رسائی کے لنکس

’امداد کی معطلی باعث تشویش نہیں‘


’امداد کی معطلی باعث تشویش نہیں‘

’امداد کی معطلی باعث تشویش نہیں‘

پاکستان نے کہا ہے کہ امریکی کانگریس میں 70 کروڑ ڈالر کی فوجی امداد کی معطلی پر اُسے کوئی پریشانی نہیں ہے کیونکہ اس وقت امریکہ کے ساتھ اُس کے تعلقات منجمد ہیں۔

جمعرات کو اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے کہا کہ پاکستانی پارلیمان میں امریکہ اور نیٹو کے ساتھ مستقبل کے تعلقات کی شرائط زیر غور ہیں اس لیے حکومت کو ’’اس سے کوئی سروکار نہیں کہ امریکی کانگریس ان دنوں کیا کر رہی ہے‘‘۔

اُنھوں نے بتایا کہ وزارت خارجہ نے اپنی تیار کردہ سفارشات پارلیمان کی کمیٹی برائے قومی سلامتی کو پیش کر دی ہیں جو ان کو مد نظر رکھ کراتحادی ملکوں بشمول امریکہ کے ساتھ تعلقات کی بنیادی دستاویز تیار کر رہی ہے اور جو منظوری کے لیے پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں پیش کی جائے گی۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ تعلقات رواں سال بہت زیادہ خراب ہوئے کیونکہ کئی شعبوں میں ان روابط میں ’’گرے ایریاز‘‘ یا ابہام ہے۔

پاکستانی وزیرخارجہ نے اس امید کا اظہار کیا کہ پارلیمان کی حمایت سے اور قومی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے کسی بھی ملک سے استوار کیے جانے والے مستقبل کے تعلقات مستحکم اور دیرپا ہوں گے۔

امریکی کانگریس کے ایوان نمائندگان میں بدھ کے روز دفاعی اخراجات کے جس بل کی منظوری دی گئی اس میں یہ شق شامل ہے کہ انسداد دہشت گردی کے لیے پاکستان کو دیے جانے والے 70 کروڑ ڈالرز اُس وقت تک جاری نہیں کیے جائیں گے جب تک امریکی وزیر دفاع اس بات کی تصدیق نہیں کرتے کہ غیر قانونی طور پر بنائے جانے والے مقامی بم یا آئی ای ڈیز کے خلاف مشترکہ کوششوں میں پاکستانی حکام موثر کردار ادا کر رہے ہیں۔

لیکن پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان عبدالباسط نے ہفتہ وار نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آئی ای ڈیز کے خلاف اُن کے ملک کی کوششوں پر تنقید کو حقائق کے منافی اور تنگ نظری پر مبنی قرار دے کر مسترد کیا ہے۔

جمعرات کو ایک وضاحتی بیان میں امریکی سفارت خانے نے کہا ہے کہ پاکستان کی امداد میں کٹوتی کے بارے میں میڈیا کی خبریں غلط اور مبہم ہیں۔

’’اس حالیہ مسودہ قانون کے تحت پاکستان کی فوجی امداد میں 70 کروڑ ڈالر کی کٹوتی نہیں کی گئی ہے۔ اس کی بجائے اس میں مطلع کرنے کی شرط شامل ہے۔ اس ضمن میں (امریکی) وزیر دفاع جونہی اس امرکی تصدیق کریں گے کہ پاکستان دیسی ساختہ دھماکا خیز مواد (آئی ای ڈی) کی روک تھام کے لیے ہماری مشترکہ کوششوں میں تعاون کر رہا ہے، یہ رقم جاری کر دی جائے گی۔‘‘

وضاحتی بیان میں کہا گیا ہے کہ امداد کو مطلع کرنے سے مشروط کرنا کوئی نئی بات ہے اور نہ ہی یہ شرائط خاص طور پر پاکستان کے لیے ہیں۔ یہ امریکہ سے فوجی امداد حاصل کرنے والے ہرملک کے حوالے سے ایک معیاری طریقہ کار ہے۔

امریکی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ افغانستان میں طالبان عسکریت پسند اتحادی افواج کے خلاف کارروائیوں میں استعمال ہونے والے آئی ای ڈی بم میں استعمال کیا جانے والا امونیم نائٹریٹ پاکستان سے بھیجا جا رہا ہے۔

XS
SM
MD
LG