رسائی کے لنکس

ڈیرہ اسماعیل خان جیل پر حملے کا مبینہ 'ماسٹر مائنڈ' ہلاک

  • شمیم شاہد

فائل فوٹو

فائل فوٹو

حکمت اللہ عرف مطیع علاقے میں طالبان کا ایک سرگرم رکن تھا اور پولیس کو تین دیگر اہم مقدمات میں بھی مطلوب تھا۔

پاکستان کے شمال مغرب میں ڈیرہ اسماعیل خان جیل پر حملے کا مبینہ ماسٹر مائنڈ پولیس کے ساتھ جھڑپ میں ہلاک ہوگیا۔

خیبر پختونخواہ کے جنوبی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں پولیس حکام نے بتایا کہ اتوار کو خفیہ معلومات کی بنیاد پر تحصیل کولاچی کے ایک گاؤں میں مشتبہ دہشت گرد کے خلاف اہلکار کارروائی کرنے پہنچے، لیکن اس دوران شدت پسند کمانڈر نے پولیس پر فائرنگ شروع کردی۔

حکام کے مطابق فائرنگ کا تبادلہ تقریباً 30 منٹ تک جاری رہا ہے اور اس دوران مشتبہ دہشت گرد مارا گیا۔

ڈیرہ اسماعیل خان کے قائم مقام ضلعی پولیس افسر صادق بلوچ نے وائس آف امریکہ کو ہلاک ہونے والے شدت پسند کے بارے میں تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ " یہ اس علاقے کا ایک مشہور دہشت گرد تھا حکمت اللہ عرف مطیع، یہ ڈیرہ اسماعیل خان جیل حملے میں جو چار پانچ مرکزی حملہ آور تھے ان میں بھی شامل تھا اور ہمارے ہاں تین اہم مقدمات میں بھی مطلوب تھا۔ یہ طالبان کا ایک اہم رکن تھا۔"

انھوں نے بتایا کہ فائرنگ کے تبادلے میں ایک پولیس اہلکار شدید زخمی بھی ہوا۔

گزشتہ سال درجنوں مسلح شدت پسندوں نے ڈیرہ اسماعیل خان کی مرکزی جیل پر حملہ کرکے یہاں سے 175 کے قریب قیدیوں کو فرار کروایا تھا جن میں انتہائی اہم مقدمات میں ملوث 35 قیدی بھی شامل تھے۔

اتوار کو جس جگہ پولیس نے یہ کارروائی کی وہ قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان سے چند ہی کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔

دریں اثناء قبائلی علاقے خیبر ایجنسی کی تحصیل باڑہ میں حکومت کی حامی امن کمیٹی کے ارکان کو مشتبہ شدت پسندوں نے بم حملے سے نشانہ بنایا جس سے ایک شخص ہلاک اور تین زخمی ہوگئے۔

امن کمیٹی کے ارکان ایک گاڑی پر جارہے تھے کہ اس پر سڑک میں نصب بم سے حملہ کیا گیا۔

قبائلی علاقوں میں اس سے قبل بھی حکومت کے حامی قبائلیوں اور امن کمیٹیوں کے ممبران پر جان لیوا حملے ہوتے رہے ہیں۔

یہ واقعات ایک ایسے وقت رونما ہوئے جب رواں ماہ ہی کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے یہ کہہ کر چالیس روزہ فائر بندی ختم کرنے کا اعلان کیا تھا کہ حکومت نے مذاکراتی عمل میں پیش رفت کے لیے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کیے۔

فائر بندی کے خاتمے کے بعد خیبر پختونخواہ کے مختلف حصوں میں پولیس اہلکاروں پر حملوں اور تشدد کے دیگر واقعات میں کم از کم دس افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔
XS
SM
MD
LG