رسائی کے لنکس

ڈینگی وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد اور شرح اموات میں کمی


ڈینگی وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد اور شرح اموات میں کمی

ڈینگی وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد اور شرح اموات میں کمی

عالمی ادارہ صحت ’ڈبلیو ایچ او‘کا کہنا ہے کہ حالیہ ہفتوں کے دوران ملک بھر میں ڈینگی سے متاثرہ افراد کی تعداد میں ناصرف نمایاں کمی آنا شروع ہو گئی ہے بلکہ اس وائرس سے ہونے والی اموات کی شرح بھی کم ہوئی ہے۔

عالمی تنظیم کے اعلیٰ عہدیدار ڈاکٹر قطب الدین کاکڑ نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ درجہ حرارت میں کمی اور بھرپور آگاہی مہم کے باعث ڈینگی وائرس کے پھیلاؤ میں کمی واقع ہوئی ہے۔

’’جب درجہ حرارت اور نمی موافق ہوتی ہے تو (ڈینگی پھیلانے والا مچھر) زیادہ لمبے عرصے کے لیے جیتا ہے۔ لیکن جب نمی اوردرجہ حرارت میں کمی واقع ہوتی ہے تو اس کی زندگی صرف آٹھ دن رہ جاتی ہے اور پھر اس (مچھر) کے لیے ممکن نہیں ہوتا کہ وہ وائرس کو مزید منتقل کر سکے۔‘‘

محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ ڈینگی سے سب سے زیادہ صوبہ پنجاب متاثر ہوا جہاں لگ بھگ اس وائرس سے تین سو افراد ہلاک اور ہزاروں متاثر ہوئے جب کہ وفاقی دارالحکومت، کراچی اور صوبہ خیبر پختون خواہ سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں سینکڑوں افراد ڈینگی وائرس کا شکار بنے۔

پنجاب میں ڈینگی کے وبائی شکل اختیار کرنے کے بعد سے وفاقی اور صوبائی حکومت کی درخواست پر سری لنکا اور ملائیشیا کے طبی ماہرین کی ٹیمیں بھی ڈینگی وائرس پھیلانے والے مچھروں کو تلف کرنے کی مہم میں مقامی حکام کی مدد کے لیے پاکستان کا دورہ کر چکی ہیں جب کہ ڈبلیو ایچ او کی ایک ٹیم اب بھی ملک میں موجود ہے۔

ڈاکٹر قطب الدین کاکڑ نے عالمی ادارہ صحت کی طرف سے پاکستان میں ڈینگی وائرس کے خاتمے کے لیے کی جانے والی کوششوں کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا ’’اگلے پانچ سال کے لیے جو دفاعی حکمت عملی ہے پنجاب کی وہ ہم نے تیار کر دی ہے۔ سندھ کے لیے قلیل اور طویل المدتی حکمت عملی بنا دی ہے۔ ہم مقامی (طبی) اسٹاف کو تربیت بھی فراہم کر رہے ہیں۔‘‘

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ڈینگی وائرس صاف پانی میں پیدا ہونے والے مچھر کے کاٹنے سے پھیلتا ہے اور متاثرہ افراد کو شدید بخار اور جسم میں درد محسوس ہوتا ہے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مرض پیچیدہ ہو جائے تو جسم میں خون کے سرخ خلیے ’ریڈ بلڈ سیل‘ تیزی سے کم ہونا شروع ہوجاتے ہیں جس کے بعد مریض کے ناک اور منہ سے خون بھی آ سکتا ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اگر تیز بخار کی شدت میں کمی نا آئے تو فوری طور پر معالج سے رابطہ کرنا چاہیئے تاکہ بروقت علاج سے زندگی بچائی جا سکے۔

XS
SM
MD
LG