رسائی کے لنکس

’پاک چین فوجی تعاون کسی ملک کے خلاف نہیں‘

  • گ

’پاک چین فوجی تعاون کسی ملک کے خلاف نہیں‘

’پاک چین فوجی تعاون کسی ملک کے خلاف نہیں‘

پاکستان نے کہا ہے کہ چین کے ساتھ فوجی شعبے میں اُس کا تعاون کسی ملک کے خلاف نہیں ہے اور انسداد دہشت گردی کے لیے کی جانے والی مشترکہ کوششوں میں بہتری علاقے کو درپیش اس خطرے سے نجات دلانے میں معاون ثابت ہو گی۔

جمعرات کو جہلم میں دہشت گردی کے خلاف پاک چین مشترکہ فوجی مشقوں کے اختتام پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعاون میں اضافے سے چین اور پاکستان میں دہشت گردی کے خطرے کو اگر ختم نہیں تو اسے کم ضرور کیا جا سکے گا۔ ’’اور اگر ہم ایسا کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں تو اس کے اثرات براہ راست خطے کے استحکام پر ہوں گے۔‘‘

اُنھوں نے کہا کہ چین بھی دہشت گردی کے مسئلے سے دوچار ہے مگر اس کی نوعیت پاکستان کے مقابلے میں بہت محدود ہے۔

جنرل کیانی کا کہنا تھا کہ چینی سرزمین پر سرگرم عمل کالعدم شدت پسند تنظیم ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ (ای ٹی آئی ایم) کے خلاف چین کی کوششوں میں پاکستان قریبی تعاون کر رہا ہے۔

اُنھوں نے بتایا کہ کھیلوں کے عالمی مقابلوں یا اولمپکس اورحال ہی میں شنگھائی میں ہونے والی بین الاقوامی نمائش کے موقع پر ای ٹی آئی ایم کی طرف سے تخریبی کارروائیوں کے امکانات کو کم کرنے کی کوششوں میں بھی اُن کے ملک نے چینی حکام کے ساتھ قریبی تعاون کیا تھا۔

’’ای ٹی آئی ایم کے وہ عناصر جو پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقوں میں سرگرم عمل ہیں حتیٰ کہ اُن کے خلاف بھی ہمارے درمیان بہت قریبی تعاون رہا ہے۔ ہم خفیہ معلومات کا تبادلہ کرتے ہیں۔ چین کو ای ٹی آئی ایم اور دیگر شدت پسندوں سے درپیش خطرات کو ختم کرنے کے لیے ہم نے اپنے طور پر ہر ممکن کوشش کی ہے کیونکہ چین کی سلامتی پاکستان کو بہت عزیز ہے۔‘‘

پاکستانی فوج کے سربراہ نے کہا کہ چین میں بھی پاکستان کے لیے ایسے ہی جذبات کا اظہار کیا جاتا ہے کیونکہ چینی قیادت بھی پاکستان کی خودمختاری کی حامی ہے۔

پاکستان اور چین کے مابین خصوصاً دفاعی شعبے میں حالیہ دنوں میں قربت بڑھی ہے اور دفاعی مبصرین کے خیال میں اس کی وجہ واشنگٹن اور اسلام آباد کے درمیان دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں حکمت عملی پر بڑھتے ہوئے اختلافات ہیں۔

XS
SM
MD
LG