں حصے کے دعوے کی بھی مخالفت کرتے ہوئے اسے گلگت بلتستان کے ساتھ ’’زیادتی‘‘ قرار دیا۔

’’یہ مسائل حل نا ہوئے تو لوگ شاید احتجاج پر اتر آئیں۔ لوگ اپنی زمین اونے پونے داموں بیچ کر جگہ چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہوں گے۔‘‘

انہوں نے بتایا کہ وفاقی حکومت نے ابھی تک مقامی لوگوں کی زمینوں پر مختلف تعمیرات یا باغ و باغیچوں کی زر تلافی کا تعین نہیں کیا جو کہ ان کے بقول اس پہاڑی آبادی کے لیے پریشان کن بات ہے۔

’’پہلے ہی کالا باغ ڈیم بدقسمتی سے سیاست کی نظر ہو چکا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ اس منصوبے کو سیاست کی نظر کریں۔ ہم چاہتے ہیں کہ یہ مکمل ہو مگر عوام کے جائز مطالبات تو پورے ہونے چاہئے۔‘‘

دریائے سندھ پر قائم ہونے والے 4500 میگا واٹ کے اس ڈیم سے 30 ہزار خاندان بے دخل ہوں گے۔

صوبہ خیبرپختونخواہ کی حکومت کا کہنا ہے کہ دیامیر بھاشا ڈیم کو کچھ حصہ اس کے علاقے کوہستان کی حدود میں آتا ہے اس لیے اس منصوبے کے مکمل ہونے کے بعد حاصل ہونے والی آمدن کا نصف شمال مغربی صوبے کو دیا جائے۔

تاہم بشیر احمد خان کا کہنا تھا ’’یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ للنگ دار تک کا علاقہ دیامیر تھور کا علاقہ ہے ۔ اب صرف 50 فیصد رائلٹی کے لیے انہوں نے یہ دعویٰ ڈال دیا ہے۔ جب باؤنڈری کمیشن بیٹھے گا تو ہم اپنے مضبوط شواہد پیش کریں گے۔‘‘

تاہم حکمران مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے پانی و بجلی کے رکن رانا افضال حسین کا کہنا تھا کہ ملک توانائی کے کسی بھی منصوبے میں تاخیر برداشت نہیں کرسکتا۔

’’مجھے اس بارے میں علم نہیں۔ مگر اپنی کمیٹی کے سامنے یہ بات ضرور کروں گا اور انشاء اللہ اس میں اگر کسی کا کوئی مسئلہ ہے تو انسانی بنیادوں پر اسے ضرور دیکھیں گے۔‘‘

گلگت بلتستان کو پاکستان پیپلز پارٹی کے گزشتہ دور حکومت میں صدارتی حکم نامے کے تحت صوبے کا درجہ دیا گیا مگر وفاقی پارلیمان میں ان کی کوئی نمائندگی نہیں جس وجہ سے بشیر احمد اور کئی مقامی لوگوں کے بقول ان کی مرکزی آواز ایوان اقتدار میں نہیں سنی جاتی۔

پاکستان کو توانائی کے شدید بحران کا سامنا ہے جو کہ ملک کی کمزور معیشت کی ایک بڑی وجہ سمجھا جاتا ہے۔ نواز شریف حکومت کا کہنا ہے کہ توانائی کے مختلف منصوبوں پر کام جاری ہے اور موجودہ قلت کا خاتمہ آئندہ کم از کم تین سالوں میں ممکن ہے۔

ادھر شدت پسندی سے متاثرہ پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں سرکاری عہدیداروں کے مطابق امریکی معاونت سے تعمیر کردہ گومل زام ڈیم نے حال ہی میں آزمائشی بنیادوں پر 36 گھنٹے کام کرتے ہوئے بجلی کی پیداوار شروع کی ہے۔

عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اس ڈیم سے 17.4 میگا واٹ بجلی پیدا ہوگی جس سے 25 ہزار سے زائد گھرانے مستفید ہوں گے۔ اس کے علاوہ ڈیم میں جمع ہونے والی پانی سے جنوبی وزیرستان سے ملحقہ ضلع ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان میں تقریباً ڈیڑھ لاکھ ایکڑ اراضی سیراب ہوسکے گی۔

گومل زام ڈیم کا منصوبہ 2001ء میں شروع کیا گیا مگر 2004ء میں شدت پسندوں کی طرف سے دو چینی انجینئیروں کے اغواء پر اسے روک دیا گیا اور تین سال بعد اس پر تعمیر دوبارہ شروع کر دی گئی۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG