رسائی کے لنکس

افغان مفاہمتی عمل کی حمایت کی یقین دہانی


افغان، برطانوی اور پاکستانی رہنما اظہار یکجہتی کرتے ہوئے۔
افغان، برطانوی اور پاکستانی رہنما اظہار یکجہتی کرتے ہوئے۔

صدر حامد کرزئی نے ایک مرتبہ پھر کہا کہ اُن کے ملک میں جاری بد امنی کا ’’جلد از جلد سیاسی حل تلاش کرنا ناگزیر ہے‘‘۔

افغانستان، برطانیہ اور پاکستان نے دہشت گردی کو علاقائی و بین الاقوامی سلامتی کے لیے ’’سنگین خطرہ‘‘ قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف مشترکہ کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔

اس عزم کا اعادہ افغان صدر حامد کرزئی، برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون اور اُن کے پاکستانی ہم منصب راجہ پرویز اشرف کے درمیان کابل میں جمعرات کو ہونے والے سہ فریقی اجلاس میں کیا گیا جس کی تفصیلات مشترکہ اعلامیے میں جاری کی گئیں۔

’’رہنماؤں نے اس لعنت کے خاتمے کے لیے مل کر کام کرنے کے پختہ عزم کو دہرایا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ کامیابی کا دار و مدار علاقائی اور بین الاقوامی برادری کے تعاون پر ہوگا۔‘‘

تینوں ممالک کی سیاسی قیادت کے درمیان کابل میں اپنی نوعیت کے اس پہلے اجلاس کی تجویز ڈیوڈ کیمرون نے پیش کی تھی جس کا بنیادی مقصد افغانسان میں انسدادِ دہشت گردی کی حکمت عملی کو موثر بنانا اور اس پر عمل درآمد کے سلسلے میں پاکستان کے کردار پر تبادلہ خیال کرنا تھا۔

ڈیوڈ کیمرون نے اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف متحد ہو کر جنگ کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ جو دہشت گرد افغانستان کی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں وہی اکثر و بیشتر پاکستان میں بھی ایسے ہی مقاصد کے لیے سرگرم ہیں۔

افغان صدر نے ایک مرتبہ پھر کہا کہ اُن کے ملک میں جاری بد امنی کا ’’جلد از جلد سیاسی حل تلاش کرنا ناگزیر ہے‘‘۔

وزیراعظم پرویز اشرف نے افغانستان میں امن و استحکام کی کوششوں میں پاکستان کی جانب سے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی، جس کا اظہار اُنھوں نے کابل روانگی سے قبل اسلام آباد میں سرکاری میڈیا سے گفتگو میں بھی کیا تھا۔

’’پاکستان نے صف اول کے اتحادی کے طور پر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جتنی قربانیاں دی ہیں کسی دوسرے ملک نے اتنی قربانیاں نہیں دیں ... اس لیے کہ یہ جنگ ناصرف پاکستان کی جنگ ہے (بلکہ) خطے کی جنگ ہے اور پاکستان وہ ذمہ داری نبھا رہا ہے جو عالم انسانیت کی ہم پر ہے۔‘‘

سہ فریقی اجلاس سے قبل کابل پہنچنے کے بعد پاکستانی وزیر اعظم کی افغان صدر سے دو طرفہ ملاقات بھی ہوئی جس میں طالبان عسکریت پسندوں سے مذاکرات کی کوششوں کے سلسلے میں پاکستان کی حمایت اور مشرقی افغانستان میں روپوش جنگجوؤں کے سرحد پار پاکستانی اہداف پر حملے بھی زیر بحث آئے ۔

بات چیت کے بعد مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر کرزئی نے کہا کہ دونوں ممالک اپنے مسائل مذاکرات کی میز پر حل کر سکتے ہیں۔

وزیر اعظم پرویز اشرف نے کہا کہ پاکستان ’’افغان مسئلے کا نہیں بلکہ اس کے حل کا حصہ ہے‘‘ اور اس نے خطے میں امن و خوشحالی اور افغانستان کے داخلی حالات میں بہتری کی کوششوں میں ہر ممکن تعاون کا عزم کر رکھا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ بہتر دوطرفہ سفارتی تعلقات کے ساتھ ساتھ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت کا فروغ بھی بہت ضروری ہے۔

راجہ پرویز اشرف کا بطور وزیر اعظم افغانستان کا یہ پہلا دورہ تھا اور اُن کے ساتھ کابل جانے والے وفد میں وزیر خارجہ حنا ربانی کھر اور مشیر داخلہ رحمٰن ملک اور وزیر مملکت برائے تجارت عباس احمد آفریدی بھی شامل تھے۔
XS
SM
MD
LG