رسائی کے لنکس

جمہوری نظام کی کامیابی کا انحصار بہتر طرز حکمرانی پر ہے:مبصرین


پارلیمنٹ ہاؤس

پارلیمنٹ ہاؤس

مبصرین کا کہنا ہے کہ ملک میں سیاسی اور جمہوری نظام کو مضبوط بنانے کے لیے تمام اداروں کا اپنے آئینی دائر اختیار میں رہتے ہوئے کام کرنا ناگزیر ہے۔

دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی اتوار کو جمہوریت کا عالمی دن منایا گیا۔

رواں سال ہی ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ عام انتخابات کے ذریعے دو سیاسی جمہوری قوتوں کے درمیان اقتدار کی منتقلی ہوئی جسے نا صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں سراہتے ہوئے عوام کی خوشحالی اور بہبود کے لیے ناگزیر قرار دیا گیا۔

سابق حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے قانون ساز سعید غنی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں جمہوری نظام کے استحکام کے عمل کی ابھی شروعات ہوئی ہے اس لیے سیاسی جمہوری قوتوں کو مزید پرعزم اور محتاط انداز میں اس بارے میں اقدامات کرنا ہوں گے۔

’’جو قوتیں فوجی آمروں کے دنوں میں پروان چڑھتی ہیں انہیں جمہوریت کا احساس و اندازہ ہوتا نہیں اور اس نظام میں اپنے آپ کو مس فٹ اور عوام کے لیے مضر سمجھتے ہیں جب تک ایک عرصہ نہیں گرز جاتا جس میں سے یہ ذہنیت یا نسل نکل جائے تب تک استحکام ممکن نہیں۔‘‘

1947 میں برطانوی راج سے آزادی کے بعد سے پاکستان مسلسل سیاسی طور پر عدم استحکام کا شکار رہا اور فوجی مداخلت کی وجہ سے کوئی جمہوری حکومت اپنے پانچ سال پورے نا کر پائی جسے ملک کی ترقی میں ایک بڑی رکاوٹ گردانا جاتا ہے۔

مبصرین کے مطابق مستقبل قریب میں ماضی کی طرح کسی فوجی مداخلت کا امکان نہیں مگر ان کا کہنا ہے کہ ملک میں جمہوری نظام کی کامیابی کا انحصار بہتر طرز حکمرانی پر ہے۔

جمہوری نظام سے متعلق تحقیقات کرنے والی غیر سرکاری تنظیم پلڈاٹ کی ڈائریکٹر آسیہ ریاض کہتی ہے کہ سیاسی قوتوں کے لیے جمہوری نظام کے استحکام کے لیے پارلیمان کی کارکردگی اور بہتر گورنس سب سے بڑے چیلنج ہیں۔

’’جمہوریت بطور نظام تو بہت اچھا ہے۔ آپ اور میں اس کی تعریف بھی کرتے ہیں مگر اس کا استحکام گورننس سے منسلک ہے۔ جو پاکستان کے مسائل ہیں۔ جو اس کے عوام کے اپنے نمائندوں سے امیدیں ہیں کہ وہ حل کر سکیں گے۔ وہ بہت اہم ہے آگے بڑھنے کے لیے۔‘‘

ملک کو درپیش مسائل میں پارلیمان کے کردار کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا۔

’’بحران آتے ہیں جاتے ہیں مگر پارلیمان انہیں سنبھالنے کے اس عمل سے مکمل طور پر باہر ہوتی ہے۔ نا تو کوئی نتیجہ خیز وہاں بحث ہوتی ہے اور نا ہی کسی نتیجے پر پہنچنے کے لیے کوئی کردار ادا کرتی ہے۔ قوائد میں عوامی مسائل پر از خود نوٹس لینا پارلیمانی کمیٹیوں کا کام ہے مگر ان کی بجائے سپریم کورٹ لیتی ہے۔‘‘

مبصرین کا کہنا ہے کہ ملک میں سیاسی اور جمہوری نظام کو مضبوط بنانے کے لیے تمام اداروں کا اپنے آئینی دائر اختیار میں رہتے ہوئے کام کرنا ناگزیر ہے۔
XS
SM
MD
LG