رسائی کے لنکس

پاک امریکہ تعلقات پر ریمنڈ ڈیوس کی رہائی کے اثرات


پاک امریکہ تعلقات پر ریمنڈ ڈیوس کی رہائی کے اثرات

پاک امریکہ تعلقات پر ریمنڈ ڈیوس کی رہائی کے اثرات

دونوں ملکوں کے عہدے داروں نے توقع ظاہر کی ہے کہ ریمنڈ ڈیوس کا معاملہ حل ہونے کے بعد دو طرفہ تعلقات پہلے کی طرح معمول پر آجائیں گے جبکہ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس بحران کی وجہ سے معطل کیے جانے والے اعلیٰ سطحی اجلاسوں کا سلسلہ بھی دوبارہ شروع کرنے کے لیے واشنگٹن اور اسلام آباد میں صلاح مشورے شروع ہو گئے ہیں۔

لاہور میں 27 جنوری کو ایک مصروف سڑک پر دو پاکستانیوں کو قتل کرنے کے جرم میں گرفتار امریکی خفیہ ایجنسی، سی آئی اے، سے نجی حیثیت میں منسلک ریمنڈ ڈیوس مقتولین کے ورثا کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت رہائی پانے کے بعد پاکستان سے چلا گیا ہے۔ مقامی میڈیا میں جمعرات کو ہر طرح کی قیاس آرائیاں اور عوامی حلقوں میں چہ میگوئیاں جاری ہیں۔

کہیں تو کروڑوں روپوں کی بطور خون بہا ادا ئیگی موضوع بحث ہے تو کہیں ایک کے بعد دوسرا صحافی مقتولین کے اُن اٹھارہ افراد کی تلاش میں اُن کے تالابند گھروں کے چکر کاٹ رہے ہیں جنھوں نے قصاص اور دیت کے تحت امریکی عہدے دار کو معاف کرنے کے معاہدے پر دستخط کیے۔ امریکی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن اور دیگر امریکی عہدے داروں نے دیت کی رقم ادا کرنے کے دعوؤں کو مسترد کیا ہے۔ تاہم ہلری کلنٹن نے ورثاء کو دیے جانے والے معاوضے کی تردید نہیں کی۔

ریمنڈ ڈیوس کی حراست کے دوران امریکہ مسلسل یہ اصرار کرتا رہا کہ اُس کی گرفتاری سفارتی تعلقات سے متعلق بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے کیونکہ اُسے سفارتی استثنا حاصل ہے اس لیے پاکستان اُسے فوری طور پر رہا کرے۔

لیکن پاکستانی حکومت نے کسی مرحلے پر امریکی دعویٰ کی تصدیق نہیں کی اور پالیسی میں اس ابہام نے اندرون ملک دائیں بازو کی جماعتوں کو امریکہ مخالف جذبات کو بھڑکانے کا موقع فراہم کیا اور آئے روز نجی ٹی وی چینلز پر بحث و مباحثوں نے اس معاملے کو اور بھی پیچیدہ کردیا۔

بلاشبہ جس تیزی اور ڈرامائی انداز میں یہ سارا معاملہ حل کیا گیا ہے اُس پر پاکستان میں ناقدین کئی سوالات اُٹھا رہے ہیں۔

لیکن مبصرین کا کہنا ہے کہ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ تقریباََ سات ہفتوں سے جاری یہ سفارتی جھگڑا امریکہ اور پاکستان کے پہلے سے نازک تعلقات پر گہرے اثرات اور شکوک و شبہات میں اضافے کا باعث بنا ہے۔

پاک امریکہ تعلقات پر ریمنڈ ڈیوس کی رہائی کے اثرات

پاک امریکہ تعلقات پر ریمنڈ ڈیوس کی رہائی کے اثرات

افغانستان میں امریکہ کی زیر قیادت بین الاقوامی افواج اور افغان اہداف پر پاکستان کے قبائلی علاقوں میں موجود عسکریت پسندوں کے حملے پاک امریکہ تعلقات میں طویل عرصے سے کشیدگی کی وجہ بنے ہوئے ہیں ۔ امریکی حکام اِن جنگجوؤں کو افغانستان میں جنگ کے خاتمے کے لیے صدر براک اوباما کی کوششوں میں ایک رکاوٹ سمجھتے ہیں۔

دونوں ملکوں کے عہدے داروں نے توقع ظاہر کی ہے کہ ریمنڈ ڈیوس کا معاملہ حل ہونے کے بعد دو طرفہ تعلقات پہلے کی طرح معمول پر آجائیں گے جبکہ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس بحران کی وجہ سے معطل کیے جانے والے اعلیٰ سطحی اجلاسوں کا سلسلہ بھی دوبارہ شروع کرنے کے لیے واشنگٹن اور اسلام آباد میں صلاح مشورے شروع ہو گئے ہیں۔

تاہم دفاعی تجزیہ کاروں کے خیال میں ریمنڈ ڈیوس کی حراست کے معاملے کے امریکہ اور پاکستان کے فوجی تعلقات پر کوئی خاص اثرات نہیں پڑے ہیں کیوں کہ عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائیوں اورافغان سرحد کو محفوظ بنانے کی مشترکہ کوششیں بغیر کسی رکاوٹ کے جاری ہیں۔

لیکن باور کیا جاتا ہے کہ دونوں ملکوں کی اس سفارتی جنگ کے اثرات آئی ایس آئی اور امریکی سی آئی اے کے تعلقات پر ضرور اثر انداز ہوئے ہیں اور اس کا اعتراف پاکستانی انٹیلی جنس حکام کرچکے ہیں کیونکہ اُن کے خیال میں ریمنڈ ڈیوس جس بھی مشن پر پاکستان میں کام کررہا تھا آئی ایس آئی اُس سے بے خبر تھی۔

لاہور اسکول آف اکنامکس کے پروفیسر سجاد نصیر کے خیال میں ریمنڈ ڈیوس کے معاملے نے دو طرفہ تعلقات کو جس برُی طرح متاثر کیا ہے اُس کی مثال حالیہ برسوں میں نہیں ملتی۔ ”یقینا دونوں ملکوں نے اپنے وسیع تر مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے دوطرفہ تعلقات کو مزید خراب ہونے سے بچانے کے لیے اس معاملہ کا ایک ایسا حل ڈھونڈا ہے جو بظاہر تمام فریقین کے لیے قابل قبول ہوگا۔“

پاک امریکہ تعلقات پر ریمنڈ ڈیوس کی رہائی کے اثرات

پاک امریکہ تعلقات پر ریمنڈ ڈیوس کی رہائی کے اثرات

امریکی حکام کا ماننا ہے کہ افغانستان میں عسکریت پسندوں کے خلاف کوششوں کی کامیابی کے لیے پاکستان کا تعاون انتہائی اہمیت کا حامل ہے ۔ افغانستان میں اس وقت ایک لاکھ پچاس ہزار غیر ملکی فوجی تعینات ہیں جن میں اکثریت امریکیوں کی ہے۔ ان افواج کے لیے زیادہ تر رسد پاکستان کے راستے افغانستان بھیجی جاتی ہے۔

مبصرین کا ماننا ہے کہ اس سال جولائی میں امریکی افواج کے مرحلہ وار انخلاء کا عمل شروع ہونے جا رہا ہے اور اس کے لیے بھی امریکہ کو پاکستان کے قریبی تعاون کی ضرورت ہے۔

پروفیسر سجاد کا کہنا ہے کہ امریکی شہری کے معاملے کو اسلامی قوانین کی روشنی میں حل کر کے بظاہر اُس شدید ردعمل کی حوصلہ شکنی بھی کرنے کی کوشش کی گئی ہے جس کی توقع اسلامی اور دائیں بازو کی جماعتوں کی طرف سے کی جاسکتی ہے۔ ”حکومتی عہدے دار یہ دلیل پیش کرسکتے ہیں کہ جب اسلام اس انداز میں تصفیہ کی اجازت دیتا ہے تو پھر اس پر اعتراض واحتجاج بلاوجہ ہے۔“

اس امریکی کی حراست کے دوران پاکستانی حکام کی طرف سے ملک میں غیر ملکیوں خصوصاََ امریکیوں کی نگرانی میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ اس دوران کم از کم تین امریکیوں کو پشاور میں بغیر اجازت ممنوعہ مقامات کی طرف سفر کرنے اور نامکمل دستاویزات رکھنے کے جرم میں عارضی طور پر حراست میں لینے کے بعد چھوڑ دیا گیا۔

پاکستانی میڈیا میں مقامی حکام کے حوالے سے چھپنے والی خبروں کے مطابق ڈیوس کی رہائی کے لیے سی آئی اے اور آئی ایس آئی کے حکام کے درمیان مفصل مذاکرات کے بعد پاکستان نے امریکی خفیہ ادارے کے حکام کے داخلے اور مقامی سی آئی اے اہلکاروں و نجی عہدے داروں سے متعلق قواعد وضوابط سخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

مزید براں پاکستان میں بعض ناقدین حکام سے مطالبہ کررہے ہیں کہ وہ اس بات کی بھی تحقیقات کریں کے کن وجوحات کی بناء پر ریمنڈ ڈیوس کی گولی سے ہلاک ہونے والے فہیم نامی پاکستانی کی بیوہ شمائلہ نے اس واقعہ کے چند روز بعد ہی خودکشی کرلی۔

شمائلہ

شمائلہ

ان ناقدین کا خیال ہے کہ پاکستان کے دیہی علاقوں میں ایسے واقعات معمول کی بات ہے جہاں شوہر کی موت کے بعد اُس کی بیوہ کے ساتھ سسرال کا رویہ کبھی کبھار مصیبت زدہ خواتین کو انتہائی اقدام اٹھانے پر مجبور کردیتا ہے۔

مرحوم شمائلہ کی والدہ نے ذرائع ابلاغ کو دیے گئے انٹرویو میں واضح طور پر کہا ہے کہ قصاص اور دیت کے معاہدے میں اُنھیں اعتماد میں نہیں لیا گیا جس سے ان خدشات کو تقویت ملتی ہے کہ مقتول فہیم کے گھروالوں کے رویہ نے اُس کی نوبیاہتا دلہن کو خودکشی جیسے انتہائی اقدام پر مجبور کردیا اور جس نے ریمنڈ ڈیوس کیس کو مزید الجھا دیا تھا۔

XS
SM
MD
LG