رسائی کے لنکس

’موہالی ملاقات سے پاک بھارت مذاکرات کو تقویت ملی‘

  • یاسر منصوری

ترجمان دفتر خارجہ تہمینہ جنجوعہ

ترجمان دفتر خارجہ تہمینہ جنجوعہ

بھارتی پنجاب کے شہر موہالی میں ایک روز قبل کرکٹ کے عالمی کپ کے سیمی فائنل میں بھارت کی پاکستان کے خلاف 29 رنز سے فتح جمعرات کو پاکستانی مقامی میڈیا میں موضوع بحث بنی رہی، لیکن سیاسی حلقے اور مبصرین کی رائے میں میچ سے زیادہ اہم اس موقع پر دونوں ملکوں کے وزرائے اعظم کی ملاقات تھی جسے دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات میں بہتری کے سلسلے میں انتہائی اہم پیش رفت قرار دیا۔

وزارت خارجہ کی ترجمان تہمینہ جنجوعہ نے اسلام آباد میں ہفتہ وار نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اور اُن کے بھارتی ہم منصب نے پاک بھارت تعلقات سمیت عالمی اُمور پر ”دوستانہ“ ماحول میں بات چیت کی اور رواں ہفتے نئی دہلی میں دونوں ملکوں کے داخلہ سیکرٹریوں کے اجلاس میں ہونے والی پیش رفت کو اطمینان بخش قرار دیا۔

وزارت خارجہ کی ترجمان کے بقول ”مذاکرات کے عمل کی بحالی یقیناً پاکستان اور بھارت کے عوام کے لیے جیت کی حیثیت رکھتی ہے اور جہاں تک موہالی کی بات ہے تو اس سے مذاکرات کو مزید تقویت ملی ہے۔“

پاکستان کے سیکرٹری داخلہ قمر زمان چودھری اور بھارتی ہوم سیکرٹری جی کے پلائی کے درمیان پیر اور منگل کے روز بات چیت کے بعد جنوبی ایشیا کے دونوں روایتی حریفوں کے درمیان نومبر 2008ء ممبئی حملوں کے بعد سے منقطع جامع امن مذاکرات کا عمل باضابطہ طور پر بحال ہو گیا ہے۔

وزیر اعظم گیلانی نے اپنے بھارتی ہم منصب کے ہمراہ جمعرات کی شب میڈیا سے مختصر گفتگو میں اس امید کا بھی اظہار کیا تھا کہ آنے والے دنوں میں مذاکرات کا تسلسل برقرار رہے گا کیوں کہ دونوں ملکوں کی حکومتوں کو اپنی توجہ خطے میں امن و استحکام کے قیام اور غربت کے خاتمے پر مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔

اُنھوں نے دورہ بھارت کے اختتام پر وزیر اعظم من موہن سنگھ اور کانگریس پارٹی کی سربراہ سونیا گاندھی کو اپنی سہولت کے مطابق پاکستان آنے کی دعوت بھی دی۔

XS
SM
MD
LG