رسائی کے لنکس

پاکستانی فوج کے خلاف انسانی حقوق کی پامالی کا الزام مسترد


پاکستان میں لاپتہ افراد کے لواحقین ایک مظاہرے میں شریک (فائل فوٹو)

پاکستان میں لاپتہ افراد کے لواحقین ایک مظاہرے میں شریک (فائل فوٹو)

وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے اس الزام کو مسترد کیا ہے پاکستان کی فوج اور سکیورٹی کے دوسرے ادارے زیر حراست مشتبہ عسکریت پسندوں کے حقوق کی پامالی میں ملوث ہیں۔

ایک روز قبل نیویارک ٹائمز نے امریکی محکمہ خارجہ کی طرف سے کانگریس کو بھیجی گئی ایک رپورٹ کے حوالے سے کہا تھا کہ امریکہ کی انتظامیہ نے پاکستان میں زیر حراست دہشت گردوں اور بلوچ قوم پرستوں کی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں گمشدگی اور اُن کے بنیادی انسانی حقوق کی پامالی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

جمعہ کو قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کے پارلیمانی لیڈر چودھری نثار علی خان کے طرف سے اس اخباری اطلاع پر ایک نقطہ اعتراض کا جواب دیتے ہوئے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ میڈیا میں ایسی خبروں کی اشاعت کا مقصد پاکستان کے سکیورٹی اداروں کو بدنام کرنا ہے۔

جنوبی وزیرستان سے حراست میں لیا گیا ایک مشتبہ دہشت گرد (فائل فوٹو)

جنوبی وزیرستان سے حراست میں لیا گیا ایک مشتبہ دہشت گرد (فائل فوٹو)

انھوں نے کہا کہ ان الزامات کی نفی اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ زیر حراست مشتبہ شدت پسندوں کے خلاف منصفانہ عدالتی کارروائی کو یقینی بنانے کے لیے خود پاکستانی فوج نے حکومت سے انسداد دہشت گردی ایکٹ میں مناسب ترامیم کی تجویز دی تھی۔ لہذا فوج کے خلاف ایسے الزامات بے بنیاد ہیں۔

وزیراعظم گیلانی نے کہا کہ موجودہ قوانین میں کئی سقم ہیں جن کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے زیرحراست دہشت گرد عدالتو ں سے رہا ہوجاتے ہیں اور دوبارہ دہشت گردی میں ملوث ہو جاتے ہیں ۔ اُنھوں نے زور دیا کہ ان قوانین میں ترمیم کی ضرورت ہے تاکہ سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں اور معصوم افراد کے قتل میں ملوث افراد کسی صورت سزا سے نہ بچ سکیں۔

پاکستان میں انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی ملک کے خفیہ اداروں پر یہ الزام لگاتی رہی ہیں کہ ملک میں ہونے والی گمشدیوں میں ملوث ہیں لیکن حکومت ان کی تردید کرتی ہے اور ایک ایسی کمیٹی بھی قائم کی گئی ہے جولاپتہ افراد کی تلاش کے لیے چاروں صوبوں سے کوائف جمع کر رہی ہے۔

XS
SM
MD
LG