رسائی کے لنکس

دوطرفہ تنازعات پر بات چیت کے لیے بھارت کی آمادگی کا خیر مقدم

  • یاسر منصوری

پاکستانی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر

پاکستانی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر

پاکستانی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے کہا ہے کہ مالدیپ میں وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی اپنے بھارتی ہم منصب منموہن سنگھ کے ساتھ مفصل بات چیت پاکستان کے خیال میں ایک ’’مثبت‘‘ پیش رفت ہے اور اس نے دوطرفہ مذاکراتی عمل کو سنجیدگی کے ساتھ آگے بڑھانے کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔

پاک بھارت وزرائے اعظم ملاقات کے ایک روز بعد جمعہ کو دفتر خارجہ کی طرف سے جاری ہونے والے بیان میں پاکستانی وزیر خارجہ نے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے بات چیت میں اس بات پر اتفاق کیا کہ دہشت گردی ایک مشترکہ مسئلہ ہے۔ ’’ایک دوسرے پر الزام تراشیوں میں الجھے رہنے کی بجائے دوطرفہ تعاون ہی اس سے نمٹنے کا اصل راستہ ہے۔‘‘

حنا ربانی کھر نے بتایا کہ پاکستان اور بھارت کے وزرائے داخلہ کو دہشت گردی اور منشیات کے انسداد کے لیے مشترکہ اقدامات تجویز کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے، اور جوں ہی بھارتی حکام تاریخوں کا اعلان کریں گے وزیر داخلہ رحمٰن ملک نئی دہلی جا کر اس سلسلے کو آگے بڑھائیں گے۔

اُنھوں نے کہا کہ پاکستان سمجھتا ہے کہ داخلہ وزارتوں کے حکام کے مابین مجوزہ ملاقاتوں میں ممبئی اور سمجھوتا ٹرین پر حملوں سمیت دہشت گردی کی دیگر کارروائیوں پر بات چیت بھی ضروری ہے۔

بیان کے مطابق بھارت کے مجوزہ عدالتی کمیشن کو پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی گئی ہے تاہم حنا ربانی کھر نے اس کی مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔ بھارتی عدالتی کمیشن کے دورے کا مقصد پاکستان میں زیر حراست ممبئی حملوں کے مشتبہ منصوبہ سازوں سے تحقیقات کرنا ہے۔

وزیر اعظم گیلانی کی بھارتی ہم منصب کے ساتھ جمعرات کو مالدیپ میں سارک سربراہ اجلاس شروع ہونے سے پہلے ملاقات ہوئی تھی جو تقریباٍ ایک گھنٹہ جاری رہی اور جس کے بعد دونوں رہنماؤں کا کہنا تھا کہ وقت آ گیا ہے کہ پاکستان اور بھارت دوطرفہ تعلقات کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کریں۔

XS
SM
MD
LG