رسائی کے لنکس

پاک بھارت مذاکراتی عمل بحال کرنے کا اعلان

  • یاسر علی منصوری

(فائل فوٹو)

(فائل فوٹو)

وزیر خارجہ کے دورہ بھارت سے قبل دونوں ملکوں کے درمیان متعلقہ سیکرٹریوں کی سطح پر ملاقاتیں بھی ہوں گی جن میں کشمیر، سیاچن اور سر کریک سمیت انسداد دہشت گردی، امن و سلامتی، اقتصادیات اور وفود کے تبادلوں جیسے معاملات زیر غور آئیں گے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ دونوں ملکوں میں بیک وقت جاری ہونے والے مشترکہ بیان براہ راست مسئلہ کشمیرکا ذکر بھی کیا گیا ہے۔

پاکستان اور بھارت ممبئی حملوں کے بعد سے تعطل کا شکار مذاکراتی عمل بحال کرنے پر متفق ہو گئے ہیں۔

پاکستان کی وزارت خارجہ کی طرف سے جمعرات کو جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان یہ اتفاق بھوٹان کے دارالحکومت تھمپو میں جنوبی ایشیائی ملکوں کی علاقائی تنظیم سارک کے اجلاس کے موقع پر پاک بھارت خارجہ سیکرٹریوں کی ملاقات کے دوران کیا گیا۔

بیان کے مطابق پاکستانی سیکرٹری خارجہ سلمان بشیر اور ان کی بھارتی ہم منصب نروپوما راؤ کے درمیان 6 فروری کو ہونے والی بات چیت میں تمام دوطرفہ امور پر دوبارہ بات چیت کا آغاز کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے وزیر خارجہ بات چیت کے عمل میں پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے جولائی کے مہینے سے پہلے کسی وقت نئی دہلی کا دورہ بھی کریں گئے تاہم اس بارے میں کسی حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔

وزیر خارجہ کے دورہ بھارت سے قبل دونوں ملکوں کے درمیان متعلقہ سیکرٹریوں کی سطح پر ملاقاتیں بھی ہوں گی جن میں کشمیر، سیاچن اور سر کریک سمیت انسداد دہشت گردی، امن و سلامتی، اقتصادیات اور وفود کے تبادلوں جیسے معاملات زیر غور آئیں گے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ دونوں ملکوں میں بیک وقت جاری ہونے والے مشترکہ بیان براہ راست مسئلہ کشمیرکا ذکر بھی کیا گیا ہے۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے سرکاری میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ مذاکرات غیر مشروط ہیں۔ اُنھوں نے بتایا کہ تھمپو میں دونوں ممالک کے وزرائے اعظم کے درمیان ہونے والی ملاقات میں کہا گیا تھا کہ اعتماد کے فقدان کو کم کر کے بات چیت کو آگے بڑھا یا جائے اور اس عمل کو بڑھاتے ہوئے جمعرات کو مذاکرات کی بحالی کا اعلان کیا گیا ہے ۔

شاہ محمود قریشی نے اسے ایک مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا اس سے خطے کے امن واستحکا م اور ترقی کے امکانات روشن ہوتے ہیں۔

وزیر اعظم گیلانی اور ان کے بھارتی ہم منصب من موہن سنگھ نے گذشتہ سال اپریل میں بھوٹان ہی میں ملاقات کی تھی جس کے دو ماہ بعد دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ نے اسلام آباد میں دوطرفہ تعلقات اور اعتماد سازی کے لیے ممکنہ اقدامات کا جائزہ لیا تاہم ان ملاقاتوں کے باوجود جامع امن مذاکرات کا سلسلہ بحال نہیں ہو سکا تھا۔

نومبر 2008ء میں بھارت کے تجارتی مرکز ممبئی میں بیک وقت کیے گئے دہشت گرد حملوں میں غیر ملکیوں سمیت کم از کم 166 افراد ہلاک ہو گئے تھے اور نئی دہلی نے ان حملوں کا ذمہ دار پاکستان میں سرگرم کالعدم انتہا پسند تنظیم لشکر طیبہ کو ٹھہراتے ہوئے یک طرفہ طور پر مذاکراتی عمل منقطع کر دیا تھا۔ بھارت کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ انتہائی منظم انداز میں کیے گئے حملوں میں پاکستان کے سکیورٹی ادارے بھی ملوث تھے تاہم پاکستان نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔

XS
SM
MD
LG