رسائی کے لنکس

یک طرفہ کارروائی انسداد دہشت گردی کے لیے سودمند نہیں: پاکستان


یک طرفہ کارروائی انسداد دہشت گردی کے لیے سودمند نہیں: پاکستان

پاکستان نے کہا ہے کہ اس کی سرزمین پر امریکہ کی طرف سے دوبارہ یک طرفہ کارروائی دہشت گردی کے انسداد کی مشترکہ کوششوں کے لیے سود مند نہیں۔

کابل میں ایک نیوز کانفرس کے دوران اس بارے میں پوچھے گئے سوال پر پاکستان کے سیکرٹری خارجہ سلمان بشیر کا کہنا تھا کہ یک طرفہ اقدامات دونوں ملکوں کے درمیان شراکت داری کی اساس کے بھی منافی ہیں۔

صدر براک اوباما نے حال ہی میں ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ اگر ضرور ت محسوس ہوئی تووہ پاکستان میں القاعدہ کے رہنماء اسامہ بن لادن کو ہلاک کرنے جیسی کارروائی کے دوبارہ احکامات دے سکتے ہیں۔

فوجی چھاؤنی والے پاکستان کے شمالی شہر ایبٹ آباد میں دو مئی کو امریکی اسپیشل فورسز نے ایک قلعہ نما گھر پر رات کی تاریکی میں ایک خفیہ آپریشن کرکے وہاں مبینہ طور پر کئی سالوں سے روپوش کو ہلاک کر دیا تھا۔

پاکستان نے القاعدہ کے رہنما کی موت کو انسداد دہشت گردی کی کوششوں میں ایک اہم کامیابی قرار دیا تھا لیکن اس کا کہنا تھا کہ امریکہ کی یہ یکطرفہ کارروائی ملکی خود مختاری کی خلاف ورزی ہے اور اگر اسے دہرایا گیا تو اسلام آباد واشنگٹن سے اپنے تعلقات میں نظر ثانی پر غور کرنے پر مجبور ہوگا۔

سلمان بشیر نے پیر کی شب کابل میں پاکستانی سفارت خانے میں افغان صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ بین الاقوامی قوانین بھی کسی ملک میں یک طرفہ کارروائی کی اجازت نہیں دیتے اور اُنھیں توقع ہے کہ عالمی طاقتیں ان قوانین کی پاسداری کریں گی۔ سیکرٹری خارجہ پاکستان، افغانستان اور امریکہ کے سہ فریقی اجلاس میں شرکت کے لیے کابل گئے تھے۔

اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان کوکسی بھی دوسرے ملک کی نسبت اس وقت عالمی قوانین کی روشنی میں زیادہ تحفظ اور انصاف کی ضرورت ہے۔

سلمان بشیر

سلمان بشیر

سیکرٹری خارجہ نے واضح کیا کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دونوں ممالک کلیدی اتحادی ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ پاکستان میں افغان طالبان کی موجودگی پر دو رائے نہیں ہیں لیکن اُن کے بقول یہ کہنا درست نہیں ہے کہ اُن کے ملک کی حکومت نے اُنھیں پناہ دے رکھی ہے۔

سلمان بشیر کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیاں دنیا کے سامنے ہیں اور القاعدہ کے تقریباً تما م ہی بڑے کمانڈروں کو پاکستان سے حراست میں لیا گیا ہے۔

پیر کی شام سلمان بشیر نے افغان صدر حامد کرزئی اور افغان طالبان سے مصالحت کے لیے قائم اعلیٰ سطحی امن کونسل کے سربراہ برہان الدین ربانی سے ملاقاتیں کیں۔ سرکاری بیان کے مطابق اُنھوں نے افغان حکام کو یقین دلایا کہ پاکستان افغانستان میں قیام امن کی کوششوں میں ہر ممکن مدد فراہم کرنے پر تیار ہے۔

XS
SM
MD
LG