رسائی کے لنکس

بھارت میں ہائی کمیشن کی سکیورٹی بڑھائی جائے: پاکستان


ترجمان تسنیم اسلم

ترجمان تسنیم اسلم

تسنیم اسلم نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ’’کچھ دھمکیاں ملی تھیں اور ہم نے یہ معاملہ نئی دہلی میں بھی، اور اسلام آباد میں بھارت کے ہائی کمیشن کے سامنے اُٹھایا ہے۔‘‘

پاکستان نے بھارت سے کہا ہے کہ نئی دہلی میں اُس کے ہائی کمیشن کی سکیورٹی کو بڑھایا جائے۔

یہ مطالبہ بھارت میں پاکستانی ہائی کمیشن کو ملنے والے دھمکی آمیز خط کے بعد کیا گیا۔

دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے بدھ کو وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ ’’کچھ دھمکیاں ملی تھیں اور ہم نے یہ معاملہ نئی دہلی میں بھی، اور اسلام آباد میں بھارت کے ہائی کمیشن کے سامنے اُٹھایا ہے۔‘‘

تسنیم اسلم نے کہا کہ سکیورٹی فراہم کرنا بھارت کی ذمہ داری ہے اور ہم نے بھارتی حکام سے کہا ہے کہ وہ اس ضمن میں ضروری اقدامات کریں۔

’’ہم نے اُن سے کہا کہ وہ تفتیش کریں کہ یہ دھمکیاں کہاں سے آ رہی ہیں۔‘‘

بھارتی ذرائع ابلاغ نے مقامی عہدیداروں کے حوالے سے کہا ہے کہ پاکستانی ہائی کمیشن کی سکیورٹی پہلے ہی بڑھائی جا چکی ہے۔

تاہم نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کو ملنے والی دھمکیوں کی نوعیت کے بارے میں سرکاری طور کچھ نہیں کہا گیا۔

گزشتہ ہفتے پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے پڑوسی ملک بھارت کی ایک بڑی سیاسی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے وزارت عظمیٰ کے امیدوار نریندر مودی کے پاکستان سے متعلق بیان کو 'اشتعال انگیز' قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا تھا۔

نریندر مودی نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ اگر وہ وزیر اعظم منتخب ہوئے تو وہ بھارت کو مطلوب داؤد ابراہیم کو پاکستان سے بھارت لے کر آئیں گے۔

پاکستانی وزیر داخلہ نے نریندر مودی کے اُس بیان کو 'غیر ذمہ دارانہ اور شرمناک' قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ خطے میں امن کے لیے پاکستان کی کوششوں کو اس کی کمزوری نا سمجھا جائے۔

بیانات کے اس تبادلے پر مبصرین کا کہنا ہے کہ بظاہر یہ بھارت میں جاری انتخابی مہم کا حصہ ہیں اور دہلی میں نئی حکومت کے قیام کے بعد صورت حال معمول پر آ جائے گی۔

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف اور اُن کی حکومت کے اعلیٰ عہدیدار یہ کہتے آئے ہیں خطے میں ترقی و استحکام کے لیے اسلام آباد بین الاقوامی برادری خاص طور پر اپنے پڑوسی ممالک سے اچھے دوستانہ تعلقات چاہتا ہے۔

منگل کو بھی وزیراعظم نواز شریف نے پاکستانی سفیر کے ایک اجلاس سے خطاب میں کہا تھا کہ پاکستان اور بھارت دوطرفہ مسائل کو حل کرنے کے لیے ایک دوسرے تعاون کر کے اپنی توانائی عوام کی خواہشوں کی تکمیل پر صرف کر سکتے ہیں۔
XS
SM
MD
LG