رسائی کے لنکس

سیاچن آپریشن: غیر ملکی ماہرین کی پاکستان آمد کا سلسلہ جاری


متنازع سیاجن گلیشئر کے گیاری سیکٹر میں برفانی تودے کی زد میں آنے والے پاکستانی فوج کے بٹالین ہیڈکوارٹرز تک رسائی کے لیے کھدائی کا کام مسلسل ساتویں روز جمعہ کو بھی جاری رہا۔

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ خراب موسمی حالات، شدید برفانی طوفان اورسخت سردی کے باوجود امدادی کارکن منوں برف کے نیچے دب جانے والے افراد کی تلاش میں مصروف عمل ہیں۔

گزشتہ ہفتہ کو طلوع آفتاب سے قبل پیش آنے والے اس حادثے میں ناردرن لائٹ انفینٹری کے بٹالین ہیڈکوارٹرز میں تعینات کم از کم 124 فوجی بشمول بٹالین کمانڈر اور عملے کے شہری ارکان برف تلے دب گئے تھے۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ’آئی ایس پی آر‘ نے جمعہ کو ایک بیان میں بتایا ہے کہ 450 سے زائد افراد امدادی کاموں میں شریک ہیں جن کی معاونت کے لیے امریکہ، جرمنی اور سوئٹزرلینڈ کے ماہرین کو زمینی اور فضائی راستے سے جائے حادثہ تک پہنچانے کے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔

’’امدادی آپریشن میں مصروف فوجیوں کے حوصلے بلند ہیں، اور وہ برف تلے دبے اپنے ساتھیوں کو باہر نکالنے کے لیے پُرعزم ہیں۔ نقطہ انجماد سے انتہائی کم درجہ حرات برف کی کھدائی کے لیے زیر استعمال بلڈوزروں اور دیگر بھاری آلات کی کارکردگی کو بھی متاثر کر رہا ہے۔‘‘

حکام کا کہنا ہے کہ بٹالین ہیڈکوارٹر کی عمارت تک پہنچنے کے لیے ایک مقام پر کھدائی کرنے والے امدادی کارکنوں کو قرب و جوار میں برف کے 145 فٹ بلند ڈھیر اور گہرائی کی وجہ سے سخت سرد حالات کا سامنا ہے۔

امدادی کاموں میں شرکت کے لیے چین اور ناروے کے کوہ پیمائی کے ماہرین پر مشتمل ٹیموں کی بھی جلد پاکستان آمد متوقع ہے۔

جمعہ کو اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی سفیر کیمرون منٹر نے کہا کہ جس طرح 2005ء میں زلزلے اور 11-2010ء سیلاب کے دوران امریکہ نے امدادی کارروائیوں میں مدد کی تھی، اسی طرح سیاچن پر پیش آنے والے حادثے میں بھی امریکی ماہرین کو اپنا کردار ادا کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے۔

’’ہمارے ماہرین کی ٹیم پاکستانی فوج کے ساتھ مل کر اُس کی ہدایات کے مطابق یہ جائزہ لینے میں مصروف ہے کہ سیاچن پر پیش آنے والے ہولناک حادثے کا شکار افراد کے سلسلے میں وہ امدادی کارروائیوں میں کیا کردار ادا کر سکتے ہیں۔‘‘

گیاری سیکٹر تقریباً 15 ہزار فٹ کی بلندی پر واقع ہے اور یہ متنازع سیاچن گلیشئر پر تعینات پاکستانی افواج تک رسائی کے لیے ایک مرکزی گزرگاہ ہے۔ اس مقام پر دو پہاڑوں کے درمیان بٹالین ہیڈکوارٹر 20 سال قبل قائم کیا گیا تھا اور اس وادی میں اپنی نوعیت کا یہ پہلا حادثہ ہے۔

دنیا کے بلند ترین محاذ جنگ سیاچن گلیشئر پر بھارتی اور پاکستانی افواج کی موجودگی روز اول سے باعث تنقید رہی ہے کیوں کہ 1984ء میں شروع ہونے والا یہ تنازع اب تک دونوں جانب بھاری جانی نقصانات کا باعث بن چکا ہے لیکن 95 فیصد ہلاکتوں کی وجہ شدید موسمی حالات بنے ہیں۔

پاکستانی فوج کی تنصیب پر برفانی تودہ گرنے کے تازہ واقع کے بعد ایک بار پھر سیاچن سے دونوں ممالک کی افواج کے انخلاء کے مطالبات زور پکڑ گئے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ افواج کی موجودگی کی وجہ سے گلیشئر تیزی سے پگھلنا شروع ہو گیا ہے۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG