رسائی کے لنکس

پاکستان سہ فریقی اجلاس کے جلد انعقاد کے بارے میں پرُامید


وزارت خارجہ کے ترجمان عبدالباسط (فائل فوٹو)

وزارت خارجہ کے ترجمان عبدالباسط (فائل فوٹو)

وزارت خارجہ کے ترجمان عبدالباسط نے کہا ہے کہ پاکستان ، امریکہ اور افغانستان کے مابین سہ فریقی اجلاس کے جلد انعقاد کے بارے میں اُن کا ملک پُر اُمید ہے کیونکہ علاقائی استحکام اور خوشحالی کے لیے یہ مذاکرات انتہائی اہم ہیں۔

انھوں نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ”ہمیں اُمید ہے کہ ا س بات چیت کے انعقاد میں غیر معمولی تاخیر نہیں ہوگی۔ بلکہ ہماری توقع ہے کہ تمام فریقین کی رضا مندی سے جلد سے جلد نئی تاریخوں کا اعلان کیا جائے گا اور پاکستان اس سلسلے میں دوسری دونوں حکومتوں کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔“

امریکی وزارت خارجہ نے ہفتہ کے روز ایک بیان میں 23 اور 24 فروری کو واشنگٹن میں ہونے والے سہ فریقی وزارتی اجلاس کو” پاکستان میں سیاسی تبدیلیوں“ کے باعث ملتوی کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ فیصلہ پاکستانی اور افغان حکام کے ساتھ باہمی مشاورت کے بعد کیا گیا ہے۔

پاکستان میں گذشتہ ہفتے ایک نئی وفاقی کابینہ تشکیل دی گئی تھی لیکن اس میں سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو شامل نہیں کیا گیا اور سہ فریقی اجلاس ملتوی کرنے کی بظاہر وجہ ملک میں ہونے والی یہی”سیاسی تبدیلی “ ہے۔

امریکی سفارت کار ریمنڈ ڈیوس

امریکی سفارت کار ریمنڈ ڈیوس

لیکن پاکستان میں مقامی میڈیا میں شائع ہونے والی خبروں کے مطابق دہرے قتل کے الزام میں پاکستان میں زیر حراست امریکی سفارت کار کا معاملہ دراصل واشنگٹن میں ہونے والے سہ فریقی اجلاس کے التواء کی وجہ بنا ہے۔

ہفتہ کی شب وزارت خارجہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے خارجہ سیکرٹری سلمان بشیر نے متنبہ کیا کہ امریکی عہدے دار کی حراست کے معاملے پر پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کا خراب ہونا ایک انتہائی غیر مفید پیش رفت ہوگی۔

اُنھوں نے کہا کہ پاکستان بھر پور کوششیں کررہا ہے کہ لاہور کے واقعہ کو غیر ضروری طور پر نا اچھالا جائے۔ ”یہ بات ناقابل فہم ہے کہ کوئی ایک واقعہ یا شخص 60 سالہ تعلقات کو تباہ کرنے کا باعث بنے۔ “

سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی (فائل فوٹو)

سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی (فائل فوٹو)

دریں اثناء وفاقی وزیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے شاہ محمود قریشی کے اُس اخباری بیان کو مسترد کیا ہے جس میں سابق وزیر خارجہ نے الزام لگایا ہے کہ زیر حراست امریکی عہدے دارکے معاملے پردباؤ قبول نہ کرنے کی پاداش میں انھیں نئی کابینہ میں شامل نہیں کیا گیا۔


سرکاری ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اگر شاہ محمود قریشی کو اِن مسائل کا سامنا تھا تو انھیں اسکا اظہار اُس وقت کرنا چاہیے تھا جب وہ وزیر خارجہ تھا کیونکہ وزیر اطلاعات کے بقول اب اُن کی طرف سے ایسے بیانات سامنے آنا پاکستان کی مشکلات میں اضافہ کرسکتا ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان

وفاقی وزیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان

فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ حکومت اس موقف پر قائم ہے کہ امریکی عہدے دار کی قسمت کا فیصلہ کوئی فرد واحد نہیں کرسکتا اور اس کے لیے ملک میں ایک قانونی نظام موجود ہے۔

XS
SM
MD
LG