رسائی کے لنکس

معذورافراد کے لیے خصوصی کارڈز کا اجرا


معذورافراد کے لیے خصوصی کارڈز کا اجرا

معذورافراد کے لیے خصوصی کارڈز کا اجرا

پاکستان میں سرکاری اور اقوام متحدہ کے اعدادوشمار کے مطابق جزوی یا کلی طور پر معذور افراد ملک کی کل آبادی کا سات سے دس فیصد ہیں جو تقریباً ایک کروڑ افراد پر مشتمل ہے ۔

حکومت نے ان افراد کے اندارج کے لیے خصوصی مراکز قائم کررکھے ہیں لیکن اعلیٰ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ان میں اکثر معذور افراد کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے تاہم معذ ور افرا دکے عالمی دن کے موقع پراسلام آباد میں منعقدہ ایک تقریب کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں وفاقی وزیر برائے بہبود آبادی و خصوصی تعلیم ثمینہ خالد گھرکی نے کہا کہ موجودہ حکومت نے جسمانی معذوری کا شکارافراد کے کوائف جمع کرنے کا کام تیز کر دیا ہے جس کے باعث اب تک دو لاکھ 20ہزار سے زائدافرادکو خصوصی شناختی کارڈزجاری کیے جا چکے ہیں۔

ان خصوصی شناختی کارڈوں کا مقصد حکومت کی طرف سے معذور افراد کے لیے اعلان کردہ مراعات سے دینااور اُنھیں قومی دھارے میں شامل کرنا ہے۔ ثمینہ خالدگھرکی نے اعتراف کیا کہ اب بھی بڑی تعداد میں ایسے لوگوں کا انداراج کرنا باقی ہے ۔

غیر سرکاری تنظیم پاک انسٹیٹیویٹ فار پیس سٹڈیز کے ایک عہدیدار خرم اقبال نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ حالیہ برسوں میں ملک میں معذور افراد کی تعداد میں اضافے کی ایک وجہ دہشت گردی کے واقعا ت میں اضافہ ہے کیوں کہ ان میں ہلاکتوں کے علاوہ بڑی تعداد میں لوگ زخمی بھی ہوئے ۔ اُن کے ادارے کے اعدادو شمار کے مطابق 2005ء سے 2009ء تک چالیس ہزار سے زائد افراد شدید زخمی ہوئے جو اُن کے بقول کسی نہ کسی طور جسمانی معذوری کا شکار ہوئے۔ اُنھوں نے کہا کہ یہ ایک بڑا مسئلہ ہے جس پر سنجیدگی سے غور کی ضرورت ہے۔

دہشت گرد حملوں میں جسمانی معذوری کا شکار ہونے والے افرادکے لیے اگرچہ حکومت کی طرف سے کسی واضح پالیسی کا اعلان نہیں کیا گیا ہے لیکن وفاقی وزیر برائے بہبودی آبادی نے بتایا کہ ملک میں موجود افراد کو روزگار کی فراہمی کے لیے چھوٹے قرضے دینے کے منصوبے کا آغاز کیا جارہا ہے جس کا مقصد آباد ی کے ایک بڑے حصے کے لیے ذریعہ معاش کا بندوبست کرنا ہے۔

XS
SM
MD
LG