رسائی کے لنکس

ڈینگی کے مریضوں میں مسلسل اضافہ

  • حسن سید

ڈینگی ایک خاص قسم کے مچھر کے کاٹنے سے ہوتا ہے

ڈینگی ایک خاص قسم کے مچھر کے کاٹنے سے ہوتا ہے

مقامی اور بین الاقوامی ماہرین پاکستان میں ڈینگی بخار سے متاثرہ مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافے پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں، کیونکہ حالیہ تباہ کن سیلابوں کی وجہ سے اس بیماری نے ملک کے بعض نئے علاقوں کو بھی اپنی گرفت میں لیا ہے۔

عالمی ادارہ صحت ڈبلیو ایچ او سے منسلک وبائی امراض کی ماہر ڈاکٹر رعنا کاکڑ کا کہنا ہےکہ پاکستان میں 2005 کے بعد ایک سے زیادہ مرتبہ ڈینگی بخار کا حملہ ہو چکا ہے۔ لیکن سیلاب زدہ علاقوں میں کھڑے پانی میں ڈینگی کا سبب بننے والے مچھروں کی افرائش سے ایسے علاقوں میں بھی لوگ متاثر ہوئے ہیں جہاں اس سے پہلےڈینگی کا کوئی نام ونشان نہیں تھا۔

انھوں نے بتایا’’اس وقت مختلف علاقوں میں صورت حال مختلف ہے، صوبہ خیبر پختونخواہ میں اب حالات بحالی کی طرف بڑھتے دکھائی دے رہے ہیں، جبکہ صوبہ سندھ خاص طور پر اس کے ضلع دادو میں جہاں سیلابی پانی کھڑا ہے اور لوگ پھنسے ہوئے ہیں وہاں بدستور ہنگامی صورتحال ہے۔‘‘

ڈاکڑ رعنا کا کہنا ہےکہ عالمی ادارہ صحت اس خطرے سے نمٹنے کے لیے پاکستانی محکمہ صحت کے عہدیداروں کے ساتھ مل کربھرپور کوششیں کر رہا ہے اورمختلف متاثرہ علاقوں میںماہرین بھی تعینات کیے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ زیادہ توجہ ان علاقوں پر دی جا رہی ہےجہاں حالیہ بد ترین سیلاب کی وجہ سے صحت کے مراکز تباہ ہو چکے ہیں اور طبی سہولتوں کا فقدان ہے۔

’’ جن لوگوں میں ڈینگی بخار کی علامات ظاہر ہوتی ہیں، ان میں 95 فیصد مریض ایسے ہوتے ہیں جنہیں کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوتا اور اگر وہ مکمل آرام کریں اورصرف پیراسیٹامول دوا کھا لیں تو بغیر کسی معالج کے تین سے چار روز میں صحت یاب ہو سکتے ہیں۔‘‘

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ دو ہفتوں کے دوران ڈینگی بخار کے تقریباً چار ہزار مشتبہ کیس سامنے آئے جن میں سے 1500 سے دو ہزار میں اس بیماری کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ15ہلاکتیں رپورٹ کی گئیں۔

دارالحکومت اسلام آباد کے پمز ہسپتال کے ترجمان ڈاکڑ وسیم خواجہ نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ اسپتال میں روزانہ ڈینگی بخارکے تقریباً ڈیڑھ سو مشتبہ مریض لائے جا رہے ہیں جن میں سے 10 سے 15 افراد میں اس کی تصدیق ہو رہی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ اسپتال میں اس مرض سے نمٹنے کے لیے خصوصی وارڈ قائم کیے گئے ہیں اور میڈیکل ٹیم تشکیل دی گئی ہے جس نے اب تک اڑھائی سو کے قریب مریضوں کا کامیاب علاج کیا ہے اور کسی ایک کی بھی موت واقع نہیں ہوئی۔

ڈاکٹر وسیم نے بتایا کہ ڈینگی کی کم از کم تین اقسام ہیں جن کی علامات میں سر ،جسم اور ہڈیوں میں درد، جسم کے مختلف حصوں سے خون آنا ، خون کا دباؤ متاثر ہونا اور بے ہوشی شامل ہیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ڈینگی کی ہر قسم خطر ناک نہیں ہے۔

XS
SM
MD
LG