رسائی کے لنکس

پاکستان میں شہروں کو قدرتی آفات سے محفوظ بنانے کی مہم


پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد کا ایک منظر

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد کا ایک منظر

پاکستان کو حالیہ برسوں کے دوران متعدد قدرتی آفات کا سامنا رہا ہے جن میں اکتوبر 2005ء میں شمالی علاقوں میں آنے والا شدید زلزلہ بھی شامل ہے جس میں 73 ہزار سے زائد افراد ہلاک اور انتظامی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا تھا۔ زلزلے سے متاثرہ علاقوں کی مکمل بحالی اور تعمیر نو اب تک حکومت کے لیے چیلنج بنی ہوئی ہے۔

2010ء میں ملک کی تاریخ کے بدترین سیلاب سے دو کروڑ افراد متاثر ہوئے تھے جب کہ کئی علاقوں میں سڑکیں اور پل بہہ گئے۔ مون سون بارشوں کے بعد آنے والے سیلاب سے تباہی کا سلسلہ اس سال بھی جاری رہا لیکن اس مرتبہ جنوبی صوبہ سندھ اس کی زد میں آیا جہاں 87 لاکھ افراد متاثر اور 20 لاکھ ایکڑ رقبے پر کھڑی فصلیں تباہ ہو گئیں۔

ان قدرتی آفات سے بہتر انداز میں نمٹنے کے لیے پاکستان کے 30 شہروں نے اب اس بات پر آمادگی کا اظہار کیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی بین الاقوامی حکمت عملی برائے تخفیف آفات کے 10 بنیادی اقدامات پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں گے تاکہ شہری حکومت کی استعداد اور اہم انتظامی ڈھانچوں کی مدافعت میں اضافہ کیا جا سکے۔

آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے ’این ڈی ایم اے‘ کے ایک ترجمان احمد کمال نے اس منصوبے کے بارے میں وائس آف امریکہ کو بتایا کہ یہ 2015ء تک جاری رہے گا۔

اقوام متحدہ کے 10 نکات پر مشتمل اقدامات میں تعلیمی اداروں اور اسپتالوں کو خاص طور پر آفات سے محفوظ بنانے کے لیے اقدامات، دریاؤں اور نہروں کے پشتوں کو مضبوط بنانے اور شہروں میں پیشگی اطلاع اور ہنگامی انتظامات کے لیے موثر نظام کا قیام شامل ہے۔

این ڈی ایم اے کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کی بین الاقوامی حکمت عملی برائے تخفیف آفات کے منصوبے پر کام جاری رہے گا اور شہروں کے بعد دیہاتوں تک اس کے دائرہ کار کو پھیلایا جائے گا۔

XS
SM
MD
LG