رسائی کے لنکس

کانفرنس میں شرکت کے لیے بھارت جانے کا فیصلہ درست تھا: سرتاج عزیز


مشیر خارجہ سرتاج عزیز (فائل فوٹو)

مشیر خارجہ سرتاج عزیز (فائل فوٹو)

مشیر خارجہ کے بقول بھارت کی طرف سے افغانستان اور پاکستان کے درمیان تقسیم پیدا کرنے کی کوشش زیادہ دیر تک نہیں چل سکے گی۔

بھارت کے ساتھ کشیدہ تعلقات کے باوجود پاکستان نے امرتسر میں ہونے والی ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں شرکت تو ضرور کی لیکن وہاں دہشت گردی کے معاملے پر بھارتی اور افغان راہنماؤں کی طرف سے پاکستان کی طرف انگشت نمائی اور پھر پاکستانی مشیر خارجہ تک بوجوہ ذرائع ابلاغ کو رسائی نہ دیے جانے پر پاکستانی عہدیداروں کو تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

تاہم کانفرنس میں شرکت کے بعد اتوار کی شام وطن واپس پہنچنے پر پاکستانی مشیرخارجہ سرتاج عزیز نے اس تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان باہمی معاملات کو کثیر الجہتی معاملات سے مدغم نہیں کرے گا اور کانفرنس میں شرکت کا فیصلہ درست تھا جسے دیگر شرکا نے سراہا۔

"اگر میں نہ جاتا تو کہا جاتا کہ دیکھا سارک سے بھی نکال دیا یہاں سے بھی نکال دیا تو الٹا اثر ہوتا۔ میں جس سے بھی ملا اس نے سراہا کہ آپ نے اچھا کیا کہ آپ آئے۔"

بھارت نے گزشتہ ماہ اسلام آباد میں ہونے والے سارک سربراہ اجلاس میں شرکت سے انکار کر دیا تھا جس کے بعد افغانستان اور بعض دیگر رکن ممالک نے بھی شرکت سے معذوری ظاہر کی تھی۔ اس بنا پر یہ کانفرنس منعقد نہیں ہو سکی اور اسے ملتوی کر دیا گیا۔

حزب مخالف کی دوسری بڑی جماعت پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے پاکستانی مشیر خارجہ پر خاصی تنقید کی گئی اور جماعت کی ایک مرکزی رہنما شیریں مزاری کے مطابق پاکستان کو اس میں شرکت ہی نہیں کرنی چاہیے تھی۔

پاکستانی ذرائع ابلاغ تک رسائی نہ ملنے پر سرتاج عزیز نے کہا کہ یہ ان کے لیے بھی ایک عجیب صورتحال تھی۔

سرتاج عزیز نے افغان صدر اشرف غنی کی طرف سے کانفرنس میں خطاب کے دوران دہشت گردی کے معاملے پر پاکستان کو تنقید کا نشانہ بنائے جانے پر کہا کہ یہ بظاہر بھارت کے دباؤ میں دیا گیا بیان تھا لیکن ان کے بقول بھارت کی طرف سے افغانستان اور پاکستان کے درمیان تقسیم پیدا کرنے کی کوشش زیادہ دیر تک نہیں چل سکے گی۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جو کوششیں شروع کر رکھی ہیں ان کا اعتراف بین الاقوامی سطح پر بھی کیا جا رہا ہے اور کانفرنس میں بھی چین اور روس کے نمائندوں نے اس ضمن میں پاکستان کے موقف کی تائید کی۔

یہ کانفرنس افغانستان میں امن و استحکام کے لیے خطے کے ممالک کے درمیان کوششوں کو مربوط بنانے اور اس ضمن میں لائحہ عمل پر تبادلہ خیال کے لیے ہر سال منعقد کی جاتی ہے۔

امرتسر میں ہونے والی کانفرنس میں دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کوششوں کے ذریعے افغانستان میں سیاسی و اقتصادی بہتری کے لیے کام کرنے پر اتفاق کیا گیا۔

XS
SM
MD
LG