رسائی کے لنکس

خیبرپختونخوا: اساتذہ کو اسلحہ دینے کے معاملے پر نئی بحث

  • شمیم شاہد

بعض سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ اساتذہ کا کام قلم اٹھانا ہے ہتھیار نہیں۔ سول سوسائٹی کے ایک سرگرم کارکن سکندر زمان کہتے ہیں کہ تعلیمی اداروں میں اسلحہ لے کر جانے سے طلبا پر مضر اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

چارسدہ کی باچا خان یونیورسٹی پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد خیبر پختونخواہ میں ایک بار پھر یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ آیا اساتذہ کو درسگاہوں میں اسلحہ رکھنے کی اجازت ہونی چاہیے یا نہیں۔

دسمبر 2014ء میں پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر ہوئے دہشت گرد حملے کے بعد صوبے کے اسکولوں اور تعلیمی اداروں کے اساتذہ کو اسلحہ چلانے کی تربیت بھی فراہم کی گئی تھی اور اب خیبرپختوںخواہ کی صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ اساتذہ کو اسلحہ کے لائسنس کے حصول میں سہولت فراہم کرے گی۔

حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور رکن صوبائی اسمبلی شوکت یوسفزئی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ حکومت کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ تمام تعلیمی اداروں کے لیے پولیس کی نفری تعینات کرے اور اساتذہ کو اگر تحفظ کے لیے اسلحہ رکھنا پڑتا ہے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔

"65 ہزار کے قریب تعلیمی ادارے ہیں خیبر پختونخوا میں اور 55 سے 60 ہزار کے قریب پولیس اہلکار ہیں تو یہ تو تعداد ہی کم ہوتی ہے اور جو لوگ کہتے ہیں کہ تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہوں گی تو اساتذہ کو یہ اجازت نہیں ہوگی کہ وہ اسلحہ لہرا کر چلیں وہ اسلحہ اگر چھپا کر لے جا سکتے ہیں تو اس صورت میں یہ اجازت دی جا سکتی ہے جب تک حالات ٹھیک نہیں ہوتے۔"

لیکن بعض سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ اساتذہ کا کام قلم اٹھانا ہے ہتھیار نہیں۔ سول سوسائٹی کے ایک سرگرم کارکن سکندر زمان کہتے ہیں کہ تعلیمی اداروں میں اسلحہ لے کر جانے سے طلبا پر مضر اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

"ان کو چاہیئے کہ اور اقدامات کریں تاکہ ہمارے شہر محفوظ ہوں ذہنی طور پر اور جسمانی طور پر یہ لوگ پرسکون ہوں تو یہ لوگ تعلیم حاصل کریں گے اب یہ استاد کو اسلحے کا لائسنس دے رہے ہیں اب وہ اسلحہ کلاس روم میں لے کر جائے گا تو میں نہیں سمجھتا کہ وہ بچوں کو پڑھانے میں زیادہ توجہ دے گا یا اس اسلحے کو سنبھالنے پر زیادہ توجہ دے گا ان کو کوئی اور طریقہ نکالنا چاہیئے۔"

گزشتہ بدھ کو باچاخان یونیورسٹی میں ہونے والے دہشت گرد حملے کے دوران یہاں ایک پروفیسر نے بھی اپنے اسلحے کے ساتھ دہشت گردوں کا مقابلہ کیا تھا۔ گوکہ یہ پروفیسر حامد حسین خود تو جان کی بازی ہار گئے لیکن طلبا کی حفاظت کے لیے ان کی کوشش کو بہت سراہا گیا۔

لیکن یہ امر قابل ذکر ہے کہ گزشتہ سال جون میں مینگورہ کے ایک اسکول میں ایک 12 سالہ طالب علم اس وقت ہلاک ہوگیا تھا جب اسکول کا ایک استاد اسٹاف روم میں بیٹھ کر اپنے پستول کی صفائی کر رہا تھا کہ حادثاتی طور پر اچانک گولی چل گئی جو اس طالب علم کی موت کا سبب بنی۔

XS
SM
MD
LG