رسائی کے لنکس

”پارلیمان آئین میں فوجی آمروں کی گئی ترامیم ختم کرنے کے قریب ہے“

  • ق

پاکستان کی قومی اسمبلی

پاکستان کی قومی اسمبلی

یوم پاکستان کے موقع پرقوم کے نام تحریر ی پیغام میں صدرآصف علی زرداری نے کہا ہے کہ2010ء پاکستان کی تاریخ میں ایک یادگار سال بننے جارہا ہے کیوں کہ اُن کے بقول ملک کی پارلیمان اُن تمام ترامیم کوآئین سے خارج کرنے کی تیاری کرچکی ہے جو سابق فوجی آمروں نے محض اپنے اقتدار کو طول دینے اور سیاسی مقاصد کے لیے متعارف کرائی تھیں۔

اُنھوں نے کہا کہ ایک کے بعد دوسرے فوجی آمر نے متفقہ طور پر نافذ العمل 1973 ء کے آئین کی شکل بگاڑی لیکن وہ جمہوریت کی حامی قوتوں کی حوصلہ شکنی کرنے میں ناکام رہے۔

اگرچہ صدر زرداری نے اپنے پیغام میں یہ واضح نہیں کیا ہے کہ آئین کی کن شقوں کو منسوخ کیا جائے گا لیکن اُن کا اشارہ بظاہر سینیٹر رضا ربانی کی قیادت میں قائم اُس پارلیمانی کمیٹی کی جانب ہے جس نے ایک طویل عرصے کے بعد تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ مشاورت کرکے آئینی اصلاحات کے پیکج کوتقریباً حتمی شکل دے دی ہے ۔ توقع ہے کہ اصلاحات کا یہ پیکج رواں ماہ منظور ی کے لیے پارلیمان کے سامنے پیش کر دیا جائے گا۔

ان آئینی ترامیم کو حتمی شکل دینے کے لیے کئی ماہ سے اراکین پارلیمان مصروف عمل ہیں اور بعض ناقدین کا کہنا ہے ایسی صورت حال میں عوام کی فلاح کے لیے قانون سازی کا عمل نظر انداز ہواہے اور گذشتہ پارلیمانی سال کے دوران صرف چار قوانین بنے ہیں۔

لیکن حکمران جماعت پیپلز پارٹی اور اُس کی اتحادی جماعتوں کے علاوہ حزب اختلاف کی جماعتیں اس سے اتفاق نہیں کرتیں اور اُن کا کہنا ہے کہ منتخب پارلیمان کو مکمل طور پر بااختیار او ر باوقار بنانے کے لیے ضروری ہے کہ فوجی آمروں کے دور حکومت میں آئین میں کی جانے والی ترامیم کو ختم کر کے صدر سے اختیارات وزیراعظم اور پارلیمنٹ کو منتقل کیے جائیں ۔ اُن کے بقو ل یہ عمل مکمل ہونے کے بعد اراکین پارلیمان عوا م کی فلاح کے لیے قانون سازی پر توجہ مرکوز سکیں گے۔

XS
SM
MD
LG