رسائی کے لنکس

پاکستان میں داعش کے کمانڈر سمیت تنظیم کے 309 افراد گرفتار: جنرل باجوہ


لیفٹیننٹ جنرل عاصم باجوہ

لیفٹیننٹ جنرل عاصم باجوہ

لیفٹیننٹ جنرل عاصم باجوہ کا کہنا تھا کہ ’داعش‘ کے پاکستان میں جتنے بھی لوگ تھے اُنھیں گرفتار کیا جا چکا ہے۔

پاکستان میں شدت پسند گروہ ’داعش‘ کی موجودگی سے متعلق حالیہ برسوں میں سوالات اُٹھائے جاتے رہے ہیں، تاہم اس بارے میں پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل عاصم باجوہ نے پہلی مرتبہ کھل کر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس تنظیم نے پاکستان میں منظم ہونے کی کوشش کی لیکن اُسے ناکام بنا دیا گیا۔


عاصم باجوہ نے جمعرات کو راولپنڈی میں ایک نیوز کانفرنس میں بتایا کہ داعش کے پاکستان میں سربراہ سمیت اس تنظیم سے وابستہ 309 افراد کو گرفتار کیا گیا جن میں غیر ملکی بھی شامل ہیں۔

’’تمام گرفتاریاں 309 ہوئیں، ان میں 25 غیر ملکی تھے، جن میں افغان بھی تھے اور شام و عراق کے لوگ بھی تھے۔۔۔۔ اور وہ لوگ بھی تھے جو داعش کے حق میں دیواروں پر تحریروں پر پکڑے گئے، دلچسپ بات یہ ہے کہ اُن میں سے کچھ لوگ ایسے بھی تھے جن کو ہزار، ہزار روپے دے کر اُن سے داعش کے حق میں وال چاکنگ کرائی گئی۔‘‘

فوج کے ترجمان کا کہنا تھا کہ کچھ افراد نے از خود سکیورٹی فورسز سے رابطہ کر کے بتایا کہ ’داعش‘ نے اُنھیں اپنے ساتھ شامل کرنے کی کوشش کی ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل عاصم باجوہ کا کہنا تھا کہ ’داعش‘ کے پاکستان میں جتنے بھی لوگ تھے اُنھیں گرفتار کیا جا چکا ہے۔

’’ان کا جو بنیادی یا مرکزی گروپ تھا، 20 سے 25 لوگوں کا بشمول اُن کے پاکستان میں کمانڈر حافظ عمر کے، سب کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔۔۔۔ ان کا ایک ساتھی نہیں پکڑا گیا اور مجھے یقین ہے کہ وہ پاکستان میں نہیں ہے۔‘‘

فوج کے ترجمان کے مطابق پاکستان میں داعش کے کمانڈر حافظ عمر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 15 اہلکاروں کو مارنے کے علاوہ پاکستان کے مختلف شہروں میں میڈیا ہاؤسز پر حملوں میں ملوث تھا۔

اُن کا کہنا تھا کہ یہ وہی لوگ تھے جنہوں نے مختلف میڈیا ہاؤسز کے دفاتر پر بھی دستی بم پھینکے اور اب یہ پورا نیٹ ورک پکڑا گیا ہے۔

فوج کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ’داعش‘ کے پکڑے گئے افراد سے تفتیش کے دوران معلوم ہوا ہے کہ وہ اسلام آباد میں دفتر خارجہ سمیت حساس سفارتی علاقے میں بھی حملہ کرنا چاہتے تھے۔

’’یہ وزارت خارجہ، ڈپلومیٹک انکلیو، اسلام آباد ائیر پورٹ، صحافیوں، سیاسی رہنماؤں، سول سوسائٹی کی اہم شخصیات اُن کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔‘‘

واضح رہے کہ افغانستان میں ’داعش‘ کے مارے جانے والے کمانڈر حافظ سعید کا تعلق بھی پاکستان سے تھا اور وہ ’داعش‘ میں شمولیت سے قبل پاکستانی طالبان کا حصہ تھا۔

امریکہ کے محکمہ دفاع نے گزشتہ ماہ ہی تصدیق کی تھی کہ حافظ سعید کو 26 جولائی کو افغانستان کے صوبہ ننگرہار کے ضلع اچین میں ہونے والی فضائی کارروائی میں ہلاک کیا گیا۔

داعش نے افغانستان کے مشرقی علاقوں میں قدم جماتے ہوئے اپنی سرگرمیوں میں اضافہ کیا تھا جہاں انھیں سکیورٹی فورسز کے علاوہ طالبان کی طرف سے بھی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔

پاکستانی فوج کے ترجمان نے کہا کہ پڑوسی ملک افغانستان میں ’داعش‘ کی موجودگی اُن کے ملک کے لیے خطرہ ہے۔

دہشت گردی کے خلاف جاری کارروائیوں کے بارے میں پاکستانی فوج کے ترجمان نے کہا کہ ملک بھر میں تمام دہشت گرد گروہوں کے خلاف بلاتفریق کارروائی جاری ہے۔

پاکستان فوج کے مطابق افغانستان کے ساتھ سرحد کی نگرانی کو بھی موثر بنایا جا رہا ہے تاکہ داعش سمیت کسی بھی طرح کے دہشت گرد نا تو پاکستان میں داخل ہو سکیں اور نا ہی پاکستانی علاقے سے عسکریت پسند افغانستان جا سکیں۔

XS
SM
MD
LG