رسائی کے لنکس

2010: دہشت گردی اور انسداد دہشت گردی کے واقعات میں پانچ ہزار ہلاکتیں

  • حسن سید

2010: دہشت گردی اور انسداد دہشت گردی کے واقعات میں پانچ ہزار ہلاکتیں

2010: دہشت گردی اور انسداد دہشت گردی کے واقعات میں پانچ ہزار ہلاکتیں

ایس پی او کے سربراہ نصیر میمن نے کہا کہ رپورٹ میں سامنے آنے والے رجحانات انتہائی پریشان کن ہیں کیونکہ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ تشدد کے واقعات نہ صرف بڑھ رہے ہیں بلکہ ان کا دائرہ اب ان علاقوں تک پھیلتا دکھائی دے رہا ہے جو پہلے محفوظ تصور کیے جاتے تھے۔

ایک غیر سرکاری تنظیم سٹرینتھننگ پارٹیسپیٹری آرگنائزیشن کے تازہ جائزے کے مطابق سال 2010 کے دوران پاکستان میں دہشت گردی اور انسداد دہشت گردی کے مختلف واقعات میں پانچ ہزار کے لگ بھگ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

تنظیم نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اس کے مرتب کردہ اعداد و شمار تشدد کے واقعات کا سو فیصد احاطہ نہیں کرتے بلکہ صرف ایک مجموعی خاکہ ہے جو مقامی میڈیا کے ذریعے منظرعام پرآنے والے واقعات پر مبنی ہے۔

رپورٹ کے مطابق عوام کو مسلسل ایک عدم تحفظ کا احساس لاحق ہے کیونکہ دہشت گرد اپنی کارروائی کہیں بھی اور کسی بھی وقت کر سکتے ہیں۔ حتیٰ کہ برداشت اور پرامن بقائے باہمی کی علامت سمجھے جانے والے مقدس مقامات بھی ان سے محفوظ نہیں ۔

مرتب کردہ اعداد و شمار کے مطابق سال 2010 میں خودکش حملوں اور بم دھماکوں میں 1800افراد ہلاک ہوئے، ڈرون حملوں میں550 سے زیادہ ، فوجی آپریشن میں 2060جبکہ ٹارگٹ کلنگ سمیت تشدد کے دوسرے واقعات میں 273افراد مارے گئے۔

یوں ہلاک ہونے والوں کی کل تعداد تقریباً پانچ ہزار ہے جن میں عام شہری، عسکریت پسند اور سیکورٹی اہلکار شامل ہیں۔

وائس آف امریکہ سے انٹرویو میں ایس پی او کے سربراہ نصیر میمن نے کہا کہ رپورٹ میں سامنے آنے والے رجحانات انتہائی پریشان کن ہیں کیونکہ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ تشدد کے واقعات نہ صرف بڑھ رہے ہیں بلکہ ان کا دائرہ اب ان علاقوں تک پھیلتا دکھائی دے رہا ہے جو پہلے محفوظ تصور کیے جاتے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کی کارروائیاں پاکستان کی اقتصادی ترقی پر نہایت منفی اثرات مرتب کر رہی ہیں کیونکہ ان سے نمٹنے کے لئے وسائل کا ایک بڑا حصہ صرف ہو جاتا جو صحت، تعلیم اور صاف پانی کی سہولتوں پر خرچ ہوناچائیے۔

جاوید جبار

جاوید جبار

نصیر میمن کا کہنا تھا کہ تشدد کے واقعات خواہ وہ کسی بھی نوعیت کے ہوں ان میں اضافے کو روکنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ ریاست بھی بے گناہ کے ساتھ ہونے والی زیادتی کا فوری طور پر مداوا کرے اور اسے انصاف دے تاکہ وہ بدلے کے طور پر خود ہتھیار اٹھا کے ریاست کی عمل داری کو چیلنج نہ کرے۔

رپورٹ کے اجراء کی تقریب میں موجود سابق وزیر اطلاعات اور سیاسی تجزیہ کار جاوید جبّار نے ایک انٹرویو میں کہا کہ پاکستان میں جاری تشدد کی موجودہ لہر کی کئی جہتیں اور اشکال ہیں اور ان کے مطابق کم از کم مستقبل قریب میں اس کے تھمنے کے آثار نہیں۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ صورت حال کتنی بھی پیچیدہ کیوں نہ ہو ریاست کو چاہیے کہ وہ دہشت گردوں، انتہا پسندوں اور عسکریت پسندوں کے سامنے کسی بھی طور کمزوری ظاہر نہ کرے بلکہ ان عناصر کے خلاف اپنا پختہ عزم بر قرار رکھتے ہوئے تدبیری حکمت عملی سے ان کا مقابلہ کرے۔

XS
SM
MD
LG