رسائی کے لنکس

حزب التحریر سے تعلق کے شبہے میں مزید افسران زیر تفتیش


حزب التحریر سے تعلق کے شبہے میں مزید افسران زیر تفتیش

حزب التحریر سے تعلق کے شبہے میں مزید افسران زیر تفتیش

ترجمان نے ذرائع ابلاغ کو ایک روز قبل دیے گئے بیان میں انکشاف کیا تھا کہ راوالپنڈی میں فوج کے ہیڈ کوارٹرز جی ایچ کیو میں تعینات بریگیڈئیر علی خان نامی افسر کو اس کالعدم تنظیم کے ساتھ روابط کے الزام میں حراست میں لے لیا گیا ہے اور اُن سے تفتیش جاری ہے۔

پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس نے کہا ہے کہ کالعدم تنظیم حزب التحریر سے تعلق کے شبہے میں میجر رینک کے چار مزید افسران سے تفتیش کی جارہی ہے لیکن اُنھیں حراست میں نہیں لیا گیا ہے۔

”چار اور افسر شامل تفتیش کیے گئے ہیں۔ ابھی تک کی گئی تحقیقات میں بظاہر اُن کے بھی رابطے اس تنظیم کے ساتھ ہیں اور ابھی مزید تفتیش ہوگی تو باقی چیزیں سامنے آئیں گی۔ “

ترجمان نے ذرائع ابلاغ کو ایک روز قبل دیے گئے بیان میں انکشاف کیا تھا کہ راوالپنڈی میں فوج کے ہیڈ کوارٹرز جی ایچ کیو میں تعینات بریگیڈئیر علی خان نامی افسر کو اس کالعدم تنظیم کے ساتھ روابط کے الزام میں حراست میں لے لیا گیا ہے اور اُن سے تفتیش جاری ہے۔

برگیڈیئر علی خان

برگیڈیئر علی خان

جنرل عباس کا کہنا ہے کہ فوجی افسران سے پوچھ گچھ بریگیڈیئر خان کی حراست کی کڑی ہے تاہم اُنھوں نے مزید تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔ اُن کا کہنا ہے کہ فوج کے ادارے میں کسی بھی ایسی تنظیم یا سوچ کو فروغ دینے کی اجازت نہیں دی جاتی ہے اور اگر الزام ثابت ہوا تو ماضی کی طرح بریگیڈیئر خان کے خلاف بھی فوجی قوانین کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔

بریگیڈئیر خان اگلے دو ماہ میں فوج سے ریٹائر ہونے والے ہیں۔ جنرل عباس کا کہنا ہے کہ ’’تاحال اُن پر باضابطہ طور پر کوئی فرد جرم عائد نہیں کی گئی ہے نا ہی تفتیش ابھی آخری مراحل میں داخل ہوئی ہے بلکہ اس میں کچھ اور وقت لگے گا۔‘‘

زیر حراست بریگیڈیئر خان کی بیوی نے ذرائع ابلاغ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ اُن کے شوہر مذہبی رجحان کے حامل فوجی افسر ضرور ہیں لیکن محض امریکہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے اُنھیں گرفتار کیا گیا ہے۔

جنرل عباس نے اس الزام کی تردید کرتے ہوئے عندیہ دیا ہے کہ فوجی افسر کی حراست پاکستانی فوج کے لیے ایک سنجیدہ اور حساس معاملہ ہے۔

”جب اتنے کسی سینیئر افسر کی گرفتاری ہوتی ہے تو یہ معاملہ کبھی بھی نہیں ہے کہ صرف مذہبی ہونے کی بنیاد پہ یا رجت پسندی یا خیالات کی بنیاد پہ کسی کی گرفتاری عمل میں آئے۔ لیکن جب تک کسی کے عمل میں قانون اور ضابطے کی خلاف ورزی نہ ہو اور وہ کوئی ایسی قانون شکنی نہ کرے جو کہ پورے ادارے کے مفاد کے منافی ہو تب تک کسی قسم کی گرفتاری عمل میں نہیں آتی ہے۔ “

حزب التحریر ایک اسلامی تنظیم ہے اور دارالحکومت اسلام آباد سمیت ملک کے دیگر شہروں میں مختلف مقامات پر آویزاں چھوٹے بڑے پمفلٹس میں درج تحریروں میں یہ تنظیم فوجی قیادت سے پاکستان کے سیاسی حکمرانوں کو برطرف کرنے کا مطالبہ کرتی ہے۔ دارالحکومت کی سڑکوں کے کنارے بجلی کے کھمبوں پر چسپاں اشتہارات پر ”امریکہ کو بھگاؤ غداروں کو ہٹاؤ“ کا نعرہ درج ہے۔

حزب التحریر دیگر مسلمان ملکوں میں بھی ایسی ہی تحاریک کی حمایت کرتی ہے اس لیے ان ملکوں کی حکومتوں نے تنظیم پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔ لیکن امریکہ اور برطانیہ میں یہ تنظیم خاصی سرگرم ہے۔

XS
SM
MD
LG