رسائی کے لنکس

لانگ مارچ کے پرامن خاتمے کا عمومی خیر مقدم


(فائل فوٹو)

(فائل فوٹو)

لیکن حزب مخالف کی بڑی جماعت مسلم لیگ (ن) کا کہنا ہے کہ حکومت اور طاہر القادری کے درمیان طے پانے والے معاہدے میں کوئی نئی بات نہیں ہے۔

پاکستان میں حالیہ دنوں میں سیاسی سرگرمیوں میں تیزی آئی ہے اور رواں ہفتے اسلام آباد میں مہناج القرآن کا چار دنوں تک جاری رہنے والا دھرنا حکومت سے مذاکرات کے بعد جمعرات کی شب ختم ہوا۔ جس کے بعد وفاقی دارالحکومت میں معمولات زندگی مکمل طور پر بحال ہونا شروع ہو گئے۔

حکومت میں شامل جماعتیں دھرنے کے پرامن خاتمے کو ایک مثبت پیش رفت قرار دے رہی ہیں۔

لیکن حزب مخالف کی بڑی جماعت مسلم لیگ (ن) کا کہنا ہے کہ حکومت اور طاہر القادری کے درمیان طے پانے والے معاہدے میں کوئی نئی بات نہیں ہے۔

مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف نے جمعہ کو اس بارے میں صحافیوں سے گفتگو میں کہا ’’ اس کا مطلب ہے (طاہر القادری) کا پیپلز پارٹی کے ساتھ اتحاد ہو چکا ہے، کل کس طرح سے وہ ایک دوسرے کے گلے لگ رہے تھے۔ مجھے بتائیں نکلا کیا۔۔۔ پھر مک مکا ہے نا، جو کل آپ کے سامنے آیا ہے۔‘‘

ادھر پاکستان میں امریکہ کے سفیر رچرڈ اولسن نے جمعہ کو اسلام آباد میں ایک تقریب میں شرکت کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو میں کہا کہ وہ وفاقی دارالحکومت میں لانگ مارچ کے پرامن اختتام پر مطمئن ہیں۔

سفیر اولسن نے کہا کہ ان کا ملک پاکستان کی کسی ایک سیاسی جماعت یا شخصیت کی حمایت نہیں کرتا بلکہ امریکہ جمہوریت کا حامی ہے۔

امریکی سفیر نے کہا کہ ان کا ملک سمجھتا ہے کہ آئین کے مطابق آزادانہ اور شفاف انتخابات ہی پاکستان کا مستقبل ہیں۔


دریں اثناء حکمران اتحاد میں شامل جماعتیں بھی جمعرات کی شب طاہر القادری اور حکومت کے درمیان اسلام آباد میں طے پانے والے معاہدے کو ملک میں جمہوری عمل کے لیے ایک مثبت پیش رفت قرار دے رہی ہیں۔

وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ نے طاہرالقادری کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کے بعد کہا تھا کہ ’’نظریہ مفاہمت کی آج جیت ہوئی ہے کہ ہم تمام جماعتوں کے لوگ، آج اس فورم پر اکٹھے ہو کر پاکستان کی جمہوریت کو مضبوط کر رہے ہیں اور دنیا کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ اس ملک کا علاج صرف جمہوریت ہے، مزید جمہوریت ہے۔‘‘

حکومت میں شامل جماعتوں کے 10 ارکان اور طاہر القادری کے درمیان کامیاب مذاکرات کے بعد طے پانے والے معاہدے کے مطابق قومی اسمبلی کو 16 مارچ سے قبل تحلیل کر دیا جائے گا جب کہ نگران وزیر اعظم کے لیے حکومت اور طاہر القادری کی سیاسی جماعت عوامی تحریک متفقہ طور پر نگران وزیر اعظم کے لیے دو نام پیش کرے گی۔

معاہدے کے مطابق الیکشن کمیشن کی تشکیل نو سے متعلق طاہر القادری کی تجویز پر مشاورت جاری رکھی جائے گی اور اس حوالے سے آئندہ اجلاس 27 جنوری کو طے پایا ہے۔
XS
SM
MD
LG