رسائی کے لنکس

گزشتہ ماہ مجرم کے اہل خانہ کی طرف سے اس کا پیدائشی سرٹیفیکٹ بھی منظر عام پر آیا تھا جس میں جرم کے وقت شفقت حسین کی عمر 14 سال کے لگ بھگ بنتی تھی۔

پاکستان کی ایک عدالت نے سزائے موت کے مجرم شفقت حسین کی پھانسی کے لیے ڈیتھ وارنٹ جاری کر دیے ہیں جس کے مطابق اسے چھ مئی کو تختہ دار پر لٹکایا جائے گا۔

شفقت حسین کو گزشتہ ماہ پھانسی دی جانی تھی لیکن ان اطلاعات کے بعد جب اسے 2004ء میں سزائے موت سنائی گئی تھی تو کم عمر تھا اور ملک میں رائج قانون کے مطابق بچوں کو موت کی سزا نہیں دی جاسکتی، اس کی سزا پر عملدرآمد ایک ماہ کے لیے ملتوی کرتے ہوئے مجرم کی عمر کے تعین کے لیے طبی تجزیوں کو کہا گیا تھا۔

شائع شدہ اطلاعات کے مطابق رپورٹ مکمل ہونے کے بعد وزارت داخلہ کی ہدایت پر انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ڈیتھ وارنٹ جاری کر دیے۔

شفقت حسین کو 2004ء ایک کم سن بچے عمیر صدیقی کے اغوا اور پھر قتل کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی تھی جس کے خلاف کی گئی مجرم کی طرف سے کی گئی تمام اپیلیں مسترد ہوچکی تھیں اور صدر مملکت بھی اس کی رحم کی اپیل مسترد کر چکے ہیں۔

گزشتہ ماہ مجرم کے اہل خانہ کی طرف سے اس کا پیدائشی سرٹیفیکٹ بھی منظر عام پر آیا تھا جس میں جرم کے وقت شفقت حسین کی عمر 14 سال کے لگ بھگ بنتی تھی۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے اس معاملے پر کافی تشویش کا اظہار کیا جاتا رہا۔

تاہم حکام کا کہنا تھا کہ مجرم کی عمر سزا کے وقت 20 سال سے زائد تھی۔

پاکستان میں تقریباً چھ سال تک پھانسیوں پر پابندی عائد رہی جسے گزشتہ دسمبر میں ختم کر دیا گیا۔ سزائے موت پر عملدرآمد کے فیصلے کے بعد اب تک ملک کی مختلف جیلوں میں 90 سے زائد مجرموں کو تختہ دار پر لٹکایا جا چکا ہے۔

XS
SM
MD
LG