رسائی کے لنکس

ڈاکٹروں کی کمی کے باعث نیم حکیم عوام کی صحت کے لیے خطرہ بن گئے ہیں: ماہرین

  • حسن سید

فائل فوٹو

فائل فوٹو

اِس وقت ملک میں آٹھ لاکھ کے قریب عطائی ڈاکٹر موجود ہیں جب کہ 18کروڑ آبادی کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے دستیاب مستند ڈاکٹروں کی تعداد نہایت کم ہے

ایک غیر سرکاری تنظیم ’پاکستان نیشنل فورم فور وومینز ہیلتھ‘ کے جائزے کے مطابق اِس وقت ملک میں آٹھ لاکھ کے قریب عطائی ڈاکٹر موجود ہیں جب کہ 18کروڑ آبادی کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے دستیاب مستند ڈاکٹروں کی تعداد نہایت کم ہے۔

تنظیم کے سربراہ ڈاکٹر شیر شاہ نے وائس آف امریکہ سے انٹرویو میں کہا ہے کہ پاکستان میں تقریباً دس لاکھ نرسوں اور دائیوں کی ضرورت ہے، جب کہ پانچ لاکھ ڈاکٹر درکار ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ مستند ڈاکٹروں اور طبی عملے کی کمی کی وجہ سے جعلی ڈاکٹروں اور غیر تربیت یافتہ دائیوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے جس کے سبب سب سے زیادہ نقصان خواتین کو ہو رہا ہے۔

اُنھوں نے بتایا کہ ہر سال 30000حاملہ خواتین ہلاک ہوجاتی ہیں جب کہ چار لاکھ کے قریب زچگی کے باعث عمر بھر کے لیے سنگین پیچیدگیوں کا شکار ہوجاتی ہیں، جِس کی وجہ ڈاکٹر شاہ کے مطابق یہ ہے کہ ملک کے دیہی علاقوں میں نو ے فی صد سے زائد حاملہ خواتین کو تربیت یافتہ دائیوں یا ڈاکٹروں کی خدمات دستیاب نہیں۔

وفاقی وزارتِ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر اسد حفیظ نے اعتراف کیا کہ نیم حکیم اور جعلی ڈاکٹر عوام کو شدید نقصان پہنچا رہے ہیں۔ تاہم، اُن کا کہنا تھا کہ حکومت اِس ضمن میں قانونی اور انتظامی اقدامات کر رہی ہے۔

اُن کے بقول، بعض صوبوں نے پہلے ہی اقدام کیے ہیں مثلاً ہیلتھ ریگولیٹری کمیشن کا قیام، کلینک اور لیباریٹریز کو رجسٹر کرانے کا معاملہ۔ اُنھوں نے کہا کہ اِس ضمن میں وفاقی سطح پر پیش رفت کی جائے گی جِس کے بعد اُن پر صوبے عمل درآمد کریں گے۔

دوسری طرف، حکمراں پاکستان پیپلز پارٹی کے رُکن قومی اسمبلی اور صحت کی قائمہ کمیٹی کی رکن ڈاکٹر ظلِ ہما نے ایک انٹرویو میں کہا کہ حکومت ملک میں ڈاکٹروں کی کمی کو پورا کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ میڈیکل کالج قائم کر رہی ہے، جب کہ نوجوان ڈاکٹروں کو بہترتنخواہیں اور مراعات دینے کے پروگرام پر بھی کام کیا جارہا ہے، تاکہ باصلاحیت طبی ماہرین کے بیرونِ ملک انخلا کو روکا جاسکے۔

XS
SM
MD
LG