رسائی کے لنکس

بنگلہ دیش میں سیاسی رہنماؤں کی پھانسی پر تشویش ہے: پاکستان


پاکستانی دفتر خارجہ

پاکستانی دفتر خارجہ

پاکستانی دفتر خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ 9 اپریل 1974ء کو پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے مطابق بنگلہ دیش کو مفاہمت کی ضرورت ہے۔

پاکستان نے بنگلہ دیش میں حزب مخالف کے دو سینیئر رہنماؤں کو جنگی جرائم کے الزامات میں پھانسی دیے جانے پر گہری تشویش اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

اتوار کو دفتر خارجہ سے جاری ہونے والے بیان میں ترجمان قاضی خلیل اللہ کا کہنا تھا کہ پاکستان 1971ء کے واقعات کے تناظر میں بنگلہ دیش میں جاری ان کے بقول متعصب عدالتی کارروائی اور اس ضمن میں عالمی برادری کے ردعمل کو بھی دیکھ رہا ہے۔

ڈھاکا کی جیل میں اتوار کو علی الصبح جماعت اسلامی کے سینیئر رہنما علی احسن محمد مجاہد اور بنگلہ دیش نیشنل پارٹی کے رہنما صلاح الدین قادر چودھری کو پھانسی دی گئی تھی۔

ان دونوں پر 1971ء کی جنگ کے دوران نسل کشی اور دانشوروں کے قتل عام میں ملوث ہونے کا الزام تھا اور خصوصی ٹربیونل نے انھیں 2013ء میں سزائے موت سنائی تھی۔

بنگلہ دیش پہلے پاکستان کا حصہ تھا لیکن 1971ء میں ایک جنگ کے نتیجے میں یہ علیحدہ ریاست بنا۔ بنگلہ دیش اسے جنگ آزادی کہتا ہے۔ وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے 2010ء میں ایک خصوصی ٹربیونل تشکیل دیا تھا جو اس جنگ کے دوران جنگی جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کے مقدمات کی شنوائی کر رہا ہے۔

یہ ٹربیونل اب تک حزب مخالف کے متعدد رہنماؤں کو سزائے موت سنا چکا ہے۔ حزب مخالف کی جماعتوں کا الزام ہے کہ حکومت سیاسی بنیادوں پر اپنے مخالفین کو اس ٹربیونل کے ذریعے نشانہ بنا رہی ہے جب کہ وزیراعظم اس الزام کو مسترد کرتی ہیں۔

پاکستانی دفتر خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ 9 اپریل 1974ء کو پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے مطابق بنگلہ دیش کو مفاہمت کی ضرورت ہے۔ ترجمان کے بقول اس معاہدے میں 1971ء کے واقعات کو فراموش کر کے آگے بڑھنے کی سوچ اپنانے پر زور دیا گیا اور اس پر عمل پیرا ہونے سے خیرسگالی اور ہم آہنگی کو فروغ ملے گا۔

پاکستان کے سرکاری میڈیا کے مطابق وفاقی وزیرداخلہ چودھری نثار علی خان نے بھی بنگلہ دیش میں سیاسی رہنماؤں کو دی گئی پھانسیوں پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "جو کچھ بنگلہ دیش میں ہورہا ہے ہو وہ اخلاقیات، عالمی قوانین اور انسانی حقوق کی پامالی ہے" اور ان کے بقول دونوں ملکوں کے عوام کو ماضی کی تلخیاں بھلا کر تعلقات کو آگے بڑھانا چاہیے۔

پاکستان کی طرف سے پہلے بھی بنگلہ دیش میں حزب مخالف کے سیاسی رہنماؤں کو دی گئی سزائے موت پر شدید ردعمل سامنے آچکا ہے جس پر ڈھاکا کا کہنا ہے کہ یہ سزائیں قانون کے مطابق ہیں اور اسلام آباد اس کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے باز رہے۔

پاکستان میں مبصرین بھی بنگلہ دیش کے خصوصی ٹربیونل کے تحت دی جانے والی سزاؤں پر انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں کی طرح تحفظات کا اظہار کرتے ہیں۔

سینیئر تجزیہ کار ڈاکٹر اے زیڈ ہلالی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ بنگلہ دیش کو بین الاقوامی قوانین کو مدنظر رکھتے ہوئے اور عالمی برادری میں اپنی ساکھ کو برقرار رکھنے کے لیے سیاسی مخالفین کے نقطہ نظر کو بھی اہمیت دینی چاہیے۔

"ٹھیک ہے بنگلہ دیش کا ایک ذاتی یا ایک اندرونی مسئلہ ہے اس کی اپنی سلامتی ہے اپنی خودمختاری ہے اس کا احترام کرتے ہیں ضابطے موجود ہیں تو ان ضابطوں کے مطابق بہت ساری چیزیں ایک دوسرے ممالک پر لاگو ہوتی ہیں اس کو بھی ملحوظ خاطر رکھیں اور عالمی برادری کو سامنے رکھنا پڑتا ہے اگر قاہرہ میں مصر کی قیادت جنرل السیسی بھی عالمی رائے عامہ کو سامنے رکھ کر بہت سارے اقدامات سے پرہیز کر رہی ہے اس لیے کہ ان کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے تو پھر بنگلہ دیش میں حسینہ واجد کی حکومت یہ چیزیں کیوں نہیں سامنے رکھتی۔"

پروفیسر طلعت وزارت کہتی ہیں کہ ماضی قریب میں نیلسن منڈیلا کی مصالحانہ پالیسی اس چیز کی ایک زندہ مثال ہے جس سے کوئی بھی ملک اپنے ہاں نسلی اور سیاسی تفریق کو مزید بڑھانے کی بجائے مفاہمت کو فروغ دے سکتا ہے۔

"حکومت کا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ جو بدمزگی ہو گئی ہے جو کچھ بھی ہو گیا ماضی میں اس کو بھول کے لوگوں کو اپنے ساتھ لے کر آگے بڑھے اس تناظر میں نیلسن منڈیلا کی میں بڑی مداح ہوں کیونکہ نیلسن منڈیلا کے ملک میں تو جس طرح سے سفید فام اقلیت نے افریقی اکثریت سے سلوک کیا تھا سب کچھ انھوں نے بھلا دیا انھوں نے پوری قوم کو ایک ساتھ لے کر چلنے کی کوشش کی اور اس میں بہت حد تک کامیاب ہوئے۔"

بنگلہ دیش کا کہنا ہے کہ وہ جنگ آزادی میں پیش آنے والے "اندوہناک واقعات" میں ملوث عناصر کو سزا دے کر اپنا قومی فرض پورا کر رہا ہے۔

XS
SM
MD
LG